جدید سائنس کی سنگین خطا اور انسانی علوم کی بنیادی ضرورت

 آج کا ترقی یافتہ انسان خواہ اس کا تعلق کسی بھی براعظم سے ہو وہ شدید ذہنی الجھاؤ کا شکار ہے اندرونی خلفشار سے نے اس کی تخلیقی صلاحیتوں کو بر...

 آج کا ترقی یافتہ انسان خواہ اس کا تعلق کسی بھی براعظم سے ہو وہ شدید ذہنی الجھاؤ کا شکار ہے اندرونی خلفشار سے نے اس کی تخلیقی صلاحیتوں کو بری طرح متاثر کیا ہے اس کی بنیادی ضرورت یہ ہے کہ دور حاضر میں امامت علم کا فریضہ سرانجام دینے والے مغربی سکالرز نے اعتدال اور توازن کا دامن ہاتھ سے چھوڑ رکھا ہے مادّی اور حیاتیاتی علوم کی انتہاؤں کو چھونے کے ساتھ ساتھ نفسیاتی علوم پر کما حقہ توجہ نہیں دی جاسکی۔اس وقت صورت حال کچھ یوں ہے کہ ایک طرف تو انسان حیاتیاتی علوم میں درجہ کمال تک پہنچنے کے باعث پیچیدہ تر بیماریوں کے خلاف مسلسل جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں اور دوسری طرف جدید سائنس مادّی علوم کی رفعتوں کو چھو رہی ہے۔ یہاں ایک طرف سرجری میں بے پناہ ترقی کی گئی ہے اور نت نئی ادویات بیماریوں کے خلاف کمر بستہ ہیں وہاں دوسری طرف آسمان کی وسعتوں میں ستاروں پر کمندیں ڈالی جا رہی ہیں اور تسخیر کائنات کے عزم سے نکلنے والا انسان چاند پر اترنے کے بعد مریخ کے سفر کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ 

ایسے میں جب ہم اس ترقی یافتہ دور میں نفسیاتی علوم کی طرف ایک نگاہ سے دیکھتے ہیں تو مارے شرم کے نظر ٹک نہیں پاتی کہ اکثر مغربی سیاست دانوں اور ارباب دانش کی مخصوص ذہنیت کے سبب سے نفسیاتی علوم کا شعبہ پوری طرح پنپ نہیں سکا۔

 سوشل سائنسز نفس انسانی سے متعلقہ علوم پر مشتمل ہیں اور جن کا تعلق براہ راست انسان کی شعوری زندگی کے ساتھ ہے انہیں جان بوجھ کر پسماندہ رکھا گیا ہے اور اس ضمن میں کوئی قابل ذکر پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔ حیرت کن امر یہ ہے کہ موجودہ سائنس جس کی تمام تر ترقی انسانی کی بیداری کی مرہون منت ہے شعوری سائنسز اس درجہ بے اِعتنائی برتنے کی مرتکب ہو رہی ہے۔

 یہ امر ہمارے پیشِ نظر رہنا چاہئے کہ محض مادی اور حیاتیاتی علوم میں ترقی کے ذریعے انسانیت کی جمیع مسائل کا حل ممکن نہیں بلکہ اس کے ذہنی سکون اور اطمینان قلب کے لئے نفسیاتی سائنسز پر بھی بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

مغرب کا بے سکون معاشرہ گ گئ گئ بوشہ عافیت کی تلاش میں ہے آج کے انسان کے مضطرب روح سکون کی متلاشی ہے وہ جنسی بے راہ روی کا شکار ہے دجل ،جھو ٹ فریب اس کی گھٹی میں پڑے ہوئے ہیں اس کے نفسیاتی مسائل نے اسے مفادات کا قیدی بنا دیا ہے اخلاقی طور پر دیوالیہ پن کا شکار ہے۔

مغرب میں اپنی مکمل تباہی کے بعد اب مشرق میں بھی معاشرے کی بنیادی اکائی یعنی خاندان کا شیرازہ بکھرنے شروع ہو چکا ہے۔انسانی  معاشرے قوت برداشت سے محروم ہو چکے ہیں معاشرے معاشروں پر جنگیں مسلط کر رہے ہیں اوراس آفاقی معاشرے کا فرد بے جہت منزلوں کی طرف سفر  رواں ہے۔مقصدیت نام کی کسی چیز کا اس کی زندگی میں عمل دخل نہیں رہا۔ وہ مکمل تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے ثقافتی بحران کے سنگینی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ وہ اپنے روایات سے انحراف کا مرتکب ہورہا ہے اگر مغربی سائنسدان اور ارباب علم و دانش سوشل سائنسز پر بھی مناسب توجہ دیتے اور محض مادی ترقی کو ہی انسان کی فلاح کا ضامن نہ ٹھہراتے تو آج انسان کی سوچوں کے اندر ایک ٹھہراؤ اور وقار ہوتا انسانی معاشرہ یوں حیوانی معاشرے کے قریب تر ہو کر اپنی اعلیٰ اخلاقی روایات سے یکسر محرومی کی راہ پر گامزن نہ ہوتا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ مادّی اور حیاتیاتی علوم کے ساتھ سات سوشل سائنسز کو بھی بھرپور توجہ کا مستحق سمجھا جائے اور انسان کو ذہنی خلفشار اور فکری پرا گندگی سے نجات دلاکر اور اسے مقصد زندگی کی بے انت لذتوں سے ہمکنار کیا جائے۔ جب تک تمام مادّی، حیاتیاتی اور نفسیاتی علوم میں فکری روابط کو مضبوط نہیں بنایا جاتا اس وقت تک معاشرے معاشروں کے خلاف جنگیں برپا کرتے رہیں گے اور نسل انسانی کی وحدت اور یگانگت کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ شعوری سائنسز یا نفسیاتی علوم ذہنِ انسانی سے براہ راست تعلق کی وجہ سے روحانی علوم یعنی مافوق الفطرت علوم کسی حد تک چلے آتے ہیں اور ان تک رسائی میں قررے معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

