نظم اور توازن کے بغیر اس معاشرے کی سب سے چھوٹی اکائی یعنی خاندان کا نظام چلانا بھی ممکن نہیں ہوتا ہر آن تغیر پذیر کائنات تو بڑی وسیع و عریض...
نظم اور توازن کے بغیر اس معاشرے کی سب سے چھوٹی اکائی یعنی خاندان کا نظام چلانا بھی ممکن نہیں ہوتا ہر آن تغیر پذیر کائنات تو بڑی وسیع و عریض چیز ہے اور انسانی عقل و شعور اس کی حد بندی سے بھی قاصر ہیں۔ نظم و توازن کے بغیر ماہ و نجوم اور سیارگانِ فلکی کی گردش اور پھر مسلسل ربط،عظیم کائناتی ضوابط کی پابندی ہی سے ممکن ہے۔ یہ نظم توازن کائنات کا حسن بھی ہے اور یہی نظم اور توازن فرد کے اندر اور باہر کی دنیا کو بھی رعنائیوں کا مرقع بنا دیتا ہے۔
اسی طرح فطرت کے مقاصد کی نگہبانی اسی وقت ممکن ہو سکتی ہے جب تمام جاندار اور غیر جاندار مخلوقات اپنے خالق و مالک کے احکام کی پابندی کریں اس وسیع و عریض کائنات رنگ و بو کے سائنسی مطالعہ سے قدم قدم پر انکشافات کی نئی دنیائیں آباد نظر آتی ہیں اور اجرام فلکی سختی سے قوانین فطرت کی پابندی کرتے نظر آتے ہیں یہ انکشاف ذہن انسانی پر احکامات خداوندی کی پابندی کرتے نظر ہیں۔یہ انکشاف ذہین انسانی پر احکامات کے کئی بند دروازے کھولتا ہے کہ جب یہ غیرجاندار مخلوقات ستارے ،سیارے چاند، سورج اور کہکشائیں سب اپنے خالق کے احکام پر عمل پیرا ہیں تو انسان کیوں نہیں اپنے خالق کے احکام بجا لائے۔وہ تو اشرف المخلوقات ہے اور اسے تو اس کائنات کی تسخیر کی ترغیب بھی خدا خالق کائنات نے دی ہے۔
تسخیر کائنات کے اسی شعور سے جدید علوم جنم لیتے ہیں ذہنی اور فکری ارتقا کی منزلیں طے ہوتی ہیں اور قوانینِ فطرت کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔سائنسی طرز فکر اختیار کرنے کا ایک فائدہ یہ ہوا ہے کہ انسان فطرت سے متعلق علوم میں موقدور بھر دسترس رکھنے اورحقائق کو قوانین فطرت کی کسوٹی پر رکھ کر کسی حد تک ضمنی نتائج اخذ کرنے کے قابل ہو گیا ہے اور فرسودگی کالنگ رفتہ رفتہ اس کے ذہن سے اترنے لگا ہے لیکن اس کے برعکس وہ مافوق الفطرت واقعات کی ماہیت کو سمجھنے سے قاصر ہے۔
سائنسی علوم کی اقسام:
عالم اسلام کے نامور سائنسدان ابوالبرکات بغدادی (1065ء تا 1155ء) کا واضح کردہ سائنسی طریقہ کار مسلمانوں پر حاوی ہوجانے والی ناقابل بیان علمی پسماندگی کے بعد گزشتہ پانچ سال سے عالم مغرب کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے سائنٹفک اپروچ نے بنی انسان کو اپنی اپنی فیلڈ میں اپنی تحقیقات کی بنیاد کے طور پر حقیقت پسندانہ طرز عمل اپنانے کا شعور عطا کیا ہے۔ جدید مغربی سائنس کی تمام تحقیقات ان طبی اور حیاتیاتی علوم پر مشتمل ہیں جن کی کسی بھی حوالے سے بنی نوع انسان کو ضرورت ہے۔ وہ فطری علوم جو موجودہ سائنس کے زمرے میں آتے ہیں ان کا دائرہ کار کی باآسانی تفہیم کے لیے انہیں درج ذیل تین بنیادی اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
1)مادی علوم
2)حیاتیاتی علوم
3) نفسیاتی علوم
مادی علوم:
یہ کائنات ارض و سما مادے کی مختلف اشکال اور مادے کی رنگا رنگ صورت پذیری کا دلکش اور دلچسپ مرقع ہے۔ مادے کی دنیا سے تعلق رکھنے والے تمام علوم اسی ذیل میں آتے ہیں انہیں ہم غیر نامیاتی اشیاء کے علوم کا نام بھی دے سکتے ہیں مادی علوم میں علم طبیعیات ،علم ہیئت، علم تخلیقیات ،علم کونیات، علم جغرافیہ، علم کیمیاء، علم آثار قدیمہ، علم طبقات الارض، علم موسمیات،علم ہندسہ، فن تعمیر ،علم برقیات اور کمپیوٹر سائنسز وغیرہ قابل ذکر ہیں ان علوم کا دائرہ کار زندگی اور شعور دونوں سے قطع نظر محض غیر نامیاتی کائنات تک محدود ہے۔
حیاتیاتی علوم:
سائنسی علوم میں حیاتیاتی علوم کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔اس شعبہ میں زندگی اور اس کی نشوونما سے متعلق علوم شامل ہیں۔ ان علوم کے دائرہ کار میں تمام جاندار اشیاء آ جاتی ہیں۔ انسانی اور حیوانی زندگی، حشرات الارض، سمندری مخلوقات اور نباتات وغیرہ ان علوم کا موضوع ہیں۔ علم حیاتیات ،علم الجنین، علم حیوانات، علم تشریح الاعضاء، علم الطب ،علم الجراحت اور علم نباتیات وغیرہ اسی ذیل میں آتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ حیاتیاتی علوم فقط دنیوی زندگی سے بحث آتے ہیں لیکن انسان کی روحانی زندگی ان علوم کا موضوع ہی نہیں۔ اس لئے قبل از حیات اور بعد ممات کی زندگی سے ان علوم کو کوئی سروکار نہیں۔ یہ موضوعات ان حیاتیاتی علوم سے خارج ہونے ہیں۔
نفسیاتی علوم:
وہ علوم جو حیات انسانی کی شعوری رعایت سے تشکیل پاتے ہیں نفسیاتی علوم کہلاتے ہیں انہیں مجموعی طور پر سوشل سائنسز کا نام بھی دیا جاتا ہے یہ انسانی روائیوں سے بحث کرتے ہیں اور اس کی فکری اور نظری سمتوں کی وضاحت کرتے ہیں۔ نفسیاتی علوم کی مختلف شاخیں ہیں مثلا فلسفہ، اخلاقیات، نفسیات، صحافت ، قانون، زبان و ادب ،سیاسیات ،عمرانیات، تعلیم، معاشیات اور تمام فنون لطیفہ اسی زمرہ میں آتے ہیں۔ یہاں اس امر کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ یہ تمام علوم و فنون اور انسانی پر اور انسان کے طرز عمل پر براہ راست اثرانداز ناز ہو کر اس کی شخصیت اور کردار کو زنگ آلودہ کرتے ہیں، تاہم مذہب کے زمرے میں آنے والے تمام مافوق علوم تک کامل رسائی ان نفسیاتی علوم کے ذریعہ بھی ممکن نہیں۔
تبصرے