ہماری گفتگو اور روۓ سخن قرآن مجید کی نظر میں غرور و تکبیر ہے لہذا تکبیر و خود پسندی کی مذمّت و فروتنی کی مدح کو سمجھنے کے لیے ہم ...
ہماری گفتگو اور روۓ سخن قرآن مجید کی نظر میں غرور و تکبیر ہے لہذا تکبیر و خود پسندی کی مذمّت و فروتنی کی مدح کو سمجھنے کے لیے ہم سورہ لقمان کی طرف رجوع کرتے ہیں جس کی آیات ہمارے موضوع کے عین مطابق اور آداب معاشرت کے حوالے سے قرآن کریم حکیم کا ایک اہم باب ہے:۔
ارشاد ہوتا ہے جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے۔
" بیٹا بے اعتنائی کے ساتھ لوگوں سے روگردانی نہ کرو اور غرور کے ساتھ زمین پر نہ چلو کیونکہ خدا کسی متکبر اور مغرور کو دوست نہیں رکھتا، بیٹا چلنے میں اعتدال اور میانہ روی کو پیش نظر رکھو اپنی آواز کو دھیما رکھو (اور ہرگز اونچی آواز سے نہ بولو) کیونکہ بدترین آواز گدھوں کی آواز ہے۔
(سورہ لقمان 18-19)
حکیم لقمان سب سے پہلے تواضع، فروتنی اور خندہ پیشانی سے پیش آنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہتے ہیں:
"بے اعتنائی کے ساتھ لوگوں سے روگردانی نہ کرو اور مغرورانہ انداز میں روۓ زمین پر نہ چلو کیونکہ خدا کسی متکبر اور مغرور کو دوست نہیں رکھتا۔"
آیت میں موجود لفظ "تصور" صعر کے مادہ سے ہے جو دراصل ایک قسم کی بیماری ہے جو اونٹ کو لاحق ہوتی ہے جس سے وہ اپنی گردن ٹیڑھی کرتا ہے " مرح" نعمت سے پیدا ہونے والے غرور اور مستی کے معنی میں ہے "مختال" ایسے شخص کے معنی میں سے ہے جو دوسروں پر اپنی بڑائی جتاۓ "فخور" فخر کے مادہ سے نکلا ہے اور اس کے معنی ہیں جو شخص دوسرے کے مقابل فخر اور ناز کرتا ہے البتہ"مختال" اور " فخور" میں فرق یہ ہے کہ " مختال" کا تعلق ذہن میں پیدا ہونے والے متکبرانہ خیالات سے ہوتا ہے اور "فخور" کا تعلق تکبیر آمیز اعمال سے ہے، اس طرح سے حکیم لقمان یہاں دو بری اور ناپسندیدہ صفات کی طرف (جو معاشرہ کے منظم و مضبوط روابط کے منقطع ہونے کا سبب ہیں) ارشارہ کرتے ہیں ایک تو تکبیر اور بے اعتنائی اور دوسری خود پسندی اور غرور ہے ۔
یہ دونوں ناپسندیدہ صفات مشترک ہیں جو انسان کو توہم خیال اور اپنے آپ کو برتر اور بالاتر سمجھنے کی دنیا میں غلطیاں کرتی ہیں اور دوسروں سے اس کے روابط کو منقطع اور ختم کرنے کا باعث بنتی ہیں، خصوصاً "صعر" کے اصلی اور لغوی مادہ کو مدنظر رکھتے ہوئے واضح ہو جاتا ہے کہ اس طرح کی ناپسندیدہ صفات ایک قسم کی نفساتی اور اخلاقی بیماری اور تشخیص و تفکر میں ایک قسم کی بے راہ روی ہے۔
ورنہ روح اور نفس کے لحاظ سے ایک صحیح و سالم انسان کبھی بھی اس قسم کے تصورات اور خیالات میں گرفتار نہیں ہوتا۔ یہ بات کہے بغیر واضح ہے کہ"حکیم لقمان" کی مراد صرف لوگوں سے روگردانی کرنا، منہ پھیرنا یا مغرورانہ انداز میں اکڑ کر چلنا ہی نہیں بلکہ تکبیر اور غرور کے تمام انواع و اقسام کے ساتھ نبردآزما ہونا بھی ہے۔
بعد والی آیت میں دو دیگر اخلاقی پروگرام بیان کۓ ہیں، "بیٹا! چلنے پھرنے میں اعتدال اور میانہ روی کا راستہ اختیار کرو اور بات کرنے میں بھی اعتدال کو مدنظر رکھو اور آواز دینے میں بھی آہستگی اختیار کرو، اور شور مچا کر بلند آواز سے نہ پکارو کیونکہ بدترین آواز گدھوں کی ہے۔"
تبصرے