زمین کے بارے میں امام جعفر صادق علیہ السلام کا نظریہ

پرانے زمانے سے ہی انسان کو یہ معلوم تھا کہ زمین گول ہے،پندرہویں صدی کا آخری نصف اور پوری سولہویں صدی میں دنیا کی پوشیدہ چیزیں دریافت کرنے کے...

پرانے زمانے سے ہی انسان کو یہ معلوم تھا کہ زمین گول ہے،پندرہویں صدی کا آخری نصف اور پوری سولہویں صدی میں دنیا کی پوشیدہ چیزیں دریافت کرنے کے سلسلے میں اس صدی کے مقابل جبکہ آدمی چاند کے اوپر قدم رکھ چکا ہے۔ زمین کی اپنے گرد گردش کو مخصوص طریقے سے اس وقت تک ثابت نہیں ہوسکی جب تک انسان نے چاند پر قدم نہیں رکھے اور وہاں سے زمین کا مشاہدہ نہیں کیا۔بلکہ یہ خلا نورد اپنی خلا نورد کے ابتدائی برسوں میں بھی زمین کی گردش اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے تھے کیونکہ اس دور میں ان کا کوئی مستقل اڈا نہیں تھا اور وہ ایسے جہازوں میں تھے جو ہر 90 منٹ یا اس سے کچھ زائد میں زمین کا چکر پورا کر لیتے تھے اور وہ اس تیز رفتاری کے عالم میں زمین کی حرکت اور کیفیت کا صحیح اندازہ نہیں کر سکتے تھے۔لیکن جب انہوں نے چاند کو اپنا ٹھکانہ بنایا اور وہاں سے اپنی تصویر بردار دوربین کے ذریعے زمین کا معائنہ کیا تو نظر آیا کہ یہ آہستہ آہستہ اپنے گرد گھوم رہی ہے اور اس روز پہلی بار زمین کی گردش کا مشاہدہ ہوا۔
آج ہر انسان یہ جانتا ہے کہ نظام شمسی میں کوئی ایسا ستارہ نہیں ہے جو اپنے گرد گھومتا نہ ہو، اور تمام ستاروں کی اپنے گرد حرکت نظام شمسی کے میکانیکی قانونین کی پابند ہے چنانچہ سورج بھی نظام شمسی کا مرکز اور ناظم ہے اپنے گرد گھومتا ہے اور اس کی یہ حرکت خط استواء میں زمین کے 25 شب و روز کی مدت میں مکمل ہوتی ہے۔
جو قانون نظام شمسی میں ستاروں کو ان کے گرد چکر دیتا ہے وہی خلائی جہازوں کو بھی گردش دیتا ہے گیلیلیو نے فلکی دور بین ایجاد کرنےکے بعد جب ان سیاروں کا معائنہ کیا تب اس چیز کی طرف متوجہ ہوا کہ یہ اپنے گرد گھوم رہے ہیں اس بات کے پیش نظر گیلیلیو اس سے بخوبی آگاہ تھا کہ زمین نظام شمسی کے دیگر سیاروں کی مانند سورج کے چاروں طرف گھومتی ہے لیکن ہمیں اس کے اقوال و آثار میں ایسے کسی خیال کا پتہ نہیں ملتا، اس دانشور نے محکمہ تفتیش عقیدہ کے ڈر سے یہ کہنے جرآت نہیں کی کہ زمین اپنے گرد گھومتی ہے۔ اس لیے کہ اگر توبہ اور استغفار کے بعد زمین کی اس حرکت و ضعی کا ذکر کرتا تو اس توبہ شکنی کی وجہ سے پھر اسے کوئی شخص زندہ آگ میں جلائے جانے سے نہ بچا سکتا کیونکہ مذکورہ محکمے کی نظر میں اس کی بدنیتی ثابت ہو جاتی۔
گیلیلیو نہ صرف اپنی طول حیات میں اس مسئلے پر خاموش رہا بلکہ اس کے مرنے کے بعد بھی اس کے کاغذات سے بھی کوئی ایسا مواد ہاتھ نہ آیا جس سے یہ معلوم ہوسکے کہ اسے زمین کی اپنے گرد گردش کا علم تھا۔
جس زمانے میں محکمہ تفتیش عقیدہ شدت کے ساتھ اس نظریے کے اظہار سے روکتا تھا اسی دور میں محزب اخلاق اور نفرت انگیز کتابیں کھلے عام دستیاب تھیں لیکن یہ محکمہ نہ انہیں ممنوع قرار دیتا تھا نہ ان کے مصنفین سے کوئی باز پرس کرتا تھا۔جرمنی کے کیپلر نے ستاروں کی رفتار کے بارے میں جو تین قانون بتائے تھے وہ نہ صرف اس دور کی علمی دنیا کے لئے حیرت و تحسین بنے بلکہ آج بھی ہر شخص اس کے تین نکاتی قانون کو پڑھ کر حیرت زدہ رہ جاتا ہےان قوانین میں سے ایک قانون یہ ہے کہ سورج کے گرد زمین سمیت تمام سیاروں کی حرکت کو "کوپرنیک" کے نظریہ کے برخلاف دائرہ کی شکل میں نہیں ہے بلکہ وہ بیضوی صورت میں سورج کے گرد گردش کرتے ہیں اور سورج دو بینی "کانوں" میں سے ایک کانوں میں مقیم ہے۔
