فاطمتہ زہرا علیھاالسلام نے اپنی مختصر زندگی میں جس قدر اسلامی تعلیمات کی ترویج و تبلیغ فرمائی ان تعلیمات میں سے آپ علیھاالسلام نے سب سے زیادہ اہتمام
فاطمتہ زہرا علیھاالسلام نے اپنی مختصر زندگی میں جس قدر اسلامی تعلیمات کی ترویج و تبلیغ فرمائی ان تعلیمات میں سے آپ علیھاالسلام نے سب سے زیادہ اہتمام عورت کی شرافت اور اس کی حیثیت و کرامت کی حفاظت پر زور دیا۔ آپ علیھاالسلام نے اپنی تبلیغ و ابلاغ اور درس و دروس میں اس امر پر زور دیا کہ عورت کے لیے حجاب لازمی ہے۔ حجاب ہی میں اس کی عفت ، اس کی منزلت کی بقا ہے، کیونکہ سیدہ نساء العالمین اپنی اجتماعی دانش کی اساس پر جامعہ شناسی میں مہارت تامہ دکھتی تھیں۔ جی ہاں! ہر زمانے میں یا اس زمانے میں یہ لاکھوں جرائم اور گناہ جو ہو رہے ہیں وہ بے پردگی اور جسم کی نمود و نمائش ،بے حیائی اور مردوں کے ساتھ مخلوط طرز زندگی کی بنیاد پر ہو رہے ہیں۔ہمارے زمانے میں اسے روشن فکری اور آزادی نسواں اور ماڈریٹ کا نام دیا گیا ہے۔
اگر آپ کو ہمارے اس بات میں شک ہے تو اس اسلامی اور غیر اسلامی دنیا میں جاری ہونے والے یومیہ اور ہفتہ وار جرائد و مجلات پر ایک نظر کر لیجئے تو اس پر فریب پیش رفت و تہذیب و تمدن اور آزادئ خواتین کے ہاتھوں آپ کو ہزاروں انسانی قربانیاں نظر آئیں گی۔یہ جنسی تجاوزات سقط جنین کے جرائم، انتشار اور دوسری تباہ کاریاں اسی بے حجابی اور عورت کی جسمانی نمود و نمائش کے تحائف ہیں۔
یہ بات یاد رکھیں کہ جس دن ایک مسلمان عورت حجاب کی دانشمندانہ مفہوم سے آگاہ ہو جائے گی وہ اپنی سیرت کو پاک و پاکیزہ بنا لے گی۔عفت و حیا کو اپنا گہوارہ بنا لے گی تو دنیا میں یہ نافرمان اور جرائم عشر عشیر بھی باقی رہیں گے اور عورت کو حلال و حرام کی تمیز بھی آ جائے گی۔
اور وہ اپنی شرعی اخلاقی حیثیت کو سنبھال لیے گی کہ اس پر کسی ایک اجنبی مرد کی نگاہ بھی نا پڑے۔نیک اور اپنے دین کی مخالفت کرتے ہوئے اور اپنی نفسانی خواہشات کی اتباع کرتے ہوئے وہ اپنے جسم ،اپنے سر اور چہرے کو سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں مردوں کے لیے بے حجاب چھوڑ دی ہے تو اس سے اس کی اپنی تباہی ہوتی ہے۔
جب ایک مسلمان عورت اپنے حقیقی مفاہیم اور اپنی قیمت اور حیثیت کو زائع کرتی ہے تو ایسے ہے کہ جیسے اس نے اپنی کرامت کو خطرات اثرات کے سپرد کیا ہے۔پھر اس کا کام وہیں پر پہنچا جہاں پہنچنا چاہیے تھا۔
نیچے دی گئ دو حدیثوں میں غور و فکر کریں کہ کس طرح سیدہ نساء العالمین کی ملکوتی گفتگو میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تعجب میں ڈال دیا تھا کہ جب انہوں نے ایک مسلمان خاتون کی تعریف کی کہ ایک مسلمان عورت کو کس طرح ہونا چاہیے؟
ابو نعیم نے اپنی کتاب "حلیۃ الاولیاء" میں نقل کیا ہے کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام سے پوچھا : آپ لوگوں کی نظر میں ایک آزاد اور دانش مند عورت کے نزدیک بہترین و شائستہ ترین چیز کیا ہے؟
جب انس رضی اللہ کہتے ہیں کہ ہم سب نے غور و فکر کیا ،لیکن ہم سے س سوال کا جواب نہ بن سکا۔
اس دوران امام علی علیہ السلام اٹھے اور اپنے گھر تشریف لے گئے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہی سوال حضرت فاطمہ علیہ السلام کے سامنے پیش کیا۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا:ایک نیک اور شائستہ عورت کے لئے بہترین چیز یہ ہے کہ اسے کوئی بیگانا مرد نہ دیکھے اور وہ بھی کسی اجنبی مرد کو نہ دیکھے۔
حضرت امیر المومنین علیہ السلام بارگاہ نبوت میں آ ۓ اور سیدہ نساء العالمین علیہ السلام کا جواب پیش کیا۔پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سن کر ارشاد فرمایا: جو کچھ حضرت فاطمہ علیہ السلام نے فرمایا وہ سچ ہے۔ان کا جواب درست کیوں نہ ہو کیونکہ وہ تو میرے جسم کا حصہ ہیں۔
ابن مغازلی نے اپنی کتاب "مناقب" میں حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ ایک دفعہ ایک نابینا آدمی نے حضرت فاطمہ الزہرا علیہ السلام کی بارگاہ میں درخواست کی کہ ان کے حضور حاضر ہونا چاہتا ہے۔حضرت فاطمتہ الزہرا علیہ السلام نے پہلے پردہ کیا اور پھر اسے اجازت دی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام سے پوچھا: فاطمہ جان! یہ مرد نابینا ہے،یہ آپ علیہ سلام کو دیکھ نہیں سکتا۔پھرآپ علیہ السلام نے پردہ کیوں کیا ہے؟
آپ علیہ السلام نے جواب دیا: جی ہاں بابا جان! ٹھیک ہے وہ مجھے نہیں دیکھ سکتا میں تو اسے دیکھ سکتی ہوں۔میں اپنی کرامت اور وقار کے بنا پر یہ سمجھتی ہوں۔وہ قوت شامہ تو رکھتا ہے میں نہیں چاہتی کہ میرے جسم کی خوشبو ایک بیگانے کے مشام میں جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ "آپ علیہ السلام میرے جسم کا ٹکڑا ہیں۔"

تبصرے