امام مہدی علیہ السلام جن کے بارے میں قرآن اور ورثاۓ قرآن نے بشارت دی ہے ان کی ولادت ہوئی ہے یا نہیں؟؟ اس بابت میں شدید قسم کا اختلاف پایا جا...
امام مہدی علیہ السلام جن کے بارے میں قرآن اور ورثاۓ قرآن نے بشارت دی ہے ان کی ولادت ہوئی ہے یا نہیں؟؟ اس بابت میں شدید قسم کا اختلاف پایا جاتا ہے اور حقیقت کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن جب تک مذہب اہل بیت علیہ السلام کے پیروکار موجود ہیں ہم ادلہ کافیہ اور براہین قاطعہ سے اس امر کو ثابت کرتے رہیں گے اور اس کے متعلق عقلی دلائل بھی پیش کریں گے اور فیصلہ انصاف پسند قارئین پر چھوڑ دیں گے اور راہ ہدایت دکھانے والی ہستی صرف اللہ کی ذات ہے۔
ہر شخص جو رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ائمہ اہل بیت علیہ السلام کی امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں صحیح اور متواتر احادیث پر ایمان رکھتا ہے اس پر واجب ہے کہ وہ امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کا اعتراف کرے اور اس پر ایمان رکھے کیونکہ یہ محال عقلی ہے کہ اس بابت متواتر اور صحیح روایات ہوں کہ وہ صلب امام حسین علیہ السلام سے نویں بیٹے ہوں گے اور امام مہدی علیہ السلام کی ولادت نہ ہوئی ہو۔تفصیل ذیل میں پیش کی جا رہی ہے۔
بیشک رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ائمہ علیہ السلام کے اس بارے میں احادیث اس کی صراحت کرتی ہیں کہ وہ امام حسین علیہ السلام کے نویں بیٹے ہوں گے اس کا مطلب یہ ہے کہ امام زین العابدین علی بن الحسین علیہ السلام امام حسین علیہ السلام کے پہلے بیٹے، امام محمد باقر دوسرے بیٹے یعنی ان کی بیٹے کی اولاد بھی ان کی اولاد ہوگی۔۔۔۔۔ اسی طرح امام حسن عسکری علیہ السلام آپ علیہ السلام کے آٹھویں بیٹے اور امام مہدی علیہ السلام آپ علیہ السلام کے نویں بیٹے ہیں۔
یہ بات بھی ثابت ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام زہرسے شہیدکردئیے گئے ہیں اور آپ علیہ السلام کی تشبیع جنازہ میں ہزاروں لوگ حاضر تھے اور لوگوں کے سامنے آپ علیہ السلام کو دفن کیا گیا اب اس کی گنجائش نہیں کیا امام مہدی علیہ السلام پیدا ہوئے ہیں یا نہیں کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ان کے والد بزرگوار اس دنیا سے چلے جائیں اور وہ موجود نہ ہوئے اس بات کا قائل ہونا پڑے گا آپ علیہ السلام اپنے والد بزرگوار کی زندگی میں ہی پیدا ہو چکے تھے جو کہ صحیح طور پر ثابت ہے یا ابھی بطن مادر میں تھے اور اپنے بابا کی وفات کے بعد پیدا ہوئے کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ بندہ اس دنیا سے چلا جائے اور کئی برسوں کے بعد اس کے سلب سے بیٹا پیدا ہو۔
اب اس میں کوئی شک نہیں کہ امام مہدی علیہ السلام کی ولادت ہو چکی ہے وہ زندہ ہیں وہ ظہور سے پہلے اس دنیا کو نہیں چھوڑیں گے اور ابھی تک تو ان کا ظہور نہیں ہوا کیونکہ وہ تو ظاہر ہو کر زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ جیسا کہ اس بارے میں سینکڑوں احادیث میں صراحت کی ہے اور یہ تو واضح ہے کہ زمین میں ظلم و جور پھیل چکا ہے میں یہ نہیں کہہ رہی کہ زمین ظلم و جور سے بھر چکی ہے کیونکہ جب ایسا ہو جائے گا تو پھر حتمی طور پر امام مہدی علیہ السلام ظہور فرمائیں گے۔
