مسئلہ امامت کی بنیاد اس کا وہی معنوی پہلو ہے۔ائمہ یعنی پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ایسے معنوی انسان جو انہیں معنوی طریقوں سے سلام ...
مسئلہ امامت کی بنیاد اس کا وہی معنوی پہلو ہے۔ائمہ یعنی پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ایسے معنوی انسان جو انہیں معنوی طریقوں سے سلام کی معرفت رکھتے ہیں اور اسے پہچانتے ہیں اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کے مانند خطاؤں، لغشوں اور گناہوں سے محفوظ و معصوم ہیں امام ایک ایسے قطعی و یقینی مرجع و مرکزی کی حیثیت رکھتا ہے کہ اس سے کوئی بات سنی جائے تو اس میں نہ کسی خطا یا لغزش کا احتمال دیا جاسکتا ہے نہ ہی اس سے جان بوجھ کر انحراف ہو سکتا ہے اور اس کو دوسرے الفاظ میں عصمت کہتے ہیں یعنی وہ منزل ہے جہاں شیعہ کہتے ہیں کہ پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
"الی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ و عترتی"
(صحیح مسلم جزء ھفتہ صفحہ 22)
ترجمہ:
"میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک قرآن ہے اور دوسری میری عترت۔"
یہ حدیث مسئلہ عصمت میں نص کی حیثیت رکھتی ہے اور جہاں تک یہ سوال ہے کہ آیا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات کہی یا نہیں؟؟ کوئی شخص پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے انکار نہیں کر سکتا یہ ایسی حدیث نہیں ہے جسے صرف شیعوں نے نقل کیا ہے بلکہ شیعوں سے زیادہ اہل سنت نے اپنے مقالہ میں اس حدیث کو یوں نقل کیا تھا:
"انی تارک فیکم ثقلین کتاب اللہ و سنتی"
مرحوم آیت اللہ بروجردی جو واقعات تمام معنی میں عالم روحانی تھے اور ان مسائل میں علاقلانہ فکر اور گہری بصیرت رکھتے تھے آپ نے ایک فاضل طالب علم آقا شیخ قوام الدین و شنوہ کی رہنمائی اس امر کی طرف فرمائی کہ مذکورہ حدیث کو اہل سنت کی کتابوں سے نقل کریں۔یہ بزرگ بھی کتابوں پر گہری نظر رکھتے تھے اہل سنت کو تقریباً دو سو سے زیادہ معتبر اور قابل اعتماد کتابوں سے ایسی حدیث کو ان الفاظ میں نقل فرمایا "انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ و عترتی"
یہ حدیث متعدد مقامات پر نقل ہوئی ہے کیونکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مختلف موقعوں اور متعدد جگہوں پر انہی الفاظ میں ارشاد فرمایا ہے البتہ کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ بھی یہ نہ فرمایا ہو گا کہ میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں "کتاب و سنت" کیونکہ قرآن و عترت" اور "کتاب و سنت" میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔اس لیے کہ عترت ہی سنت کو بیان کرنے والی اور اس کی وضاحت کرنے والی ہے۔ بات یہ نہیں ہے کہ ہم سنت و عترت میں سے کس کی طرف رجوع کریں۔ایک طرف پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت یعنی حدیث ہو اور ایک طرف عترت کا ایک فرد موجود ہو تو اس صورت میں کسے انتخاب کرے! بلکہ بات یہ ہے کہ عترت کی سنت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحیح اور واقعی وضاحت کرنے والی ہے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام سنتیں انہی کے پاس محفوظ ہیں۔"کتاب اللہ و عترتی" کا مطلب یہ ہے کہ ہماری سنت کو ہماری عترت سے حاصل کرو اس کے علاوہ خود یہ حدیث "انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ و عترتی" سنت ہے یعنی حدیث پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔
لہذا ان دونوں میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے پھر بھی اگر کسی ایک جگہ وہ غیر قطی طور پر۔پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے "کتاب وہ سنتی" فرمایا ہوگا تو بہت سی جگہوں پر قطی طور پر "کتاب اللہ و عترتی" فرمایا ہے۔ اگر کسی ایک کتاب میں حدیث اس شکل میں ذکر ہوئی ہے تو کم از کم دو سو کتابوں میں یہ حدیث" کتاب اللہ و عترتی" کے ساتھ ذکر ہوئی ہے۔
بہرحال شیخ قوام الدین و شنوہای نے وہ تمام حوالے ایک رسالے کی شکل میں تحریر فرماۓ اسے دارالتقریب مصر" بھیجا ہے ادارہ دار التقریب نے بھی اسے کم و کاست چھاپ دیا کیوں کہ اسے کسی طرح رد نہیں کیا جا سکتا تھا اب اسے محروم آیت اللہ بروجردی بھی دوسروں کی طرح صرف شورو غوغا اور فریاد بلند کرتے اور فرماتے یہ غلط اور بکواس کرتے ہیں۔حق اہل بیت سے کھیلنا چاہتے ہیں ہمیشہ بدنیتی سے کام لیتے ہیں؟؟ اب دیکھیں کہ امامت کی اصل روح کیا ہے اسلام جو ایک جامع،وسیع و ہمہ گیر اور کلی دین ہے،کیا اسی قدر ہے جتنا قرآن میں اصول و کلیات کے طور پر بیان ہوا ہے یا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلمات میں جنہیں خود اہل سنت نے بھی نقل کیا ہے اس کی توضیح وتفسیر بیان ہوئی ہے؟ کیا جو کچھ تھا یہی اسلام تھا؟؟ یقیناً اسلام کا نزول پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہو چکا لیکن جو کچھ بیان ہوا کیا یہی کامل اسلام تھا؟؟ یعنی تمام نازل شدہ اسلام بیان بھی ہو چکا؟؟ یا آنحضرت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل شدہ اسلام کی بہت سی باتیں ابھی اس لئے بیان سے باقی رہ گئی تھیں کہ ابھی ان کی ضرورت پیش نہیں آئی تھی اور زمانہ کے ساتھ رفتہ رفتہ جب حالات و مسائل پیش آئی تھی تو بیان شدہ مسائل بیان کیے جاتے۔چنانچہ یہ ساری دینی امانتیں حضرت علی علیہ السلام کے پاس محفوظ تھیں اور ان کے اوپر انہیں عوام کے سامنے بیان کرنے کی ذمہ داری تھی۔ یہی امامت کی روح اور اصل حقیقت ہے۔ ایسی صورت میں یہی حدیث "کتاب اللہ و عترتی" آئمہ کی عصمت کو بیان کرتی ہے۔ کیونکہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : "دین ان ہی دونوں سے حاصل کرو۔ جس طرح قرآن معصوم ہے اور اس میں کسی خطا کا امکان نہیں ہے یوں ہی یہ عترت بھی معصوم ہے اور یہ محال ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوری قاطیعت اور یقین کے ساتھ فرمائیں کہ دین فلاں شخص سے حاصل کرو، جبکہ وہ شخص جس کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائیں، بعض مواقع پر اشتباہ و غلطیاں بھی کرتا ہو!
یہی وہ نقطہ ہے جہان دین کے دن کا اجزاء بیان کرنے میں شیعہ اور سنی نظریات میں بنیادی فرق نظر آتا ہے ۔اہل سنت یہ کہتے ہیں کہ: جہاں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد وحی کا سلسلہ منقطع ہوا وہی دین کے واقعات اور حقیقی بیان کا وہ عصمتی سلسلہ بھی جس میں کسی قسم کی خطا یا اشتباہ کا امکان نہ تھا ،تمام ہو گیا۔ اب جو کچھ ہم تک قرآن و احادیث پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شکل میں پہنچا اور ہم نے اس سے استنباط کیا۔وہی کچھ ہے اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔
تبصرے