جب کوئی انسان روحانی کرب میں مبتلا ہوتا ہے تو اس وقت تو اپنی ہستی کو فراموش نہیں کرسکتا اور وہ روحانی کرب اسے مستقل طور پر متوجہ کرتا ہے کہ ...
جب کوئی انسان روحانی کرب میں مبتلا ہوتا ہے تو اس وقت تو اپنی ہستی کو فراموش نہیں کرسکتا اور وہ روحانی کرب اسے مستقل طور پر متوجہ کرتا ہے کہ وہ زندہ ہے۔
انسان کے شفاف اور غیر شفاف ہونے کے بارے میں امام جعفر صادق علیہ السلام نے جو قانون دریافت کیا وہ بھی اتنا سہل و آسان تھا کہ سب ہی نے اسے قبول کیا اور چنانچہ اسے یاد رکھنے میں کوئی دشواری نہیں تھی اس لیے وہ بہت جلد ہی افریقہ اور ایشیا کی مسلمان قوموں کے درمیان مشہور ہوا۔
امام جعفر صادق علیہ السلام نے مذہب شیعہ کی دو طریقوں سے خدمت کی۔
ایک تو آپ علیہ السلام نے علوم کی تدریس کے ذریعے اہل تشیع کو دانش مند بنایا جس کے سبب ایک شیعی ثقافت وجود میں آئی۔ شیعی ثقافت کے وجود میں آنے سے اس مذہب کو بڑی تقویت حاصل ہوئی اور ہمارے خیال میں یہ بات واضح و روشن ہے کہ ہر قوم اور ہر طبقہ کے افراد کے لیے ان کی ثقافت،ان کی تقویت کا باعث ہوتی ہے۔بعض قدیم قومیں آج بھی اس لے باقی ہیں کہ وہ ایک پسندیدہ ثقافت کی حامل ہیں وگرنہ آج وہ بھی آہستہ آہستہ صفحہ ہستی سے سمٹ جاتیں اور ان کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہتا۔
امام جعفر صادق علیہ السلام سے قبل شیعہ حضرات دو صاحب علم اماموں کے وجود سے فیض یاب ہوئے جن میں سے ایک ہستی آپ علیہ السلام کے والد بزرگوار امام محمد باقر علیہ السلام کی تھی۔لیکن شیعی ثقافت کے لیے آپ علیہ السلام میں سے کسی نے کوئی بنیاد قائم نہیں کی اور اس کی اہمیت پر توجہ نہیں دی اس کی علاوہ علمی اعتبار سے بھی ان ہستیوں کا امام جعفر صادق علیہ السلام سے کوئی مقابلہ نہیں تھا۔
شیعی عقائد کی تشکیل کوئی ایسا مسئلہ نہیں تھا جو تدریجی طور پر آپ علیہ السلام کے ذہن میں آیا ہو۔ آپ علیہ السلام اچھی طرح جانتے تھے کہ شیعہ مذہب کو باقی رکھنے کا بس یہی ایک طریقہ ہے کہ اس کے لیے ایک ثقافت تشکیل پائے۔یہی بات واضح کرتی ہے کہ یہ شخصیت نہ صرف علمی لحاظ سے فہم و فراست کی حامل تھی بلکہ آپ علیہ السلام کو سیاسی تدبر حاصل تھا۔ اور آپ جانتے تھے کہ مذہب شیعہ کی تقویت کے لئے کسی ثقافت کی تشکیل طاقت ور فوج کے ہاتھوں مغلوب ہو جائے مگر ایک مضبوط،محکم اور وسیع ثقافت ہر گز تباہی کا شکار نہیں ہو سکتی۔آپ علیہ السلام نے یہ بھی اندازہ لگایا کہ اس ثقافت کو جلد از جلد وجود میں آ جانا چاہیے تاکہ وہ ان تمام فرقوں پر فوقیت رکھے جو اسلام میں ظہور پذیر ہو رہے تھے اور ابھی ثقافت سے ان کا دور کا رشتہ بھی نہیں تھا۔
جس وقت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارادہ فرمایا کہ شیعہ مذہب کے لیے ایک ثقافت کی تشکیل کریں اس وقت کسی فرقہ کے بانی کے ذہںن میں یہ بات نہیں آئی تھی کہ ان کے لئے ایک ثقافت کی تشکیل ضروری ہے آپ علیہ السلام نے یہ بات محسوس کی کہ ایک خاص ثقافت کی تشکیل کے بغیر مذہب شیعہ باقی نہیں رہ سکتا اور اس کو باقی رکھنے کیلئے شیعی ثقافت کا اثر و نفوذ ضروری ہے۔اور بعد کے واقعات نے بتایا کہ امام جعفرصادق علیہ السلام کا نظریہ درست تھا کیونکہ بارھویں امام کے بعد اہل تشیع کے پاس کوئی ایسا مرکز نہیں تھا جس کے گرد جمع ہوجاتے تھے اور باوجود اس کے کہ کلیسا کی طرح وسیع سازوسامان کے ساتھ ان کا کوئی دائمی روحانی مرکز نہیں تھا اور آج بھی امام جعفر صادق علیہ السلام سے ساڑھے بارہ سو سال گزرنے کے بعد جب کہ چرچ کی طرح ان کے پاس کوئی وسیع روحانی مرکز موجود نہیں ہے، مذہب شیعہ باقی ہے اور برابر پروان چڑھ رہا ہے اور یہ اسی ثقافت کا فیضان ہے جسے امام جعفر صادق علیہ السلام نے رائج کیا اور آثار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ اس کے بعد بھی باقی رہے گا۔
امام جعفر صادق علیہ السلام نے شیعی ثقافت کو رائج کر کے شیعہ علماء کو اس کی ضرورت کا احساس دلایا اور انہیں سمجھایا کہ جو چیز اس کی بقا ضامن ہے وہ اس کی تقافت ہے لہذا ہر دانشمند پر لازم ہےکہ وہ اس کی توسیع کرے اور اگر وہ اس کو آگے نہیں بڑھا سکتا تو اسے چاہیے کہ وہ دوسروں سے پہنچی ہوئی باتوں ہی کی حفاظت کرے اور انہیں لوگوں میں ترویج دے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام کے زمانے میں اہل تشیع کی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ زبردستی صاحب قدرت بنیں۔ عربستان اور اس کے باہر کے علاقوں میں مذہب جعفری کے پیروکار بہت محدود سوسائٹی کے حامل تھے اور ان میں سے بعض سوسائٹیاں تو صرف اپنے خاندان ہی کے چند افراد پر منحصر تھیں۔اس صورتحال کے پیش نظر وہ یہ قدرت نہیں رکھتے تھے کہ اموی حکام پر غالب آ سکیں۔ امام جعفر صادق علیہ السلام دیکھ رہے تھے کہ اہل تشیع کسی سیاسی طاقت کے حامل نہیں ہیں اور حالات بھی اس طرح کے تھے کہ وہ مستقبل قریب میں سیاسی طاقت بن کر نہیں ابھر سکتے تھے لہذا شیعہ مذہب کی توسیع و ترقی کا صرف یہی ایک راستہ تھا کہ اس مکتب فکر کو تقویت پہنچائی جائے اور آئیڈیالوجی کے ذریعہ اسے چار دانگ عالم میں پھیلا جاۓ کیوں کہ اس وقت تک کسی اسلامی فرقہ نے اپنے عقائد کی باقاعدہ طور پر تشکیل نہیں کی تھی لہٰذا جو بھی اس میں سبقت کرتا تھا وہ دوسروں سے آگے بڑھ جاتا اور اپنی پیش قدمی کو جاری رکھ سکتا تھا۔
امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے ماننے والوں کے لیے کوئی انجمن قائم نہیں کی اس لئے کہ یہ اقدام ذوق عرب سے ہم آہنگ نہیں تھا لیکن آپ علیہ السلام نے ان کے لیے ایک اکیڈمی کی تشکیل کی۔
گرجوں کی تعمیر کرنے والے عیسائیوں نے اداروں کی تشکیل کے ذوق کو رومیوں سے سیکھا۔ قدیم رومی قوانین وضع کرنے اور ادارے قائم کرنے کے شوقین تھے۔آرتھوڈکس اور کیتھولک گرجوں کی تعمیر انہی کے انجمن ساز ذوق کا نتیجہ ہے۔
شیعہ مذہب کے لئے امام جعفر صادق علیہ السلام کے قائم کردہ علمی مرکز نے اکیڈمی کی صورت اختیار کی جس میں آزادانہ طور پر علمی مسائل کو موضوع بحث بنایا جاتا اور کھلے دل کے ساتھ آئیڈیالوجی پر گفتگو ہوتی۔ یہاں یہ امر قابل توجہ ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی قائم کردہ ثقافت میں بحث و مباحثہ کی جو آزادی تھی وہ اسلام کے کسی فرقہ میں نہیں تھی۔
تبصرے