اس مقدمہ کے بعد ہم کہتے ہیں کہ جو احادیث امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کے بارے میں بتاتی ہیں وہ تو اتنا زیادہ ہے کہ ان کو شمار کرنا بھی مشکل ہے اور یہ احادیث شیعہ سنی دونوں کی کتب موجود ہیں شیعہ حضرات تو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جس طرح رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح امام مہدی علیہ السلام کی ولادت بھی ہوچکی ہے اس بارے میں ان کو کسی قسم کا شک نہیں۔ چودہ سو سال سے شیعہ اپنے ملکوں اور شہروں محلّوں میں 15 شعبان المعظم کو محفلیں اور جشنِ مناتے آ رہے ہیں ہزاروں محفلیں مساجد میں وہ منعقد ہوتی رہی ہیں۔مدارس علمیہ اور علماء و عوام کے گھروں میں پررونق اجتماعات ہوتے آرہے ہیں۔لوگوں میں مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں امام علیہ السلام کی مناسبت سے قصیدے پڑھے جاتے ہیں اور خطیب حضرات امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں پرجوش خطبات دیتے آرہے ہیں۔
شیعہ احادیث ارد دوسری کتابیں، ولادت امام مہدی علیہ السلام کو امور قطعیہ میں سے شمار کرتے آرہے ہیں اس بارے میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں کرتے اور اہل سنت کی کتابوں میں بھی امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کے بارے میں کثیر تعداد میں روایات موجود ہیں اور وہ ان کے اکابر علماء و محدثین کے نزدیک ثابت ہیں۔ ذیل میں چند بزرگوں کے اقوال دیئے گئے ہیں۔
علمائے اہل سنت اور اعتراف ولادت امام مہدی علیہ السلام:
شیخ نجم الدین عسکری مرحوم نے اپنی کتاب المھدی المنتظر کے پہلے حصے میں چالیس علماء کے نام درج کئے ہیں جنہوں نے امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کا اعتراف کیا ہے۔
محمد آمین بغدادی السویدی اپنی کتاب سبائک الذہب میں لکھتے ہیں محمد مہدی علیہ السلام آپ علیہ السلام کی عمر آپ علیہ السلام کے بابا علیہ السلام کی وفات کے وقت پانچ سال تھی۔
مورخ ابن الوردی اپنی کتاب تاریخ میں لکھتے ہیں کہ محمد بن الحسین علیہ السلام الخالص 255 ھ کو پیدا ہوئے۔
ابن خلکان وفیات الاعیان میں لکھتے ہیں کہ امام مہدی علیہ السلام کی ولادت 15 شعبان 255 ہوئی آپ علیہ السلام کے والد کی وفات کے بعد آپ علیہ السلام کی عمر پانچ سال تھی اور آپ علیہ السلام کے والدہ کا نام نرجس تھا۔
قرآن مجید میں امام مہدی علیہ السلام کے متعلق بشارتیں:
قرآنی آیت جس کا ترجمہ یہ ہے:
(1)"اور ہم تو یہ چاہتے تھے کہ جو لوگ روئے زمین پر کمزور کردیئے گئے ہیں ان پر احسان کریں اور ان ہی کو لوگوں کا پیشوا بنائیں اور انھیں کو اس سر زمین کا وارث بنائیں اور انھیں زمین میں پوری قدرت عطا کریں اور فرعون اور ہامان کے لشکروں کو ان میں کمزوروں کے ہاتھ سے وہ چیزیں دکھائیں جس سے یہ لوگ ڈرتے تھے۔"
(سورۃ قصص آیت 5_6)
(2)"خداوندمتعال نے ان لوگوں سے وعدہ فرمایا ہے کہ جو ایمان لائے اور نیک کام کیے وہ انہیں ضرور زمین پر خلافت عطا کرے گا جس طرح اس نے ان لوگوں سے پہلے لوگوں کو خلافت دی تھی اور ان کے لئے ان کے دین کو مستحکم کرے گا اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے اور جس نے اس کے بعد ناشکری کی تو یہی لوگ فاسق ہیں۔"
(سورۃ نور: آیت 55)
(3)"بالتحقیق ہم نے ذکر کی بعد زبور میں لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔"
(سورہ انبیاء: آیت 104)
(4)"وہی خدا ہے جس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھیجا ہدایت اور دین حق دے کر تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کرے ،خواہ مشرکوں کو یہ نا گوار ہی گزرے۔
(سورۃ توبہ: آیت 33)
احادیث کی روشنی میں امام مہدی علیہ السلام کے متعلق بشارتیں:
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
(1)"اگر دنیا کے ختم ہونے سے صرف ایک دن باقی رہ جائے گا تو خدا اس دن کو اتنا طویل کرے گا کہ اس دن میری عترت سے ایک فرد آئے گا جو میرا ہم نام ہوگا اور زمین کو عدل وانصاف سے ایسے بھر دے گا کہ جیسے وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔"
(تفسیر مجمع البیان،طبرسی، ج 7،ص 152)
(2)"مہدی علیہ السلام میرے فرزند ہیں ان کا چہرہ روشن ستارے کی طرح ہے ان کا رنگ اہل عرب کے رنگوں کی طرح ہے اور ان کا جسم اسرائیل والوں کی طرح ہے وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جیسے وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی اور ان کی خلافت کو آسمان والے اور فضا میں موجود پرندے تک پسند کریں گے اور وہ بیس سال حکومت فرمائیں گے۔
(المصدر: عقد الدرر)
امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے انہوں نے اپنے بابا سے انہوں نے امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(3)امام مہدی علیہ السلام میرے بیٹوں میں سے ہیں ان کے لیے زمانہ غیبت کا ہوگا اور ایسی حیرت ہوگی کہ امتیں اس میں گمراہ ہو جائیں گی وہ انبیاء علیہ السلام کے ذخائر تبرکات لے کر آئیں گے اور زمین کو عدل وانصاف سے یوں بھر دیں گے جیسے وہ ظلم سے بھر چکی ہو گی۔"
(فرائد السمطین)
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ علیہ السلام سے فرمایا:
(4)" جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔اس امت کے لیے ضروری مہدی علیہ السلام ضرور ایک مہدی علیہ السلام ہے اور خدا کی قسم! وہ تمہارے بیٹوں میں سے ہوگا۔"
بحارالانوار: ج 51، ص67)
(5)حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی ابن ابی طالب علیہ السلام میری امت کے امام ہے۔ میرے بعد میری امت پر میرے خلیفہ ہیں اور القائم المنتظر علیہ السلام اور ان کی اولاد میں سے ہیں کہ یہ زمین کو عدل و انصاف سے ایسے بھر دیں گے جیسے وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہو گی اور اس ذات کی قسم! جس نے مجھے حق کی بشارت دینے والا بنا کر بھیجا۔ ان کی غیبت کے زمانے میں جو لوگ ثابت قدم رہیں گے وہ کبریت احمر سے بھی کم ہوں گے۔ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری اٹھکر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹوں میں سے حضرت قائم علیہ السلام کے لیے زمانہ غیبت بھی ہے؟ تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، خدا کی قسم! ان کے لئے زمانہ غیبت ہے(تاکہ اللہ تعالی مومنوں کو خالص کر دے اور کافروں کو مٹا دے)۔
شیعہ احادیث اور دوسری کتابیں، ولادت امام مہدی علیہ السلام کو امور قطعیہ میں سے شمار کرتے آرہے ہیں اس بارے میں اہل سنت کی کتابوں میں بھی امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کے بارے میں کثیر تعداد میں روایات موجود ہیں اور وہ ان کے اکابرین علماء و محدثین کے نزدیک ثابت ہیں۔
تبصرے