انسانی علوم کی بنیادی ضرورت:

ساری باعث سے ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ انسانی سوچ کبھی بھی حرف آخر نہیں ہوتی ذہنی ارتقاء فکری بالیدگی کائناتی سچائیوں کے اِدراک اور خلافِ عقل واقعات کے ظہور سے بشری علوم میں ترمیم ،اضافہ اور اصطلاح کی گنجائش بہرحال موجود رہتی ہے۔ انسانی علوم اور نظریات حالات و واقعات اور سائنسی انکشافات کی روشنی میں یکسر مسترد بھی ہو سکتے ہیں اس لئے کہ علوم بشری کی وحی، الٰہی سے مطابقت ناپید ہوتی ہے اور یہ مطابقت علومِ بشری کی بنیاد بھی ضرورت ہے انسانی استعداد پر انحصار کرنے والے تمام علوم میں ہم آہنگی اور اِرتباط کی صرف ایک ہی صورت ہے اور وہ ہے وہ وحی، الہی سے مطابقت۔
وحی الہی کی آخری اور حتمی صورت اسلام کے دامن رحمت میں موجود ہے اور صحیفہ انقلاب کی صورت میں  ہے حرف بحرف محفوظ ہے۔ قرآن مجید کو اگر تمام سائنسی علوم کی بنیاد قرار دے کر اور اس کی ایک ایک آیت کو رہنما اصول کا درجہ مان کر اگر تمام سائنسی علوم کا ڈھانچا استوار کیا جائے تو یقینا تمام سائنسی علوم میں ہم آہنگی اور اِرتباط بھی پیدا ہوگا اور یہ ایک ہی اکائی کو مکمل کرتے نظر آئیں گے قرآن مجید کے انوار و تجلیات سے اکتساب نور کرنے والے یہ تمام علوم کامیاب حیات زندگی کے لیے ایک ہی ظابطہ اور لائحہ عمل اور مرتب کرتے دکھائی دیں گے۔
ایس ضمن میں خاص طور پر قابل توجہ بات یہ ہے کہ مادی علوم اور ان کی مختلف شاخیں فقط تحقیق و جستجو کی بدولت خود بخود لا شعوری طور پر قرآنی علوم سے مطابقت اختیار کرتی چلی جارہی ہے اور قدم قدم پر آسمانی  ہدایت کے ایک ایک لفظ کی توثیق ہو رہی ہے لہٰذا شعوری سائنسز کو بھی وحدت نتائج کے گوہر مراد کے حصول کے لیے مادی علوم کی اتباع میں قرآنی علوم کی مطابقت اختیار کرنا ہوگی اگر دور حاضر کے فلاسفرز اور دانشوران علوم شعوری سائنسز کو بھی باقی علوم کی طرح جگر سوزی کے ساتھ پروان چڑھائیں تو کچھ بعید نہیں کہ شعوری سائنسز بھی مادی و حیاتیاتی علوم کی طرح بنی نوع انسان کو الہامی علوم یعنی مافوق الفطرت علوم کی صداقت کی طرف لے آئیں۔

تبصرے

نام

اسلامی تاریخ,10,تاریخی کتب,1,حقوق و فرائض,6,سیرت و فضائل,23,شیعہ عقائد,7,فقہی مسائل,10,کتب,1,Nohay,5,Nohay 2020,5,
rtl
item
فقہ جعفریہ: جدید سائنس کی سنگین خطا اور انسانی علوم کی بنیادی ضرورت
جدید سائنس کی سنگین خطا اور انسانی علوم کی بنیادی ضرورت
فقہ جعفریہ
https://fiqahjafria.blogspot.com/2020/08/blog-post_8.html
https://fiqahjafria.blogspot.com/
https://fiqahjafria.blogspot.com/
https://fiqahjafria.blogspot.com/2020/08/blog-post_8.html
true
3345343407563367532
UTF-8
تمام تحریریں دیکھیں کسی تحریر میں موجود نہیں مزید تحریریں مزید پڑھیں Reply Cancel reply Delete By مرکزی صفحہ صفحات تحریرں View All مزید تحریریں عنوان ARCHIVE تلاش تمام تحریرں Not found any post match with your request واپس مرکزی صفحہ پر جائیں شئیر Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS PREMIUM CONTENT IS LOCKED STEP 1: Share to a social network STEP 2: Click the link on your social network Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy