قرآن پاک کی روشنی میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیثیت

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دین اسلام کی خصوصیت و جامعیت کی بنا پر قرآن اور خود اپنی سیرت طیبہ کے مطابق اپنے زمانہ میں کئی حیثیت اور...

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دین اسلام کی خصوصیت و جامعیت کی بنا پر قرآن اور خود اپنی سیرت طیبہ کے مطابق اپنے زمانہ میں کئی حیثیت اور ذمہ داروں کے حامل تھے، مطلب ایک ہی وقت میں کئی امور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذمہ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کئی منصوبوں پر کام کر رہے تھے چنانچہ پہلا منصب جو خدا عالم کی جانب سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا ہوا تھا اور جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عملی طور سے کار بند تھے، پیغمبری اور رسالت تھی۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الہی احکام و قوانین کو بیان فرماتے تھے۔ اس سلسلہ میں قرآن مجید میں ارشاد کیا گیا ہے۔
ترجمہ: "جو کچھ پیغمبر تمہارے لئے لایا ہے اسے اختیار کر لو اور جن چیزوں سے منع کرتا ہے انہیں چھوڑ دو۔"
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام و قوانین سے متعلق جو بھی کہتے ہیں خدا کی جانب سے کہتے ہیں۔اس اعتبار سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صرف ان چیزوں کو بیان کرنے والے ہیں جو ان پر وحی کی شکل میں نازل ہوئی ہے۔دوسرا منصب جس پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فائز تھے قضاوت کا منصب تھا وہ تمام مسلمان کے درمیان قاضی کی حیثیت رکھتے تھے کیونکہ اسلام کی نظر میں منصف قضاوت بھی کوئی بے معنی نہیں ہے کہ جہاں کہیں دو آدمی آپس میں اختلاف کریں ایک تیسرا آدمی قاضی بن کر فیصلہ کر دے۔قضاوت اسلامی نقطہ نظر سے ایک الہی منصب ہے کیوں کہ یہاں عدل کا مسئلہ درپیش ہے قاضی وہ ہے جو نزع و اختلاف کے درمیان عادلانہ فیصلہ کرے۔یہ منصب بھی قرآن مجید کے مطابق خدا وند عالم کی جانب سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تفوین ہوا اور آپ خدا کی جانب سے حق رکھتے تھے کہ لوگوں کے اختلاف کا فیصلہ فرمائیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
ترجمہ: " پس نہیں اے رسول تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ سچے مومن نہ ہوں گے جب تک اپنے اختلاف اور دشمنیوں میں تمہیں حاکم نہ بنائیں اور تم جو فیصلہ کر دو اس سے تنگ نہ ہوں بلکہ دل و جان سے اسے تسلیم کر لیں۔"
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہارے معاشرے کے حاکم ورہبر ہیں وہ تمہیں جو حکم دیں اسے تسلیم کرو۔ لہذا یہ صرف ظاہری دکھاوے کے نہیں ہیں بلکہ بنیادی طور پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہم تک پہنچا ہے اس کی تین حیثیتیں ہیں۔ایک پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ کلام جو فقط وحی الہی ہے۔ یہاں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بذات خود کوئی اختیار نہیں رکھتے جو حکم خدا کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے پہنچانے کا صرف ایک ذریعہ ہیں۔
مثال کے طور پر جہاں وہ دینی قوانین بیان کرتے ہیں کہ نمازیں پڑھو روزہ ایسے رکھو وغیرہ وہاں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد حکم خدا اور وہی ہے۔لیکن جب لوگوں کے درمیان قضاوت کرتے ہیں اس وقت ان کے فیصلے وحی نہیں ہوتے۔
دوسری بات پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلے ظاہری بنیادوں پر ہوتے ہیں جن پر دوسرے فیصلے کرتے ہیں فرق یہ ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلے بہت ہی دقیق اور اعلی سطح کے ہوتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ہی فرمایا ہے کہ میں ظاہر پر حکم کرنے کے لیے مامور کیا گیا ہوں۔
تیسری حیثیت بھی جس کے موجب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معاشرہ کے نگران اور رہبر ہیں اگر اس کے تحت وہ کوئی حکم دے یہ حکم بھی اس فرمان سے مختلف ہو گا جس میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وحی خدا کو پہچانتے ہیں۔
خدا نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسی ہی حاکمیت و رہبری اختیار دیا ہے اور ایک حق کی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منصب بنایا ہے اور وہ بھی رہبر ہونے کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں لہذا اکثر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعض امور میں لوگوں سے مشورہ بھی فرماتے ہیں۔تاریخ میں ملتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بدر اور احد کی جنگوں میں۔ نیز بہت سے دوسرے مقامات پر اپنے اصحاب سے مشورہ فرمایا۔ جبکہ حکم خدا میں تو مشورہ کی گنجائش ہی نہیں ہوتی کیا کبھی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب سے یہ مشورہ بھی لیا کہ مغرب کی نماز کیسے پڑھی جائے یا ویسے؟ بلکہ اکثر ایسے مسائل پیش آتے تھے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان موضوعات کے متعلق پوچھا جاتا تو صاف فرما دیا کرتے تھے کہ مسائل کا میری ذات سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ اللہ کی جانب سے ہی ایسا ہے اور اس کے علاوہ کچھ ہو بھی نہیں سکتا لیکن احکام خدا کے علاوہ دوسرے مسائل میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر مشورہ فرماتے تھے اور دوسروں کی رائے دریافت کیا کرتے تھے۔اب اگر کسی موقع پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوئی حکم دیں کہ ایسا کرو تو یہ اختیار کے تحت ہے جو خدا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا ہے۔ہاں اگر کسی سلسلہ میں مخصوص طور پر وحی نازل ہو جائے تو ایک استثنائی بات ہو گی۔
اس کو عام مسائل سے الگ سمجھا جائے گا نہ یہ کہ تمام امور اور جزئیات میں معاشرہ کا حاکم اور رہبر ہونے کی حیثیت سے معاشرہ کے لیے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو کام بھی انجام دیتے تھے۔ خدا ان کے لئے ان پر وحی نازل فرماتا تھا کہ یہاں یہ کرو وہاں یہ کرو اور اس طرح کے مسائل میں بھی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف ایک پیغام رساں کی حیثیت رکھتے رہے ہوں لہذا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یقینی طور پر بیک وقت ان متعدد منصوبوں پر فائز رہے ہیں۔

تبصرے

نام

اسلامی تاریخ,10,تاریخی کتب,1,حقوق و فرائض,6,سیرت و فضائل,23,شیعہ عقائد,7,فقہی مسائل,10,کتب,1,Nohay,5,Nohay 2020,5,
rtl
item
فقہ جعفریہ: قرآن پاک کی روشنی میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیثیت
قرآن پاک کی روشنی میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیثیت
فقہ جعفریہ
https://fiqahjafria.blogspot.com/2020/08/blog-post.html
https://fiqahjafria.blogspot.com/
https://fiqahjafria.blogspot.com/
https://fiqahjafria.blogspot.com/2020/08/blog-post.html
true
3345343407563367532
UTF-8
تمام تحریریں دیکھیں کسی تحریر میں موجود نہیں مزید تحریریں مزید پڑھیں Reply Cancel reply Delete By مرکزی صفحہ صفحات تحریرں View All مزید تحریریں عنوان ARCHIVE تلاش تمام تحریرں Not found any post match with your request واپس مرکزی صفحہ پر جائیں شئیر Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS PREMIUM CONTENT IS LOCKED STEP 1: Share to a social network STEP 2: Click the link on your social network Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy