حضرت علی علیہ السلام اور قرآن مجید

قرآن مجید اللہ تعالی کی آخری کتاب ہے اور یہ وہ عظیم کتاب ہے کہ باطل آگے سے اس پر حملہ آور ہو سکتا ہے اور نہ ہی پیچھے سے اس پر حملہ کر سکتا ہ...

قرآن مجید اللہ تعالی کی آخری کتاب ہے اور یہ وہ عظیم کتاب ہے کہ باطل آگے سے اس پر حملہ آور ہو سکتا ہے اور نہ ہی پیچھے سے اس پر حملہ کر سکتا ہے۔ قرآن خدا کا کلام ہے۔ قرآن کریم انسانی خواہشات کی پیروی نہیں کرتا اور نہ ہی کسی کے جذبات کی اتباع کرتا ہے۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک متفق حدیث ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں، اللہ کی کتاب اور اپنی عترت اہل بیت علیہ السلام۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے ہرگز جدا نہ ہوں گے جب تک کہ میرے پاس حوض پر نہ پہنچ جائیں۔"
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عترت کو قرآن کے ساتھ ملایا اور قرآن مجید کو عترت کے ساتھ شامل کیا اور پھر ان دونوں کے متعلق پوری تاکید کرکے فرمایا:
"یہ دونوں ایک دوسرے سے کبھی بھی جدا نہ ہوں گے۔"
قرآن مجید عترت کے موافق ہے اور عترت قرآن کے زیر سایہ زندگی بسر کرتی ہے، ایسی لئے قرآن اورعترت میں کوئی اختلاف اور تضاد موجود نہیں ہے۔ قرآن و عترت کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔
کیا یہ ممکن ہے کہ قرآن اپنے ساتھی اور عدیل کے متعلق خاموش رہے اور اس میں عترت کی طرف اشارہ تک بھی موجود نہ ہو؟؟؟؟؟؟؟
ایسا تصور کرنا ناممکن ہے، کیوں کہ قرآن مجید میں ہر چیز کا واضح بیان موجود ہے اور یہ چیز خلاف عقل ہے کہ اس میں باقی تو سب کچھ ہو لیکن اس کے عظیم خاندان اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عترت کا ذکر نہ ہو اور قرآن مجید عترت کے سردار امیر المومنین علیہ السلام کے ذکر سے خالی ہو؟
یہ بات ناممکن ہے کہ قرآن میں حضرت علی علیہ السلام کا ذکر نہ ہو جس نے تمام اسلامی غزوات میں قائدانہ کردار ادا کیا ہو اور جس نے ہر میدان میں اپنی عظمت کے جھنڈے گاڑے ہوں۔
حضرت علی علیہ السلام نے قرآن کے علوم و فنون، احکام اور خصائص کا تعارف کرایا ہے جبکہ قرآن مجید نے حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت اور ان کے مکارم و محاسن اور خصائص کو بیان کیا ہے۔ قرآن مجید نے دل کھول کر حضرت علی علیہ السلام بھی جانثاری اور ایثار کا ذکر کیا ہے۔
قرآن کریم تمام انسانوں کے لیے ہدایت کا چراغ ہے اور حق و باطل کو جدا کرتا ہے۔ قرآن مجید صراط مستقیم کی رہنمائی کرتا ہے۔ قرآن مجید میں موعظہ اور شفا ہے اور اہل ایمان کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔ قرآن کریم مجسم حق ہے اور حق کا داعی ہے۔
حضرت علی علیہ السلام عدیل قرآن ہیں اور آپ علیہ السلام پہلو بہ پہلو قرآن کے ساتھ چلنے والے ہیں۔ آپ علیہ السلام بھی راہ حق کے داعی ہیں اور صراط مستقیم کی ہادی ہیں اور حق و باطل میں فرق کرنے والے ہیں۔ اسی لئے کلام اللہ میں حضرت علی علیہ السلام کے فضائل و مناقب طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ البتہ یہ علیحدہ بات ہے کہ آپ علیہ السلام کے نام کی صراحت نہیں کی گئی کیوں کہ:
"کنایہ تصریح سے زیادہ بلیغ ہوتا ہے۔"
قرآن کریم میں نہ صرف فضائل علی علیہ السلام کے اشارات موجود ہیں،بلکہ اس میں بہت سی آیات بینات پائی جاتی ہیں، جن میں پہلے اہل بیت علیہ السلام کی ثنا کی گئی پھر دوسرے مسلمانوں کی تعریف کی گئی ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ کیا ہی خوب کہا تھا: قرآن مجید میں جہاں بھی یا ایھا الذين آمنوا کی آیات آئی ہے اس نے حضرت علی علیہ السلام کو ہی مومنین کا سالار قرار دیا گیا ہے۔
ابن حجر "صواعق محرقہ" میں لکھتے ہیں کہ ابن عباس کا بیان ہے کہ جب:
"بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے وہ مخلوقات سے بہتر ہیں۔"
اس وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا:
"اے علی علیہ السلام! وہ آپ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے شیعہ ہیں۔ آپ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے شیعہ قیامت کے دن اس حالت میں آئیں گے کہ وہ خدا سے راضی ہوں گے اور خدا ان سے راضی ہوگا اور تیرے دشمن مغضوب بن کر اور زنجیروں میں جکڑے کھڑے ہوئے آئیں گے۔"
علاوہ ازیں قرآن کریم میں ایسی واضح ترین آیات موجود ہیں جو کہ شان اہل بیت علیہ السلام پر دلالت کرتی ہیں۔ حضرت علی علیہ السلام اہل بیت علیہ السّلام کے بزرگ اور سردار ہیں اور آیت مباہلہ، سورہ ھل اتیٰ اور آیت تطہیر اس کی واضح مثالیں ہیں۔ اس کے علاوہ بھی قرآن کریم میں دسیوں ایسی آیات موجود ہیں جن میں اللہ تعالی نے حضرت علی علیہ السلام کی تعریف کی ہے۔ 
چند مفسرین کے علاوہ باقی تمام مفسرین اور محدثین کا اس بات پر اجماع ہے کہ آیت تطہیر حضرت علی علیہ السلام ،حضرت فاطمہ علیہ السلام، حضرت حسن علیہ السلام،حضرت حسین علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ تمام روایات کا مفہوم یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام، حضرت فاطمہ علیہ السلام اور حسنین کریمین علیہ السلام پر اپنی چادر ڈالی اور یہ الفاظ ارشاد فرمائے:
"پروردگار! یہ میرے اہل بیت علیہ السلام ہیں،ان سے ہر طرح کی ناپاکی کو دور رکھ اور انھیں ایسی طہارت عطا فرما جیسا کہ طہارت کا حق ہے۔"

تبصرے

نام

اسلامی تاریخ,10,تاریخی کتب,1,حقوق و فرائض,6,سیرت و فضائل,23,شیعہ عقائد,7,فقہی مسائل,10,کتب,1,Nohay,5,Nohay 2020,5,
rtl
item
فقہ جعفریہ: حضرت علی علیہ السلام اور قرآن مجید
حضرت علی علیہ السلام اور قرآن مجید
فقہ جعفریہ
https://fiqahjafria.blogspot.com/2020/06/blog-post_48.html
https://fiqahjafria.blogspot.com/
https://fiqahjafria.blogspot.com/
https://fiqahjafria.blogspot.com/2020/06/blog-post_48.html
true
3345343407563367532
UTF-8
تمام تحریریں دیکھیں کسی تحریر میں موجود نہیں مزید تحریریں مزید پڑھیں Reply Cancel reply Delete By مرکزی صفحہ صفحات تحریرں View All مزید تحریریں عنوان ARCHIVE تلاش تمام تحریرں Not found any post match with your request واپس مرکزی صفحہ پر جائیں شئیر Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS PREMIUM CONTENT IS LOCKED STEP 1: Share to a social network STEP 2: Click the link on your social network Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy