امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام دنیائے ادب و خطبات کے شاہ سوار تھے ایک مرتبہ یہ گفتگو چلی گئی عربی زبان میں لفظ "الف" زیادہ اس...
امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام دنیائے ادب و خطبات کے شاہ سوار تھے ایک مرتبہ یہ گفتگو چلی گئی عربی زبان میں لفظ "الف" زیادہ استعمال ہوتا ہے۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا: یہ ضروری نہیں ہے۔
حاضرین نے عرض کیا: بھلا یہ کیسے ممکن ہے؟
آپ علیہ السلام نے فی البدیہہ یہ خطبہ دیا۔ پورے خطبہ میں کہیں بھی لفظ "الف" استعمال نہیں ہوا اور کمال یہ ہے کہ مفہوم گئی ادائیگی میں کہیں کوتاہی دکھائی نہیں دیتی آپ علیہ السلام کے اس خطبہ کو "خطبۂ مونقہ" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ذیل میں اس خطبہ کو نقل کرنے کی سعادت حاصل کی گئی ہے۔
خطبۂ مونقہ:
یہ خطبہ مناقب میں مرقوم ہے اور اس کے سلسلۂ سند کو یوں بیان کیا گیا ہے:
کلبی نے ابو صالح اور ابو جعفر ابن بابویہ سے نقل کیا ہے۔ انہوں نے اپنی اسناد سے حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ علیہ السلام نے اپنے آبائے طاہرین علیہ السلام کی سند سے یہ روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ بزم صحابہ میں یہ ذکر چھڑا کہ عربی میں لفظ "الف" زیادہ استعمال ہوتاہے۔
امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: "الف" کا استعمال ضروری نہیں ہے اس کے بغیر بھی گفتگو کی جا سکتی ہے چنانچہ آپ علیہ السلام نے فی البدیہہ یہ خطبہ ارشاد فرمایا جس کا ترجمہ یوں ہے:
"میں اس ذات کی حمد بجا لاتا ہوں جس کے احسانات عظیم ہیں اور نعمات کامل ہیں جس کی رحمت اس کے غضب پر سبقت رکھتی ہے اور جس کے کلمات کامل ہیں اور اس کی مشیت جاری ہے اور اس کا فیصلہ نافذ ہے۔
میں اس ذات کی اس شخص کی سی حمد بجا لاتا ہوں جو اس کی ربوبیت کا اقرار کرنے والا ہے اس کی عبو دیت کے سامنے جاضع ہے۔ اپنی خطاؤں سے بھاگنے والا ہے اور اپنی تنہائی میں متفرد ہے اور اس سے ایسی مغفرت کا طالب ہے جو کہ اسے اس دن سے نجات دلائے جب وہ اپنے خاندان اور اولاد کا ہوش نہ ہوگا۔
میں اس کی توحید کا اس طرح سے قرار کرتا ہوں جیسا کہ کوئی یقین رکھنے والا مومن اقرار کرتا ہے میں اس کی توحید کا یقین رکھنے والے بندے کی مانند اعتراف کرتا ہوں اس کی حکومت میں کوئی شریک نہیں ہے اور اس کی صفت میں اس کا کوئی سرپرست نہیں ہے۔ وہ کسی بھی مشیر اور وزیر سے بلند والا ہے اور وہ ہر طرح کے ناصر مددگار اور نظیر سے بلند و برتر ہے وہ جانتا ہے پھر بھی پردہ پوشی کرتا ہے اور وہ باطن کی خبر دیتا ہے وہ مالک ہیں اور غالب ہے اس کی نافرمانی کی گئی تو اس نے معاف کیا اور فیصلہ کیا تو عدل کو قائم رکھا۔ وہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا کوئی چیز اس کی مانند نہیں ہے تمام چیزیں ختم ہوجائیں گی وہ ان کے بعد میں بھی باقی رہے گا۔
وہ ایسا رب ہے جسے اپنی عزت پر فخر ہے اور اپنی قوت سے متمکن ہے، اپنی بلندی کا مقدس ہے اور اپنی بلندی میں متکبر ہے اس کی آنکھ ادراک نہیں کرسکتے اور نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کر سکتیں وہ قوی اور مضبوط ہے وہ سمیع و بصیر اور روؤف ع رحیم ہے اس کی وصف کرنے والا اس کی وصف کرنے سے عاجز ہے اس کی معرفت رکھنے والا اس کے بیان سے قاصر ہے وہ قریب بھی ہے اور بعید بھی ہے اور بعید ہو کر قریب ہے پکارنے والے کی پکار پر لبیک کہتا ہے اور اسے رزق سے نوازتا ہے اور اس پر عطیات کرتا ہے وہ لطف حقیقی اور قوی کا مالک ہے وہ وسیع رحمت اور دردناک موت کا مالک ہے اس کی رحمت وسیع وعریض اور حسین جنت کی شکل میں ہے اور اس کی عقوبت دوزخ ہے جو کہ ہلاک کنندہ ہے۔
میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کی گواہی دیتا ہوں جو کہ اس کے عبد اور اس کے رسول ہیں، اس کے پسندیدہ نبی ہے اور اس سے کلام کرنے والے ہیں اور اس کے حبیب اور خلیل ہیں۔ خدا نے انہیں بہترین دور میں مبعوث کیا۔ وہ دور فترت تھا اور اس وقت کفر پھیلا ہوا تھا خدا نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس لیے مبعوث کیا کہ اپنے بندوں پر رحمت نازل فرمائے اور اپنے احسانات میں اضافہ فرمائے اور خدا نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نبوت کا اختتام کیا اور اپنی حجت کو مضبوط کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کامل و اکمل انداز میں وعظ و نصیحت فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر مومن کے لیے روؤف و رحیم ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدا کے پسندیدہ دوست اور پاکیزہ فطرت ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمتیں ہوں سلام ہوں اور برکتیں ہوں اور تکریم ہو اس رب کی طرف سے جو غفور و رحیم اور قریب و مجیب ہے۔
اے میری اس محفل میں موجود گروہ! میں تمہارے سامنے تمہارے رب کی وصیت کو دہراتا ہوں اور تمھیں تمھارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی یاد دہانی کراتا ہوں تمہیں اپنے اندر ایسا خوف پیدا کرنا چاہیے یہ جو تمہارے دلوں میں راج بس جائے اور اس خوف کی وجہ سے تمہارے آنسو بہنے لگیں۔ میں تمہیں ایسے تقوی کی دعوت دیتا ہوں جو تمہیں اس دن سے نجات دلائے جو لوگوں کی آزمائش ہوگی اور انہیں ہر چیز کا ہوش بھلا دے گے اور قیامت کا دن وہ دن ہے جس میں وہ شخص کامیاب قرار پائے گا جس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری اور برائیوں کا پلڑا ہلکا ہوگا تم پورے خشوع و خضوع اور مسکنت و شکر کے ساتھ اس سے سوال کرو تمہارے سوال میں توبہ و انابت ندامت و رجوع شامل ہونا چاہیے ہر شخص کو چاہئے کہ ہے وہ بیماری سے قبل صحت مندی اور بڑھاپے سے قبل جوانی اور غربت سے پہلے مارتے اور مصروفیت سے قبل فارغ البالی کو غنیمت جانے۔اسی طرح سے سفر سے پہلے حضر کو اور بڑھاپے سے قبل جوانی اور تندرستی کو غنیمت جانے۔
وہ وقت آنے والا ہے جب طبیب مایوس ہو جائے گا دوست منہ پھیر لیں گے اور عمر کی رسی کٹ جائے گی اور عقل ٹھکانے نہیں رہے گی پھر کہا جائے گا کہ اسے شاید بخار ہے اور اس کا جسم کمزور ہوچکا ہے پھر نزع کا عالم طاری ہو گا اس وقت ہر قریب و بعید موجود ہوگا نگاہ پتھر آجائے گی وہ نظر ٹھہر جائے گی اور ماتھے پر پسینہ آئے گا اس وقت اس کی چیخ و پکار رک جائے گی اور اس کا نفس غمگین ہوگا اور دلہن رونے لگ جائے گی اور اس کی تدفین کے لئے قبر کھودی جائے گی اولاد یتیم ہو جائے گی اور تعداد متفرق ہوجائے گی اور اس کا جمع کردہ مال تقسیم کر دیا جائے گا اور اس کی سماعت و بصارت زائل ہو جائے گی پھر اسے غسل کے لیے لکڑی کے تختہ پر لٹکا دیا جائے گا اور کپڑے اتار لیے جائیں گے اور غسل دیا جائے گا پھر اس کو کپڑے سے خشک کیا جائے گا اور اسے کفن میں لپیٹ دیا جائے گا اور اس کی ٹھوڑی باندھ دی جائے گی اور قمیض اور عمامہ اتارا جائے گا اس کو الوداع کہا جائے گا اور اسے آخری سلام کہا جائے گا اور چارپائی پر اٹھا کر اسے گھر سے باہر لایا جائے گا اور اس پر نماز میت پڑھی جائے گی خوبصورت مکانات اور پختہ محلات اور قرینے سے نکال کر تنگ و تاریک لحد کے سپرد کیا جائے گا جہاں اینٹیں لگی ہوں گی جس کی چھت کسی مضبوط پتھر کی ہو گی اور اس پر مٹی ڈال دی جائے گی اور وہ خدا کے حضور پیش ہو گا اور لوگ اس کی خبر تک کو فراموش کر دیں گے پھر اسے قبر میں تنہا چھوڑ کر اس کے تمام دوست احباب رشتہ دار واپس اپنے گھروں کو چل پڑیں گے اور اس کے متبادل اپنے نئے دوست اور احباب بنا لیں گے جب کہ مرنے