اسلام میں نماز کے بعد سب سے اہم عبادت روزہ ہے،اور اس کو پروردگار عالم نے تمام مسلمانوں کے اوپر ماہ مبارک رمضان میں واجب قرار دیا ہے۔جس کی تف...
اسلام میں نماز کے بعد سب سے اہم عبادت روزہ ہے،اور اس کو پروردگار عالم نے تمام مسلمانوں کے اوپر ماہ مبارک رمضان میں واجب قرار دیا ہے۔جس کی تفصیلات بہت سی کتابوں سے ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔
روزہ نفس کی تربیت کا بہترین ذریعہ ہے اور اس کے ذریعے ہر مسلمان اپنے باطن اور قلب و دماغ کو پاک و پاکیزہ،اپنے ارادہ کو مظبوط اور مستحکم بنایا جا سکتا ہے اور حیوانی خواہشات سے نجات حاصل کر کے روحانی بلندیوں تک پہنچا جاسکتا ہے جس سے وہ محبت اور رضائے الہی کا حقدار بن کر جنت میں جگہ پا سکتا ہے۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ائمہ معصومین علیہ السلام کی احادیث کی روشنی میں روزہ کی اہمیت کے آداب اور شرائط اور فوائد و نتائج درج ذیل بیان کیے گئے ہیں:
1۔روزہ میرے لیے ہے:
خدا وند عالم کا ارشاد ہے کہ (1) "ہر نیکی کے بدلے دس سے لے کر سات سو گنا تک جزا دی جاتی ہے ہے سوائے روزہ کے، روزہ میرے لیے ہیں اور میں خود اس کی جزا دوں گا۔"
(2) "صبر اور نماز کے ذریعہ مدد حاصل کرو"
اس آیت میں صبر سے مراد روزہ ہے۔
(3)"بس صبر کرنے والے ہی وہ لوگ ہیں جن کو بے حساب اجر دیا جائے گا۔"
انسان روزے کے علاوہ جتنی بھی عبادتیں کرتا ہے ان سب کے ثواب کا علم محدود ہے لیکن روزہ کا ثواب صرف پروردگار عالم کو ہے اور یہی چیز روزہ کی عظمت اور منزلت کے لیے کافی ہے۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث میں ہے:
"روزہ دار کے علاوہ اولاد آدم کا ہر عمل خود اس کے لئے ہے اور روزہ میرے لیے ہے اور میں خود ہی روزہ کی جزا دوں گا،قیامت کے دن بندۂ مومن کے اس طرح سپر ہے جس طرح دنیا میں ہر انسان کا اسلحہ اس کی حفاظت کرتا ہے اور روزہ دار کے دہن کی بوخداوند عزوجل کے نزدیک مشک کی بو سے بھی بہتر ہے ہیں روزہ دار کو دہری خوشی نصیب ہوتی ہے ایک افطار کے وقت جب کوئی چیز کھاتا یا پیتا ہے دوسرا جب میں اس کو جنت میں داخل کروں گا۔"
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:
"اس ذات گرامی کی قسم،جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو خداوند عالم کے نزدیک مشک کی بو سے بہتر ہے۔"
خداوندعالم ارشاد فرماتا ہے:
"اس بندہ نے اپنے خواہشات اور کھانے پینے کو صرف میرے لیے ترک کر رکھا ہے لہذا روزہ دار میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔"
(2) روزہ سپر ہے:
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے:
"روزہ جہنم سے حفاظت کی سپر ہے۔
اس سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا:
"روزہ رکھو کیونکہ وہ جہنم سے محفوظ رہنے کی سپر ہے اور اگر تمہارے لئے ممکن ہو کہ مرتے وقت تم بالکل خالی پیٹ ہو تو ایسا ہی کرو۔"
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ کو سپر اس لیے قرار دیا ہے کہ روزہ کی وجہ سے انسان کی دو مضبوط قوتیں یعنی شہوت اور غضب اس کے قابو میں رہتی ہے۔اور اگر یہ دونوں بے قابو رہیں تو انسان کو گمراہی اور بھیانک تباہی کے منہ میں جھونک سکتی ہیں۔اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے:
"روزہ اس وقت تک سپر ہے جب تک اسے پارہ نہ کیا جائے" (یعنی اسے باطل نہ کیا جائے)
(3) روزہ کے اسباب:
حضرت علی علیہ السلام ارشادفرماتےہیں کہ
"خداوند عالم نے روزہ کو لوگوں کے خلوص کی آزمائش کے لئے فرض کیا ہے۔"
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لخت جگر بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ فرماتی ہیں کہ
"اللہ تعالی روزہ کو خلوص کے استحکام کے لئے واجب قرار دیا ہے۔"
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے:
"روزہ واجب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے مالدار اور فقیر سب برابر ہو جائیں کیوں کہ مالدار جب تک بھوک کا مزہ نہ چکھ لے وہ فقیر کے اوپر رحم نہیں کرتا ہے کیونکہ اس کا جو دل چاہتا ہے وہ اسے حاصل کرلیتا ہے۔ لہٰذا خداوند عالم نے یہ چاہا کہ اس کی تمام مخلوقات کے درمیان مساوات پیدا ہوجائے اور مالدار بھی بھوک کا مزا اور درد چکھ لے تاکہ اس کا دل بھی کمزوروں کے لیے نرم پڑ جائے اور وہ بھی بھوکوں ساتھ رحم دلی سے پیش آئے۔"
امام رضا علیہ السلام نے روزہ کی وجوہات کا سبب یہ بیان فرمایا ہے:
"اگر کوئی یہ کہے کہ روزہ کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟تو کہاں جائے تاکہ وہ بھی بھوک اور پیاس کی تکلیف کا احساس کر سکے!اور اس کے ذریعے آخرت کی غربت کا اندازہ کر لے اور یہ کہ روزہ دار اپنی بھوک و پیاس کو برداشت کر کے خدا کے سامنے ذلیل،مسکین ثواب کا مستحق ،جزا کا منتظر اور خدا وند عالم کا عارف اور ثواب کا مستحق بن جائے اس کے علاوہ اس میں خواہشات کا توڑ، درگزر چیزوں کے بارے میں نصیحت،فرائض کی ادائیگی کے لیے آ مادگی،آئندہ کے لیے رہنمائی ہے اور تاکہ انہیں یہ پتہ چل جائے کہ فقروں اور مسکینوں کے لیے اس کو برداشت کرنا کتنا دشوار ہے لہذا اسے دیکھ کر وہ ان کے وہ حقوق ادا کریں جن کو خداوندعالم نے ان کے اموال میں واجب قرار دیا ہے۔"
(4) روزہ کے معنوی اثرات:
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ:(1)"روزہ دار کا سونا عبادت اور سانس تسبیح ہے۔"
(2)"خداوند عالم نے کچھ فرشتوں کو روزہ دار کے لیے دعا کرنے پر مامور فرمایا ہے."
(3) جو شخص ایک دن مستحبی روزہ رکھے تو اگر اسے پوری زمین سونے سے بھر کر دیدی جائے تو بھی اس کا اجر کامل نہیں ہو سکتا ہاں صرف روزہ قیامت وہ اپنا مکمل اجر حاصل کر لے گا۔"
حضرت علی کرم وجہ اللہ نے فرمایا ہے:
(1)"روزہ دار کا سونا عبادت, سانس تسبیح اور دعا مستجاب ہے نیز اس کے عمل کا اجر دگنا ہو جاتا ہے۔"
(2) "افطار کے وقت روزہ دار کی دعا رد نہیں ہوتی ہے۔"
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
"روزہ دار عبادت الہی میں مشغول ہے چاہے وہ بشرطیکہ کسی مسلمان کی غیبت نہ کرے۔"
(5) روزہ کی حد:
امام جعفر صادق علیہ السلام کا فرمان ہے:
"روزہ صرف کھانے پینے سے پرہیز کا نام نہیں ہے کہ انسان کھانا پینا چھوڑ دے بلکہ جب تم روزہ رکھو تو پھر تمہارے کان،آنکھ،زبان،پیٹ،شرمگاہ کو بھی روزہ دار ہونا چاہیے اور اپنے ہاتھوں اور شرمگاہ کو بچا کر رکھو،اور نیک باتوں کے علاوہ زیادہ سے زیادہ خاموش رہو،اور اپنے خادموں کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ۔"
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا ہے:
"جب تم روزہ رکھو تو تمہارے کان،آنکھ،کھال اور بال کو بھی روزہ دار ہونا چاہیے۔"
خلاصہ:
اسلام کی ایک اہم عبادت کا نام روزہ ہے کیونکہ ایک مسلمان روزہ رکھ کر اپنی خواہشات نفس اور ہواوہوس پر غلبہ حاصل کر سکتا ہے اور اس کے ذریعے اپنی روح کو پاک و پاکیزہ بناتا ہے۔پروردگار عالم نے روزہ داروں کے لیے عظیم جرم قرار دیا ہے۔
تبصرے