امام رضا علیہ السلام ہمارے آٹھویں امام ہیں۔ اس میں کوئی شک و شبہ ہی نہیں کہ آئمہ معصومین علیہ السلام مال دنیا کے بارے میں سب سے زیادہ زاہد ا...
امام رضا علیہ السلام ہمارے آٹھویں امام ہیں۔ اس میں کوئی شک و شبہ ہی نہیں کہ آئمہ معصومین علیہ السلام مال دنیا کے بارے میں سب سے زیادہ زاہد اور زر و سیم سے بے اعتناء تھے۔ اور اس کی چمک و دھمک سے سب سے زیادہ گریزاں تھے۔ لیکن ان کی نظر میں پارسائی صرف سادہ لباس اور سادہ غذا کھانے تک محدود نہیں تھی بلکہ اس سے وسیع تر مفہوم رکھتی تھی۔
لیکن حقیقت میں زاہد وہ ہوتا ہے جو کہ دنیاوی خوشیوں اور لذات کو اپنی جان پر حکومت نہ کرنے دے۔ نشر الدرر نامی کتاب میں راوی کہتا ہے۔ صوفیوں کا ایک گروہ امام رضا علیہ السلام کے حضور خراسان میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا: کہ خلیفہ مامون الرشید نے اس عہدہ کے بارے میں جو خداوند نے ان کو دیا ہے بہت غور وفکر کرنے کے بعد یہ نتیجہ نکالا ہے کہ آپ اہل بیت علیہ السلام تمام لوگوں سے زیادہ امامت اور رہبری کا حق رکھتے ہیں۔ پھر اس نے اہل بیت میں سے دیکھا کہ آپ سب سے زیادہ سزاوار ہیں اسی بنا پر وہ خلافت کی زمہ داری آپ کو لوٹانا چاہتا ہے کہ ان کا پیشوا اور رہبر سادہ لباس پہنے اور معمولی غذا کھائے اور عام سی سواری پر بیٹھے۔
راوی نے کہا کہ یہ سن کر امام رضا علیہ السلام تکیہ کا سہارا چھوڑ کر سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا: حضرت یوسف پیغمبر علیہ السلام ہونے کے باوجود ان کی عباشاہانہ تھی اور اس کے بٹن سنہری تھے اور فرعون کے دربار و مجلس میں ان کی اعلیٰ پشتیوں پر تکیہ دے کر بیٹھتے تھے۔ وای ہو تم پر! صرف اپنے امام سے عدل و انصاف کی امید رکھو کہ اگر کلام کرے تو سچ ہو۔
اگر کوئی بھی حکم کرے تو عدل و انصاف کے مطابق ہو ۔ اور وعدہ کرے تو پورا کرے۔
اگر چہ آپ کی عظمت میں مقام امامت ہی آپ کے لیے کافی ہے، اس لیے کہ یہ عہدہ الٰہی ، امام کی عظمت کو آشکار اور روشن کر رہا ہے۔ بزرگان دین کے کلمات بھی اس بارے میں لوگوں کے عام لوگوں کے اذہان کو بہت ہی متاثر کرتے ہیں۔ مامون الرشید جو خود بھی بہت بڑا دانشور تھا اگرچہ اس کا شمار امام رضا علیہ السلام کے مخالفین میں ہوتا ہے باوجود اس کے حضرت امام رضا علیہ السلام کے بارے میں یوں کہتا ہے:۔"میں اس وقت اس شخصیت سے بہتر کرہ ارض میں کسی کو نہیں جانتا۔
جمال الدین احمد بن علی نسابہ جو کہ ابن عنبہ کے نام سے مشہور ہیں وہ کہتے ہیں:۔
"امام رضا علیہ السلام جن کی کنیت ابو الحسن ہے وہ ابو طالب علیہ السلام کی اولاد میں سے اپنے زمانے میں بے مثل تھے۔"
اسی طرح ذہنی جو اہل بیت علیہ السّلام سے منحرف ہونے کی بنا پر بہت مشہور ہے وہ بھی امام رضا علیہ السلام کے بارے میں کہتا ہے:.
"وہ اپنے زمانے میں بنو ہاشم میں سب سے زیادہ بلند تھے۔ ان سے کوئی بھی عاقل اور بردبار نہ تھا۔"
ابو صلحت جو خود اپنے زمانے میں ایک بلند شخصیت تھی وہ فرماتے ہیں:
"علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام سے زیادہ میں نے دانا تر کسی کو نہیں دیکھا۔ جس دانش مند نے بھی ان کو دیکھا میری مانند اس نے بھی ان کی گواہی دی۔"

تبصرے