اس موجودہ صدی کے آخری نصف حصے میں جبکہ  آسمان کی طرف خلائی جہازوں کا سفر ایک معمول بن چکا ہے کیپلر کے پہلے قانون کی حقیقت ثابت ہو گئی ہے کیونکہ یہ راکٹ جو انسان کے ہاتھوں فضا میں بھیجے جاتے ہیں زمین یا چاند کی گرد ایک بیضوی مدار کو طے کرتے ہیں۔ یہ عظیم دانشور بھی جس نے ستاروں کے تین قوانین کا انکشاف کر کے اپنی برتری ثابت کی لیکن زمین کی اپنے گرد گردش کے بارے میں معلوم نہ کر سکا۔
لیکن امام جعفر صادق علیہ السلام نے آج سے بارہ سو سال پہلےیہ معلوم کر لیا تھا کہ زمین اپنے گرد گھومتی ہے اور اس کے بعد دیگرے شب و روز کی آمدورفت کا سبب زمین کے گرد سورج کی گردش نہیں بلکہ اپنے گرد زمین کی گردش ہے جس سے رات اور دن وجود میں آتے ہیں اور ہمیشہ نصف حصہ زمین تاریک اور رات کے حالت میں اور دوسرا حصہ روشن اور دن کے عالم میں رہتا ہے عموماً جو زمین کے گول ہونے کے قائل تھے وہ جانتے تھے کہ ہمیشہ زمین کے نصف حصے میں رات اور دوسرے نصف حصے میں دن رہتا ہے لیکن شب و روز کو زمین کے چاروں طرف سورج کی گردش کا نتیجہ سمجھتے تھے۔آخر کیا بات تھی کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے آج سے بارہ سو سال پہلے ہی پتہ لگا لیا کہ زمین اپنے گرد گھومتی ہے اور اسی لئے دن اور رات پیدا ہوتے ہیں؟؟
پندرہویں، سولہویں اور سترہویں صدی عیسوی کے دانشور جن کے نام تاریخ کی کتابوں میں موجود ہیں ستاروں کے چند میکانیکی قوانین دریافت کر چکے تھے لیکن اس حقیقت تک نہیں پہنچ سکے کہ زمین اپنے گرد گھومتی ہے پھر امام جعفر صادق علیہ السلام مدینہ جیسے دور دراز علاقے میں رہ کر جو اس دور کے علمی مراکز سے بالکل الگ تھلگ تھا۔کیوں کر یہ دریافت کر سکے کہ زمین اپنے گرد گردش کرتی ہے۔
اس زمانے کے علمی مراکز قسطنطنیہ ،انطاکیہ اور گندی شاپور تھے اور اس وقت تک بغداد علمی حیثیت سے اتنی اہمیت کا حامل نہیں تھا کہ وہ اس کو مرکزیت حاصل ہوتی اور ان مذکورہ بالا تینوں مراکز میں سے کوئی معلوم نہ کر سکا کہ زمین اپنے گرد گھومتی ہے اور اسی کے نتیجے میں شب و روز کا ظہور ہوتا ہے۔
کیا امام جعفر صادق علیہ السلام جنہوں نے اس علمی حقیقت کو معلوم کیا ستاروں کے قوانین سے باخبر تھے؟؟ اور جانتے تھے کہ قوت جاذبہ کا اثر جو دو شکلوں میں یعنی ایک مرکز سے فرار صورت میں اور دوسرے مرکز کی طرف جذب و کشش کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اس چیز کا سبب بنتا ہے کہ اجرام فلکی اپنے گرد گردش کریں؟؟
اس لئے کہ یہ بات عقل سے بعید ہے کہ آپ علیہ السلام جذب و فرار کے قوانین کو جانے بغیر زمین کی اپنے گرد گردش کی حقیقت کو جان سکیں۔

تبصرے

نام

اسلامی تاریخ,10,تاریخی کتب,1,حقوق و فرائض,6,سیرت و فضائل,23,شیعہ عقائد,7,فقہی مسائل,10,کتب,1,Nohay,5,Nohay 2020,5,
rtl
item
فقہ جعفریہ: زمین کے بارے میں امام جعفر صادق علیہ السلام کا نظریہ
زمین کے بارے میں امام جعفر صادق علیہ السلام کا نظریہ
فقہ جعفریہ
https://fiqahjafria.blogspot.com/2020/07/blog-post_29.html
https://fiqahjafria.blogspot.com/
https://fiqahjafria.blogspot.com/
https://fiqahjafria.blogspot.com/2020/07/blog-post_29.html
true
3345343407563367532
UTF-8
تمام تحریریں دیکھیں کسی تحریر میں موجود نہیں مزید تحریریں مزید پڑھیں Reply Cancel reply Delete By مرکزی صفحہ صفحات تحریرں View All مزید تحریریں عنوان ARCHIVE تلاش تمام تحریرں Not found any post match with your request واپس مرکزی صفحہ پر جائیں شئیر Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS PREMIUM CONTENT IS LOCKED STEP 1: Share to a social network STEP 2: Click the link on your social network Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy