نظام شمسی پر تحقیقات

 اس کرہ ارضی پر انسانی زندگی کے آغاز ہی سے نظام شمسی انسان کی نگاہوں کا مرکز بنا رہا ہے اور اس کی جستجو کو امکانات کی نت نئی دنیاؤں کی طرف ر...

 اس کرہ ارضی پر انسانی زندگی کے آغاز ہی سے نظام شمسی انسان کی نگاہوں کا مرکز بنا رہا ہے اور اس کی جستجو کو امکانات کی نت نئی دنیاؤں کی طرف راغب کرتا آرہا ہے۔تاریخ ارتقائے تہذیب نسل انسانی کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم دور کا انسان آج کے ترقی یافتہ انسان کی طرح اجرام سماوی کی کرید میں خصوصی دلچسپی لیتا رہا ہے۔ذیل میں ہم نظام شمسی سے متعلقہ سائنسی تحقیقات کے مختلف ادوار میں پنپنے والے افکار و نظریات کا جائزہ لیتے ہیں۔

(1) بنی نوع انسان کا اولین نظریہ:

تاریخ انسانی کے مطابق تہذیب انسانی ابتدا دجلہ اور فرات کے دوآبے اور مصر میں پروان چڑھی۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قدیم انسانی معاشروں کے لوگ مظاہر فطرت کے پرستش کرتے تھے ان میں سمیری ،کلدانی، بابلی اور مصری حکومت کا ذکر ملتا ہے وہ لوگ سورج اور چاند، ستاروں کی حرکات پر غور کرتے ، ان کے طلوع و غروب کا مشاہدہ کرتے اور جب ان کی عقل اس سارے نظام فطرت کو سمجھنے سے عاجز آجاتی تو وہ انہی مظاہر فطرت کو دیوتا کا درجہ دے کر ان کی پوجا کرتے۔ ان قدیم اقوام کا نظریہ تھا کہ زمین ساکن ہے جبکہ تمام اجرام سماوی زمین کے گرد گردش کرتے ہیں سورج کے طلوع و غروب سے سادہ ذہین یہی نتیجہ اخذ کر سکتا ہے کہ سورج کی زمین کے گرد گردش سے دن رات پیدا ہوتے ہیں۔

(2) فیثاغورث کا نظریہ:

فیثاغورث وہ پہلا شخص ہے جس نے یہ نظریہ قائم کیا کہ سورج ساکن ہے جب کہ زمین سورج کے گرد حرکت کرتی ہے یونان میں اپنی قائم کردہ اکیڈمی میں وہ اپنے شاگردوں کو سکون شمس اور حرکت زمین کے اسی نظریے کی تعلیم دیا کرتا تھا تقریبا سو سال تک اس کے شاگرد اور پیروکار اسی نظریے پر کاربند رہے جس کے بعد رفتہ رفتہ یہ نظریہ تاریخ کے جھروکوں میں کھو گیا۔

(3) بطلیموس کا نظریہ:

فیثاغورث کے بعد میں بطلیموس نے دوبارہ زمین کے ساکن ہونے اور اجرام فلکی کے اس کے محوری گردش ہونے کا نظریہ پیش کیا اسے پورے یونان میں زبردست پزیرائی حاصل ہوئی اورزمین کے ساکن ہونے کے نظریے کو من و عن تسلیم کرلیا گیا۔ درحقیقت یہ کوئی نیا نظریہ نہ تھا بطلیموس نے ارسطو کے نظریہ کو فروغ دیا تھا۔ بطلیموس نے اس نظریے کی وسیع پیمانے پر تشہیر کی اور زمین کے گرد سیارگان فلکی کی گردش سے لوگوں کو عملی سطح پر روشناس کرایا،اسی وجہ سے یہ نظریہ بطلیموس کے نام سے مشہور ہوتا چلا گیا۔
اس نظریہ میں زمین کے گرد واقع بڑے ماداروں ، ان دیکھی طاقت کے گرد چھوٹے مداروں اور سیاروں کی حرکات میں باہم نسبت کی صحیح پیمائش کے دوران بہت سے بے قاعدگیاں سامنے آئیں تاکہ یہ نظریہ سولہویں صدی عیسوی تک یورپ میں خاصا مقبول رہا اور عیسائی مذہب کے حصے کے طور پر متعارف رہا۔

(4) زرقالی کا نظریہ:

اسلام ہر شعبہ زندگی میں انقلاب آفریں تبدیلیوں کا پیامبر بنا ۔فاران کی چوٹیوں پر نورہدایت چمکا تو فرسودگی کا نشان مٹ گیا سوچ اور اظہار کے نئے نئے دروازے وا ہوئے فرد کی اندر کی کائنات آنفس کے ساتھ فرد کے خارج کی دنیا آفاق کی تسخیر کا آغاز بھی ہوا۔ خود اللہ کی آخری کتاب سائنسی حوالوں کی معتبر ترین دستاویز ہے مسلمان سائنسدانوں نے علوم جدیدہ کی بنیاد رکھتے ہوئے سینٹیفک سوچ کے دروازوں پر پڑے قفل توڑے اور ذہن جدید کو کشادگی اور وسعت کے جوہر سے آراستہ کیا۔ اسلامی اندلس کے نامور سائنسدان ابو اسحاق ابراہیم بن یحییٰ زرقالی قرطبی نے بطلیموس کے مذکورہ بالا نظریے کا مضبوط دلائل اور مصدقہ شواہد کے ساتھ رد کر کے دنیا کع ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ بطلیموسی نظام  تقریباایک ہزار سال سے مسلمہ حقائق کے طور پر پوری دنیا میں تسلیم کیا جا رہا تھا صدیوں سے ذہن میں راسخ غلط نظریات کو یکسر بدل کر رکھ دینا یقیناً ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔
زرقالی نے 1080ء میں سورج اور زمین دونوں کے محو حرکت ہونے کا نظریہ پیش کیا اس تھیوری کے مطابق سورج اور زمین دونوں میں سے کوئی بھی مرکز کائنات نہیں اور دنیا سمیت تمام سیارے سورج کے گرد چکر لگا رہے ہیں۔ اس نظریے میں بعد میں آنے والے کوپرنکس کے نظریہ کی طرح گنجلک پن بھی نہیں ہے۔ زرقالی کے نزدیک سورج کے گرد تمام سیارے بیضوی مدار میں گردش کرتے ہیں۔

(5) کوپرنیکس کا نظریہ:

کوپرنیکس زرخیز زمین کا مالک انسان تھا اس نے سولہویں صدی کی آغاز میں بطلیموس نظرئیے کی خرافات پر سے پردہ اٹھایا اور اہل یورپ کو اس نظریے کی فرسودگی سے آگاہ کیا اور حرکت زمین کا نظریہ پیش کرتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ اس کرہ ارضی سمیت تمام سیارے سورج کے گرد چکر لگا رہے ہیں۔کوپرنکس کے ان سائنسی انکشافات کے بعد اہل یورپ کی سوچ کے جامد سمندر میں ارتعاش پیدا ہوا اور ذہین جدید کے قفل ٹوٹنے لگے اور مغربی دنیا اسے آسانی سے اپنی سوچ کا محور نہیں بنا سکتی تھی۔ بطلیموسی نظریئے سے سرمو انحراف بھیعیسائی دنیا کے لیے ممکن نہ تھا کیونکہ وہ اسے اپنے مذہب کا لازمی جزو قرار دے چکے تھے اور مذہبی عقائد سے  انحراف کا راستہ نکالنا اس وقت ناممکن تھا۔

(6) ٹیکو براہی کا نظریہ:

سولہویں صدی کے آخر میں ٹیکو براہی نامی سائنسدان نے کوپرنیکس کے نظریئے کو مسترد کرتے ہوئے ایک عجیب و غریب تھیوری پیش کی اس کے مطابق سورج اور چاند زمین کے گرد گردش ہیں۔ جبکہ باقی پانچوں سیارے سورج کے گرد چکر لگا رہے ہیں ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ سورج اپنے گرد گھومنے والے پانچ سیاروں سمیت زمین کے گرد گردش کرتا ہے اس تھیوری نے سائنسدانوں کو ایک مشکل اور پیچیدہ صورتحال سے دوچار کر دیا۔ بہرحال کوپرنیکس کا نظریہ سائنس کی دنیا میں ان عجیب و غریب نئے افکار کی مٹی میں دفن ہو کر رہ گیا اور سولہویں صدی کےاختتام تک مغربی سائنس کی تحقیقات ایک بار پھر خطا کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے دکھائی دینے لگیں۔
ٹیکو براہی کے پیش کردہ اس نظریے میں بطلیموس اور کوپرنیکس کے نظریات کا یہ بے تکا اجتماع نا قابل یقین حد تک مبہم تھا، تاہم بعد میں آنے والوں کی سوچ کی تحقیق و جستجو کے چراغوں سے منور ہوتی رہیں اور کیپلر تک آتے آتے حقیقت تک رسائی آسان ہوتی گئی اور راستے کے پتھر خود بخود ہٹتے رہے۔

(7) گیلیلیو کا نظریہ:

سائنسی حقائق کی تلاش کا سفر جاری رہا جستجو اور تحقیق کے دروازے کھلے رہے تازہ ہوائیں ذہین انسانی کو کشادگی عطا کرتی رہیں۔ اٹلی کے مشہور زمانہ ہیبت دان گلیلیو نے 1609ء میں دور بین ایجاد کرنے کے بعد جب کائنات کا مشاہدہ کیا تو اسے کائنات میں عجائبات کی ایک دنیا آباد نظر آئی۔ ماضی کے تمام نظریات ایک ایک کر کے باطل ہونے لگے۔ ٹیکو برا ہی کا کیا دھرا بھی غلط قرار پایا اور یوں کوپرنیکس کا نظریہ حرکت ایک بار پھر سائنس دانوں کی توجہ کا مرکز بن گیا اور اس حوالے سے تجربات و انکشافات کی ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔

(8)کیپلر کا نظریہ:

گلیلیو کی توثیق کے بعد جو ہانز کیپلر نے ٹیکو برا ہی کی دیگر دریافتوں اور رصدگاہی آلات کی مدد سے نئے سرے سے تحقیقات کے بعد کوپرنیکس کے نظریئے کو علمی اور تجرباتی سطح پر دوبارہ زندہ کیا۔ واضح رہے کہ کوپرنکس کے نظریئے میں سورج کے گرد تمام سیاروں کے مداروں کو گول دکھایا گیا تھا۔ کیپلر نے اس نظریے کو رد کرتے ہوئے کہا کہ یہ مدار بیضوی ہیں اور یوں کوپرنیکس کی تھیوری میں واقع سقم کو دور کیا۔ اس سقم کی وجہ سے یہ نظریہ ایک عرصہ تک نظرانداز کیا جاتا رہا تھا۔ اس سقم کے دور ہوتے ہی اسے دوبارہ پذیرائی نصیب ہوئی۔ یہ بالکل وہی نظریہ ہے جو 1080ء میں قرطبہ کے مسلمان سائنسدان زرقالی نے پیش کیا تھا۔

(9) نیوٹن کا نظریہ:

انسان تسخیر کائنات کی راہوں پر گامزن رہا ہے قدم قدم پر نئے نئے انکشاف منظر عام پر آتے رہے، سترہویں صدی کے وسط میں سر آئزک نیوٹن نے یہ نظریہ پیش کیا کہ سورج ساکن ہے اور تمام سیارے سورج کے گرد چکر لگا رہے ہیں۔ نیوٹن نے باقی ساری کائنات کو بھی مجموعی طور پر ناقابل تبدیل قرار دیا۔

(10) آئن سٹائن کا نظریہ:

افکار و نظریات میں تبدیلیاں رونما ہوتی رہیں سفر ارتقا کے کئی مزید مرحل طے ہو چکے تھے۔ بیسویں صدی کی نت نئی ایجادات کی صدی ہے۔اسی صدی کی مشہور زمانہ یہودی النسل سائنسدان البرٹ آئن سٹائن نے برسوں کی تحقیق اور عرق ریزی کے بعد اپنا نظریہ اضافیت پیش کیا۔ اس کی رو سے تمام اجرام سماوی خواہ وہ ستارے ہوں یا سیارے گردش میں ہیں۔ علمی حلقوں نے اس نظریے کو سند قبولیت عطا کی اور یوں مسلم سائنسدان زرقالی کی پیش کردہ نظریاتی بنیادیں نکھر کر سامنے آگئیں۔ آئن سٹائن کا نظریہ حقیقت کے قریب ترین ہے۔اس نظریے میں بھی جزوی طور پر کئی ایک اصطلاحات اور تبدیلیاں ممکن ہیں۔کیونکہ انسانی کاوش حرف آخر نہیں ہوتی،اس میں اصلاح و ترمیم اور اضافے کی گنجائش بہرحال موجود رہتی ہے۔

تبصرے

نام

اسلامی تاریخ,10,تاریخی کتب,1,حقوق و فرائض,6,سیرت و فضائل,23,شیعہ عقائد,7,فقہی مسائل,10,کتب,1,Nohay,5,Nohay 2020,5,
rtl
item
فقہ جعفریہ: نظام شمسی پر تحقیقات
نظام شمسی پر تحقیقات
فقہ جعفریہ
https://fiqahjafria.blogspot.com/2020/08/blog-post_7.html
https://fiqahjafria.blogspot.com/
https://fiqahjafria.blogspot.com/
https://fiqahjafria.blogspot.com/2020/08/blog-post_7.html
true
3345343407563367532
UTF-8
تمام تحریریں دیکھیں کسی تحریر میں موجود نہیں مزید تحریریں مزید پڑھیں Reply Cancel reply Delete By مرکزی صفحہ صفحات تحریرں View All مزید تحریریں عنوان ARCHIVE تلاش تمام تحریرں Not found any post match with your request واپس مرکزی صفحہ پر جائیں شئیر Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS PREMIUM CONTENT IS LOCKED STEP 1: Share to a social network STEP 2: Click the link on your social network Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy