آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود بھی خدا پرست تھےاور دوسروں کو خدا پرستی کی دعوت دیتے تھے۔ اسی لیے تمام روئے زمین کو خداوند متعال کی اطاعت آپ ...
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود بھی خدا پرست تھےاور دوسروں کو خدا پرستی کی دعوت دیتے تھے۔ اسی لیے تمام روئے زمین کو خداوند متعال کی اطاعت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کا مقصد تھا۔ہر ایک کے ساتھ محبت اور پیار سے پیش آنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے لہجے کی نرمی اور آپ کی برد باری کا کم نظیر ہونا۔ ارادے کے ساتھ عمل انجام دیتے تھے تھے۔ آسان اور سادہ عوام کو پسند کرتے تھے۔ سختی کا برتاؤ کرنے سے خوف کھاتے تھے۔ ان کی زندگی ، لباس اورخوراک بہت سادہ اور تکلفات سے خالی ہوتی تھی۔ ان کی زندگی کا ایک لحظہ بھی بے ہودہ باتوں میں تلف نہیں ہوا۔ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم ساری زندگی یا تو تبلیغ کرتے رہے یا کام کرتے کاج کرتے رہے یا عبادت کرتے رہے یا پھر ذات حق کے اندر غور و فکر کرتے رہے۔
گھر کے کاموں میں اہل خانہ کی مدد کیا کرتے تھے اور سفر کے دوران اپنے سفر کے ساتھیوں کی مدد کیا کرتے اور کام کو اپنے وقت کے اندر انجام دیتے تھے۔لیکن کسی کام میں بھی جلدی نہیں کرتے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نصیحتیں الفاظ کے لحاظ سے بہت مختصر لیکن پر معنی اور گہری ہوتی تھیں۔اپنے عقیدے کو بحث ومباحثے کے بغیر بڑے آرام سے بیان کرتے تھے۔اسی وجہ سے بہت لوگ بہت جلد لوگوں کو اپنی طرف جذب کر لیتے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن انعطاف کی وجہ سے سخت ترین دشمن بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دوستی کی خواہش کرتا تھا۔ سب کے ساتھ محبت اور ادب سے پیش آتے تھے۔فقراء کے ساتھ بیٹھ کر کھانا پسند کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محفل میں کوئی آگے یا کوئی پیچھے کی بحث میں نہیں پڑتا تھا بلکہ جس کو جہاں جگہ ملی وہ وہیں بیٹھ جاتا تھا۔اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی سب لوگوں کے درمیان میں دائرہ کی صورت میں بیٹھتے۔یتیموں کے اوپر عنایات کی بارش کرتے تھے اور محروم لوگوں کی طرف بہت زیادہ توجہ کرتے تھے۔
انسانیت کے کمال مجسم نمونہ تھے اور روحانی اعتبار سے قرآن نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کو اسوہ حسنہ قرار دیا ہے۔دشوار ترین مسائل کو آسان ترین تعبیروں تعبیر کو سادہ ترین جملوں کے ساتھ بیان فرماتے تھے۔اس طرح سے کہ صحرا نشین اور بادہ نشین اسی کو اپنی فطرت اور اپنے منطق کے ساتھ سمجھ سکے۔پیچیدہ الفاظ اور گنگ تعبیروں سے سامنے والے کو بھی جواب نہیں دیتے تھے۔اکثر اپنی نگاہیں نیچی رکھتے اور اپنی نگاہوں کے گہرے نفوذ کے ذریعے اسلام کے مقصد کو کو پہنچا دیتے تھے۔
ان کی زیادہ تر کوشش یہ ہوتی تھی کہ ایسے لوگوں کے ساتھ ہم نشینی اختیار کریں جن کا یہ کوئی نہیں یا پھر وہ محروم ہیں اپنے اس کردار سے آپ متمول طبقے کی زندگی کے معیارات اور بری عادت کو اپنے پاوں تلے روند دیتے تھے۔فقیروں کے ساتھ کھانا پسند فرماتے بغیر زین کے سواری پر بیٹھا کرتے تھے۔اجتماعی کاموں میں شرکت فرمایا کرتے تھے تاکہ اپنے حصے کا کام انجام دے سکیں کہیں ایسا نہ ہو جائے کہ ان کے حصے کا کام کسی اور کی گردن پر پڑا ہو۔اور ان کو خداوند متعال کے حضور جواب دینا پڑے۔
گمنام اور مشہور، آزاد اورغلام، غنی اور فقیر کے ساتھ ایک طرح سے برتاؤ کرتے تھے۔کہ سب کو احساس ہوتا تھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صرف ان کے ساتھ ہیں۔محفل کے اندر ہمیشہ یہ کوشش کرتے کہ سب دائرے کی شکل میں بیٹھیں تاکہ کسی کا صدر مجلس ہونا یا آخر مجلس سونا متشخص نہ ہو سکے اور خود بھی کسی خاص جگہ پر نہ بیٹھتے تھے بلکہ جہاں جگہ ملی وہیں بیٹھ گئے اور جب کبھی کسی نے اپنی نسبت میں ضرورت سے زیادہ تجلیل اور احترام دیکھاتےتو فوراً کہہ دیتے تھے میں خدا کا ادنیٰ سا بندہ ہوں۔مجھے بندگی اور انسانیت کی حدود سے آگے نہ بڑھاؤ جیسا کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے پیروکاروں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو بندگی کے مرتبہ سے اٹھا کر خدا کے مرتبے پر بٹھا دیا ہے۔
کسی کو اپنے احترام کی طرف بلائے بغیر اس کی شخصیت اور اس کی معنوی قدرومنزلت کو کسی خاص فرد کے ساتھ مخصوص کرنے کی بجائے تمام افراد کے لیے ایک جیسی توضع اور احترام کرنے کا کہتے۔روز مرہ کے عام مسائل میں ہمیشہ لوگوں کے ساتھ مشورہ کرتے تھے۔مگر یہ کہ کسی مورد میں خداوند متعال کی طرف سے خاص حکم آجائے۔بغیر تحقیق کے مطابق بیان کرنا ،کسی بھی بعد میں مبالغے سے کام لینا اور بے جا کسی کی تعریف کرنے کو سخت نا پسند فرماتے۔ہر چیز کو حقیقت کی نگاہ سے دیکھنا اور سخت ترین کاموں کی انجام دہی کو خوشی سے قبول کرنے والے افراد کے شیفتہ تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور لوگوں کے درمیان کسی قسم کا پردہ نہیں تھا سب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا نزدیکی سمجھتے تھے۔کبھی ایسا ہوتا کہ کوئی بڑھیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گھنٹوں کھڑا رکھتی اور اپنی مشکلات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیان کرتی رہتی تھی۔قیدیوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہایت اچھا سلوک کرتے۔جنگ بدر کے قیدیوں کے بارے میں کئی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ان کے لئے کھانے پینے اور کپڑوں کا ویسے ہی خیال رکھو جیسے اپنے لئے رکھتے ہو۔
قرآن مجید کے فرمان کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امی ہیں ہیں لیکن مختصر زمانے کے لیے بھی جامعہ اسلامی کے تعلیم یافتہ ہونے کے لئے کوئی موقع ضائع نہیں کرتے تھے۔جیسے جنگ بدر کے وہ اسیر جو پڑھنا لکھنا جانتے تھے ان کے ساتھ آزادی کی شرط ہیں یہ رکھی کہ تم میں سے جو بھی دس مسلمانوں کو پڑھنا لکھنا سیکھ آئے گا وہ آزاد ہے۔
پوری زندگی کسی بھی واقعے یا حادثے کی نسبت یا کسی جنگ میں ان کے چہرے پر اضطراب اور پریشانی کے آثار نہیں دیکھے گئے۔خوشی اور غمی کے موقع پر ہمیشہ اپنے نفس پر مسلط رہتے تھے۔تمام انسانی صفات کا منبع ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر صفت سے آگاہی کے بعد بلا جھجک زبان اعتراف کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔
قرآن پاک میں ایک جگہ یوں بیان کیا گیا ہے ہے جس کا ترجمہ یہ ہے:
"بے شک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خلق عظیم پر فائز ہیں۔"
تبصرے