امام موسی کاظم علیہ السلام کی سخاوت: امام موسی کاظم علیہ السلام نے کبھی بھی ذخیرہ اندوزی نہیں کی، جب کبھی مال ملتا اس سے لوگوں کی مشکلات دور...
امام موسی کاظم علیہ السلام کی سخاوت:
امام موسی کاظم علیہ السلام نے کبھی بھی ذخیرہ اندوزی نہیں کی، جب کبھی مال ملتا اس سے لوگوں کی مشکلات دور فرمایا کرتے تھے۔ بھوکھے کو شکم سیر کراتے اور عریاں کو لباس پہناتے۔
محمد بن عبداللہ بکری کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں مالی لحاظ سے بہت ہی زیادہ پریشان تھا،یہ سوچ کر مدینہ وارد ہوا کے یہاں کسی سے کچھ رقم بطور قرض حاصل کروں، مگر جس کے پاس گیا اس نے روکھا سا جواب دیا، ہر جگہ سے مایوسی ہوئی۔ دل میں سوچا کہ امام موسی بن جعفر علیہ السلام کی خدمت میں کیوں نہ چلوں، اور ان کی خدمت میں اپنے حالات بیان کروں۔
میں امام موسی کاظم علیہ السلام کو دریافت کرتا ہوا امام کی خدمت میں حاضر ہوا، دیکھا کہ آپ علیہ السلام ایک کھیت میں کام کر رہے ہیں۔ مجھ کو دیکھ کر امام علیہ السلام میرے قریب تشریف لائے۔تو وہی میرے ساتھ کھانا تناول فرمایا، اس کے بعد مجھ سے دریافت کیا:
"تم کو مجھ سے کوئی کام ہے۔"
میں نے سارا قصہ بیان کردیا۔ حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اٹھے اور وہی پاس ایک کمرہ تھا، اس میں تشریف لے گئے اور سونے کے تین سو درہم لا کر مجھے عنایت فرمائے۔
عیسی بن محمد جن کی عمر 90 برس تھی، ان کا کہنا ہے کہ میں نے ایک سال خربوزہ، کیلا اور کدو کی کاشت کی۔ جب فصل تقریبا تیار ہوگئی تو ٹڈل دل ٹوٹ پڑا جس کی بنا پر ساری فصل برباد ہوگئ اور ایک سو بیس دینار کا نقصان اٹھانا پڑا۔ انہی دنوں میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام میرے پاس تشریف لائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام علیہ السلام اپنے ایک ایک دوست کی حالات سے باخبر رہتے تھے ،مجھے سلام کیا اور حالات دریافت کیے۔
عرض کی، مولا! ٹڈی دل نے ساری فصل برباد کر دی۔
_____کتنا نقصان اٹھانا پڑا؟
_____سب ملا کر ایک سو بیس دینار۔
امام علیہ السلام نے ڈیڑھ سو سو دینار مجھے عطا فرمائے۔
عرض کی، مولا! آپ علیہ السلام کا وجود بابرکت ہے۔ اگر آپ علیہ السلام دعا فرمادیں تو مشکلات دور ہو جائیں۔
امام علیہ السلام نے دعا فرمائی اور فرمایا کہ
"پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث ہے کہ جو چیز باقی رہ گئی ہے اس سے وابستہ رہو اور برداشتہ خاطر نہ ہو۔"
میں نے پھر اسی زمین کو پانی وغیرہ دیا اور تھوڑی سی محنت کی، خدا وند عالم نے اس قدر برکت عطا فرمائی کہ میں نے فصل دس ہزار کی فروخت کی۔
(تاریخ بغداد ص 28-29)
امام موسی کاظم علیہ السلام کے اقوال:
1) صالح افراد کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا فلاح اور بہبود کی طرف دعوت دیتا ہے۔ علماء کا ادب کرنا عقل میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔
2) جو شخص اپنے غیظ و غضب کو لوگوں سے روکے رکھتا ہے تو قیامت میں خدا کے غضب سے محفوظ رہے گا۔
3) معرفت الہی کے بعد جو چیز انسان کو سب سے زیادہ خدا کے نزدیک کر دیتی ہیں وہ یہ ہیں:
١۔نماز
٢۔ والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ
٣۔ حسد نہ کرنا
٤۔ خود پسندی سے دور رہنا
٥۔ فخر و مباہات سے پرہیز کرنا
4) مخلوقات کا نصب العین اطاعت پروردگار ہے۔
اطاعت کے بغیر نجات ممکن نہیں۔
اطاعت علم کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔
علم سیکھنے سے حاصل ہوتا ہے۔
عقل کے ذریعے علم حاصل کیا جاتا ہے۔
علم تو بس عالم ربانی کے پاس ہے۔
عالم کی معرفت اس کی عقل کے ذریعہ سے ہے۔
5) تمہارے نفس کی قیمت تو بس جنت ہے۔
بس اپنے کو جنت کے علاوہ کسی اور سے فروخت نہ کرو۔
6) نعمت اس شخص کے پاس رہتی ہے جو میانہ روی اور قناعت کو اپناتا ہے ،اور جو شخص بے جا مصرف اور اسراف کو اختیار کرتا ہے تو نعمت اس سے دور ہو جاتی ہے۔
7) امانت داری اور سچائی رزق مہیا کرتے ہیں۔خیانت اور جھوٹ فقر اور نفاق پیدا کرتے ہیں۔
8) عاقل وہ ہے جسے رزق حلال شکر سے باز نہیں رکھتا اور نہ کبھی حرام اس کے صبر پر غالب آتا ہے۔
9) علی بن یقطین سے ارشاد فرمایا:
"ظالم بادشاہ کی نوکری کرنے کا کفارہ یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کے ساتھ احسان کرو۔"
10) جو شخص حمد و ثنائے پروردگار اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجے بغیر دعا مانگتا ہے وہ بالکل اس شخص کے مانند ہے جو بغیر شانے کے تیر چلا رہا ہو۔
11) غور و فکر کرنا نصف راحت ہے اور لوگوں سے محبت کرنا نصف عقل ہے کیوں کہ لوگ تمہیں تمہارے عیوب سے آگاہ کریں گے اور یہ لوگ دل سے تمہارے مخلص ہیں۔
12) وہ شخص ہم سے نہیں ہے (ہمارا دوست نہیں ہے) جو اپنی دنیا کو دین کے لئے ترک کر دے یا اپنے دین کو دنیا کے لئے ترک کردے۔
خدایا توفیق عطا فرما کہ ہم امام علیہ السلام کی سیرت کو اپنا سکیں اور تیرے پیغام کو لوگوں تک پہنچا سکیں۔
دعا توفیقی آلا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب
تبصرے