والا قبر میں تنہا پڑا ہوگا اور ویرانیوں کو گلے لگائے ہوئے ہوگا اور قبر کے کیڑے اس کے جسم کو دوڑ رہے ہوں گے اور اس کے نتھنوں سے خون اور پیپ جاری ہوگا کیڑے مکوڑے اس کے گوشت کو کھا رہے ہوں گے اس کا خون خشک ہو جائے گا اور ہڈیوں کا پنجر پڑا ہوگا یہ حالت قیامت تک برقرار رہے گی پھر جب صور پھونکا جائے گا تو اسے قبر سے اٹھایا جائے گا اور اسے محشر کے لیے بلایا جائے گا اور قبریں پھٹ جائیں گی اور سینوں میں چھپے ہوئے بھید آشکار ہوں گے اس وقت نبی صدیق اور گواہوں کو لایا جائے گا اور فیصلہ کرنے والا قادر مطلق ہوگا خبیر و بصیر خدا بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا اس وقت وہ کتنی ٹھنڈی سانسیں لے گا جو اسے کمزور کر دیں گی اور اس کی حسرتیں اسے ہلکان کر رہی ہوں گی۔ وہ انتہائی خوفناک مقام ہوگا اور بہت بڑی پیشی ہوگی یہ پیشی عظیم بادشاہ کے حضور ہو گی، جو ہر چھوٹی بڑی بات سے آگاہ ہے اس وقت وہ اپنے پسینہ میں ڈوبا ہوا ہوگا اس قلق نے اس کا محاصرہ کر رکھا ہو گا اس کی آنسوؤں پر رحم نہیں کیا جائے گا اس کی چیخوں کو نہیں سنا جائے گا اور اس کے عذر بہانوں کو قبول نہیں کیا جائے گا اس کے سامنے اس کا نامۂ اعمال کھول دیا جائے گا اور وہ اپنے برے اعمال کا مشاہدہ کرے گا اس کے خلاف اس کی آنکھیں غیر شرعی ہونے کی گواہی دیں گے اور اس کے ساتھ اس کی ناجائز پکڑ کی گواہی دی گئی گے اور اس کے پاؤں حرام مقامات پر جانے کی گواہی دیں گے اور اس کی شرمگاہ ملا ست کی اور اس کی جلد مس ہونے کی گواہی دیں گی پھر اس کی گردن میں زنجیر ڈال دیئے جائیں گے اور اس کے ہاتھوں کو جکڑ دیا جائے گا اور اسے تن تنہا کھینچا جائے گا اور وہ دوزخ میں کرب و شدت کے ساتھ داخل ہو گا اور وہاں اسے عذاب دیا جائے گا اسے گرم ترین پانی پلایا جائے گا جس سے اس کا چہرہ جھلس جائے گا اور اس کی جلد پھٹ جائے گی اور دوزخ میں مامور فرشتے لوہے کے مرسلوں سے انہیں پیٹیں گے اس کی جلد جل جانے کے بعد دوبارہ پلٹ آئے گی وہ مدد کرنے کے لئے پکارے گا دو زخ کے خازن اس سے منہ پر پھیر لیں گے وہ چلائے گا پھر وہ زندگی پر ندامت کا اظہار کرے گا۔
ہر برے انجام سے ہم رب قدیر کی پناہ چاہتے ہیں اس سے بخشش و مغفرت کا سوال کرتے ہیں وہیں میرے سوالات کا پورا کرنے والا ہے اور میری حاجات برلانے والا ہے جسے عذاب سے بچایا جائے تو اسے عزت کے ساتھ جنت میں داخل کیا جائے گا اور مضبوط محلات میں اسے ہمیشہ رکھا جائے گا اور حور عین کا مالک ہوگا اس کے گرد جام گردش کریں گے اور وہ حظیرۃ القدوس میں رہائش پذیر ہوگا اور نعمات میں پلٹتا رہے گا اور اسے تسنیم کا پانی پلایا جائے گا اور سلسبیل کے چشمہ سے اس کی پیاس بجھائی جائے گی جس میں زنجیل کی آزمائش ہوگی اس کی جام پر کستوری اور عنبر کی مہر لگی ہوئی ہوگی اس کی ملکیت دائمی ہوگی۔ وہ خوشیوں کا اظہار کرے گا اور جنت میں ایسا شراب طہور پیے گا جس سے سر درد نہ ہو گا اور نہ ہی دیوانگی اس پر چھا جائے گی یہ اس کا مقام ہے جس نے اپنے رب کا خوف کیا اور اپنے آپ کو خدا کی معصیت سے خبردار کیا۔ سزا کے حقدار وہ ہیں جنہوں نے اس کی مشیت کا انکار کیا اور جن کی نفوس نے معصیت کو مزین کرکے پیش کیا۔ یہ قول فیصل ہے اور عادلانہ فیصلہ ہے اور بہترین بیان کیا گیا قصہ ہے اور وعظ کی گئی نص ہے۔قرآن مجید صاحب حکمت اور لائق حمد خدا کی طرف سے نازل ہوا ہے جسے روح القدوس لے کر نازل ہوا ہے۔
یہ قرآن مجید ہدایت یافتہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل پر اترا ہے اس پر عزت مانند ملائکہ کا درود وسلام ہو میں علیم و رحیم اور کریم رب کی ہر لعین و رجیم دشمن سے پناہ چاہتا ہوں تم میں سے ہر تضرع کرنے والے کو اپنے لیے اور میرے لئے استغفار کرنا چاہیے۔ اللہ ہی میرے لئے کافی ہے۔"
تبصرے