امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا بعض روشنیوں کے ذریعے بیماری کے انتقال سے متعلق ہے۔آپ علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ باز روشنیاں ایسی ہیں ج...
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا بعض روشنیوں کے ذریعے بیماری کے انتقال سے متعلق ہے۔آپ علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ باز روشنیاں ایسی ہیں جو اگر ایک بیمار سے ہو کر تندرست انسان تک پہنچیں تو اسے بھی متاثر کر سکتی ہیں۔اس نظریے کو حیاتیات اور فن طب کے علماء خرافات اور فضول بات سمجھتے تھے، کیوں کہ ان کے عقیدے میں بیمار آدمی سے تندرست آدمی کی طرف بیماری کے منتقل ہونے کا باعث نہ مکروب تھے یا وائرس، چاہے انتقال مرض کا وسیلہ حشرات الارض ہوں یا پانی یا ہوا یا دو بیمار و صحت مند آدمیوں کے درمیان براہ راست مس ہونا۔ مکروب یا وائرس کی تحقیق سے پہلے بیماریوں کے منتقل ہونے کا ذریعہ بو کو سمجھا جاتا تھا اور قدیم زمانے میں امراض کی سرایت کو روکنے کے لیے تمام اقدامات بو کی روک تھام کی بنیاد پر کیے جاتے تھے تاکہ کسی مرض کی بو ایک بیمار سے تندرست انسان تک پہنچ کر اسے بھی بیمار نہ کر دے۔کسی دور میں کسی شخص نے بھی یہ نہیں کہا کہ بعض روشنیاں اگر بیمار سے ہوتی ہوئی تندرست تک پہنچیں تو اسے بھی بیمار کر دیتی ہیں۔ یہ صرف امام جعفر صادق علیہ السلام کا قول ہے۔
ماہرین نے خلیوں کو جو سالم تھے حفاظتی ٹیوب میں رکھا۔ پھر جانداروں کا انتخاب کر کے دو علیحدہ حصوں میں تقسیم کیا اور ان میں سے ایک حصے کو اس کا مشاہدہ کرنے کیلئے بیمار کیا کہ آیا بیماری کی حالت میں بھی خلیوں سے شعاعیں خارج ہوتی ہیں یا نہیں؟ پھر دیکھا کہ بیماری کی حالت میں بھی فوٹون خارج ہو رہے ہیں۔ اس کے بعد دوسرے گروہ کے سالم خلیوں کو دو حفاظتی ٹیوبوں میں رکھا جن میں سے ایک سلیکان کا اور دوسرا شیشے کا تھا۔ سلیکان کی یہ خاصیت ہے کہ کسی قسم کا فوٹون یعنی کسی طرح کی شعاع سواۓ ماوراء بنفشی شعاعوں کے اس کو عبور نہیں کرتی اور معمولی شیشے کی یہ خاصیت ہے کہ سواۓ موراء بنفشی شعاع کے ہر فوٹون یعنی ہر قسم کی شعاع اس سے گزر جاتی ہے۔
سلیکان اور شیشے کی دو ٹیوبوں میں سالم خلیوں کو چند گھنٹے بیمار خلیوں کی شعاعوں کے مقابل رکھنے کے بعد مشاہدے سے معلوم ہوا کہ کے سلیکان والی ٹیوب کے سالم خلیے بھی بیمار ہو گئے تھے۔ لیکن شیشے کی ٹیوب والے بیمار نہیں ہوئے۔ سلیکان چونکہ ماوراء بنفشی شعاعوں کے علاوہ اور کسی قسم کی شعاع کو گزرنے کا راستہ نہیں دیتا تھا لہذا ماورائے بنفشی شعاعیں تندرست خلیوں تک پہنچ کر انہیں بیمار کر دیتی تھیں لیکن شیشہ ماورائے بنفشی شعاعوں کے سوا ہر قسم کی شعاعوں کو راستہ دے دیتا تھا اور چونکہ وہ شعاعیں تندرست خلیوں پر اپنا اثر نہیں ڈالتی تھیں لہذا وہ اپنی سلامتی کو محفوظ رکھتے تھے اور بیمار نہیں ہوتے تھے۔ دوسرے یہ کہ جس وقت سالم خلیے بیمار خلیوں سے نکلی ہوئی ماورائے بنفشی شعاعوں کے مقابلے میں ( نہ کہ دوسری ماورائے بنفشی شعاعوں کے سامنے) آتے ہیں تو بیمار ہو جاتے ہیں اور ان کی بیماری بھی وہی ہوتی ہے جو مریض خلیوں میں ہو۔
اگرچہ سورج کا نور ماورائے بنفشی ہوا کے بغیر کسی جاندار کے جسم پر پڑے اور جسم اور ان شعاعوں کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو تو وہ جاندار ہلاک ہو جائے گا۔ لیکن وہی شعاعیں جب ہوا کے بیچ سے گزرتی ہوئی زمین تک پہچتی ہیں تو کسی ذی روح کو بیمار نہیں کرتیں۔
بہرحال حیات شناسی اور طب کے جدید انکشافات نے ساڑھے بارہ سو سال کے بعد امام جعفر صادق علیہ السلام کے نظریے کی صحت ثابت کر دی۔
پروفیسر الفن کے نظریے کے مطابق اگر آدھا کلو گرام مادہ اور آدھا کلو گرام ضد مادہ کا ٹکراؤ ہو جائے تو ایک سو ملیارڈ (ایک سو ہزار ملین درجہ) حرارت وجود میں آئے گی اور یہ اس قدر حرارت ہے کہ کائنات میں اتنی حرارت پیدا کرنے والا کوئی منبع نہیں۔ ستاروں کی طبیعیات سے واقف سائنسدانوں کے نزدیک سورج کے مرکز کی حرارت دس ملین درجہ ہے۔
کیا نوع بشر اس قدر زیادہ حرارت کو کنٹرول کر کے اپنے استفادہ میں استعمال کر سکتی ہے؟
پروفیسر الفن کہتا ہے کہ مادہ اور ضد مادہ کا ناقص دھماکہ میزان حرارت کو بہت کم کر سکتا ہے۔ ناقص دھماکہ سے اس کی مراد ایٹم بم کے دھماکہ جیسا دھماکہ ہے کہ جس میں مادہ کی ایک معمولی سے مقدار انرجی میں تبدیل ہوتی ہے اور بقیہ ضائع ہو جاتی ہے۔
مادہ اور ضد مادہ کا تصادم محض تھیوری سے آگے نہ بڑھنے کی وجہ اقتصادی ہے۔ کیوں کہ پروفیسر الفن کے مطابق مادہ اور ضد مادہ کے ٹکراؤ کے نتیجہ میں توانائی کی حصول کے صرف تجربہ ہی کیلئے دس پندرہ ملیارڈ ڈالرز کی ضرورت ہے اور آج کوئی حکومت اور کوئی ادارہ ایسا نہیں جو اس قدر رقم خرچ کر سکے۔
تجربہ سے ظاہر ہے کہ آزمائشی مرحلہ طے ہونے کے مادہ اور ضد مادہ کے نتیجہ میں حاصل ہونے والی حرارت کا حصول آسان ہوجائے گا۔
جیسا کہ ایٹمی طاقت سے استفادہ کے وقت تمام عناصر میں سے یورینیم کا انتخاب کیا گیا تو معلوم ہوتا ہے کہ مادہ اور ضد مادہ کے دھماکہ سے استفادہ کے لئے ہیلیم سے استفادہ کیا جائے گا۔ کیوں کہ روسی ماہرین طبیعات نے ہیلیم کے ضد مادہ کو دریافت کر لیا ہے اور ساتھ ہی روس میں مادہ اور ہیلیم کے ضد مادّہ کہ دھماکہ کے مقدمات فراہم ہیں اور ہمارے خیال میں اس کام کی اہمیت کے بارے میں باعث ضروری نہیں۔
تبصرے