قرآن کریم میں کی آیات مذکور ہیں جن سے شیعہ امامت کے سلسلہ میں استدلال کرتے ہیں اتفاق سے ان تمام آیتوں کے سلسلہ میں اہل سنت کے یہاں بھی ایسی ...
قرآن کریم میں کی آیات مذکور ہیں جن سے شیعہ امامت کے سلسلہ میں استدلال کرتے ہیں اتفاق سے ان تمام آیتوں کے سلسلہ میں اہل سنت کے یہاں بھی ایسی روایتیں موجود ہیں جو شیعہ مطالب کی تائید کرتی ہیں۔ ان میں سے ایک آیت یہ ہے:
انما وليكم الله ورسوله والذين امنوا الذين يقيمون الصلاه ويؤتون الزكاه وهم راكعون
(سوره المائده آيت :55)
ترجمہ:
"اے ایمان والو! بس تمہارا ولی اللہ ہے اور اس کا رسول اور وہ صاحبان ایمان جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوٰۃ دیتے ہیں۔"
"انما" کے معنی ہیں صرف اور صرف "ولی" کے اصل معنی ہیں سر پرست ولایت یعنی تسلط و سرپرستی۔ قرآن مجید کہتا ہے: "تمہارا سر پرست صرف اور صرف خدا ہے، اس کا رسول ہے اور وہ مومنین ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوۃ دیتے ہیں۔"
اسلام میں ایسا کوئی حکم نہیں ہے کہ انسان حالت رکوع میں زکوۃ دے تا کہ کہا جائے کہ یہ قانون ولی ہے اور تمام افراد اس حکم میں شامل ہیں۔یہ ایک ایسے واقعہ کی طرف اشارہ ہے جو خارج میں صرف ایک بار ظہور پذیر ہوا۔
شیعہ اور سنی دونوں نے متفقہ طور پر اس کی روایت کی ہے، واقعہ کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ حضرت علی علیہ السلام حالت رکوع میں تھے کہ ایک سائل نے آکر سوال کیا۔حضرت علی علیہ السلام نے اپنی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔ سائل قریب آیا، اس نے حضرت علی علیہ السلام اسلام کی انگلی سے انگوٹھی اتاری اور لے کر چلا گیا۔ یعنی آپ علیہ السلام نے اتنا انتظار بھی نہیں کیا کہ نماز ختم ہوجائے اس کے بعد انفاق کرے آپ علیہ السلام اس وقت فقیر کے سوال کو جلد از جلد پورا کرنا چاہتے تھے لہٰذا اسی رکوع کی حالت میں اسے اشارہ سے سمجھا دیا کہ انگوٹھی اتار لے جائے اور اسے بیچ کر اپنا خرچ پورا کرے۔
اس واقعہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے،سنی شیعہ سب متفق ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام نے یہ عمل انجام دیا ہے۔دونوں فریق اس بات پر بھی متفق ہیں کہ یہ آیت حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ جبکہ حالت رکوع میں انفاق کرنا اسلامی قوانین کا جزو نہیں ہے۔ نہ واجب ہے نہ مستحب کہ یہ کہا جائے کہ ممکن ہے کچھ لوگوں نے اس قانون پر عمل کیا ہو۔ لہٰذا آیت کا یہ انداز "جو لوگ یہ عمل انجام دیتے ہیں" کا اشارہ حضرت علی علیہ السلام کی طرف ہے۔
جسے خود قرآن مجید میں اکثر آیا ہے "یقولون" یعنی ( وہ لوگ کہتے ہیں) جبکہ معلوم ہے کہ ایک شخص نے یہ بات کہی ہے۔لہذا یہاں اس مفہوم سے مراد وہ فرد ہے جس نے یہ عمل انجام دیا ہے۔ اس آیت کے حکم کے مطابق حضرت علی علیہ السلام لوگوں پر ولی حیثیت سے معین کیے گئے ہیں۔ چنانچہ شیعہ اس آیت کو استدلال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
دوسری آیات واقعہ غدیر سے متعلق ہیں۔ واقعہ غدیر احادیث میں آتا ہے۔ سورہ مائدہ میں جو آیتیں وارد ہوئی ہیں ان میں سے ایک آیت یہ ہے:
يا ايها الرسول بلغ ما انزل اليك من ربك وان لم تفعل فما بلغت رسالته والله يعصمك من الناس ان الله لايهدي القوم الكافرين.
(سورہ المائدہ آیت 67)
سورہ المائدہ:
"اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ اس حکم کو پہنچا دیں جوآپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور اگر آپ نے یہ نہ کیا تو گویا اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا کہ اللہ کافروں کی ہدایت نہیں کرتا۔"
اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! جو کچھ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے اس کی تبلیغ کر دو، اور اگر تم نے اس کی تبلیغ نہیں کی تو گویا تم نے سرے سے رسالت الہی کی تبلیغ نہیں کی۔
شیعہ و سنی اس بات پر متفق ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہونے والا آخری سورہ، مائدہ ہے۔ اور یہ آیتیں ان آیتوں کا جز ہے جو سب سے آخر میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی یعنی اس وقت نازل ہوئی جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیرہ سال مکہ کی زندگی اور دس سال مدینہ کی زندگی میں اسلام کے تمام دوسرے قوانین و احکام بیان کر چکے تھے یہ حکم ان احکام کا آخر جز تھا اب ایک شیعہ سوال کرتا ہے کہ یہ حکم جو آخری احکام کا جزو ہے اور اس قدر اہم ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و سلم اسے نہ پہنچائیں تو ان کی گزشتہ تمام محنتوں پر پانی پھر جائے۔
آخر ہے کون سا حکم؟؟؟؟؟؟؟
آپ لاکھ تلاش کے بعد کسی ایسے مسئلے کی نشاندہی نہیں کر سکتے جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے آخری دنوں سے مربوط ہو اور اس قدر اہم ہو کہ اگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی تبلیغ نہیں کریں تو گویا انہوں نے کچھ بھی نہیں کیا۔
لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ وہ مسئلہ امامت ہے۔ اگر وہ نہ ہوتا سب کچھ بے کار ہے یعنی اسلام کا شیرازہ بکھر کے رہ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ کہ شیعہ خود اہل سنت کی روایت سے دلیل پیش کرتے ہیں کہ یہ آیت نازل غدیر خم میں نازل ہوئی ہے۔
اسی سورہ مائدہ میں ایک اور آیت ہے۔
اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الاسلام دينا.
(سورہ مائدہ آیت نمبر 3)
ترجمہ:
آج میں نے دین کو تم لوگوں کے لئے کمال کی منزلوں تک پہنچا دیا۔اس پر اپنی نعمتیں آخری حدود تک تمام کردی اور آج کے دن میں نے اسلام کو ایک دین کے عنوان سے تمہارے لئے پسندیدہ قرار دیا ہے۔"
خود آیت ظاہر کر رہی ہے کہ اس دن کوئی واقعہ گزرا ہے جو اتنا اہم ہے کہ دین کے کامل ہونے اور انسانیت پر خدا کی طرف سے اتمام نعمت کا سبب بن گیا ہے۔ جس کے ظہور پذیر ہونے سے اسلام درحقیقت سلام ہے اور خدا اس دن کو ویسا ہی پاتا ہے جیسا وہ چاہتا ہے اور اگر وہ نہ ہو تو اسلام، اسلام ہی نہیں ہے۔
آیت کا لب و لہجہ بتاتا ہے کہ واقعہ کتنا اہم تھا۔اسی بنا پر شیعہ اس سے استدلال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ موضوع جو دین کی تکمیل اور اتمام نعمت کا سبب بنا اور جو اگر واقع نہ ہوتا تو اسلام در اصل اسلام ہی نہ رہتا۔
وہ کیا تھا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
شیعہ کہتے ہیں کہ ہم ہی بتا سکتے ہیں کہ وہ کونسا موضوع ہے جسے اتنی اہمیت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بہت سی روایتیں اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ یہ آیت بھی اسی موضوع امامت کے تحت نازل ہوئی ہے۔
تبصرے