ابتداء اللہ کے نام سے جو رحمنٰ بھی ہے ،رحیم بھی ہے۔ اللہ نے ہمیں دنیا بھر کی جو نعمتیں عطا کی ہے، اس مرحمت پر اس کی حمد و ثنا۔ اور اس کے فض...
ابتداء اللہ کے نام سے جو رحمنٰ بھی ہے ،رحیم بھی ہے۔
اللہ نے ہمیں دنیا بھر کی جو نعمتیں عطا کی ہے،
اس مرحمت پر اس کی حمد و ثنا۔
اور اس کے فضل سے ذہین و ضمیر کو جو اچھائیاں نصیب ہوئیں،اس کا لاکھ لاکھ شکر!
پھر اس خصوص میں بھی اس کی تعریف اور توصیف کہ اس نے سب کو دیا اور سب کچھ دیا!
پالنے والے نے آغاز حیات ہی سے ہر ایک کو سازوسامان زندگی عطا فرمایا۔
اس کے فیض کی وسعت، دادودہش کی یک رنگی اور لطف عام کا کیا کہنا!
کمال توجہ سے اس کی لگاتار مہربانیاں بھی لائق صد ہزار ستائش ہیں۔
اس کے احساسات کا نہ کسی سے حساب ممکن اور نہ کوئی ان کے شمارات کی سکت رکھتا ہے۔
نیز دامن کرم اتنا پھیلا ہوا ہے کہ پورے طور پر کوئی شکرانہ بھی ادا کرنے کے قابل نہیں!
اور ان نوازشوں کی انتہا کو کون پائے؟آدمی کا تخیل تک اس مقام پر پہنچنے سے قاصر ہے۔
پالنے والے نے اپنی بخشش میں مزید اضافے اور تسلسل کی خاطر سب کو احسان ماننے کی ہدایت فرمائیں۔
اور تکمیل نعمت کی غرض سے آ ئیں تشکر کو معمول بنائے رکھنے کی تاکید کی۔
اس کے علاوہ اس نے ان جیسی نعمتوں کے مکرر حصول کے لیے اپنے بندوں کو سپاسگزار ا ہونے کا حکم دیا۔
میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔
وہ یکتا ہے،بے مثال ہے،اس کا کوئی شریک نہیں۔
اس نے اخلاص کو کلمہ شہادت کا جوہر قرار دیا۔یعنی! اس حقیقت کا اعتراف کہ اس کی ہر خوبی عین ذات ہے۔قادر مطلق نے توحید کے شعور کو دل کی تہوں میں اتارا۔اور اس کے ادراک سے ذہن وخیال کے ایوانوں میں چراغاں کر دیا!
ہماری آنکھوں میں نہ یہ تاب و تواں کہ۔۔۔۔۔۔۔
اس کا دیدار ممکن ہو جائے۔
اور نہ زبانوں کو اتنا یاراں کہ اس کی مدح سرائی کر سکیں!فکر کتنی ہی بلند ہو مگر کیا مجال اس کے عرفان کی منزل تک پہنچ پائے۔
جب کسی چیز کا نام و نشان بھی نہیں تھا،تب اس نے ہر شئے کو وجود دیا۔نمود بخشا!
بغیر کسی نقشے اور نمونے کے اس نے صحن کی گیتی اور بام فلک کی تخلیق فرمائی۔
ہر ہستی کو اس نے اپنی قدرت سے بنایا اور ہر پیکر کو اپنی مشیت سے ایجاد کیا!
دنیا و فیہما کی پیدائش میں نہ اس کی کوئی غرض تھی نا ضرورت!
اور نہ اس "عالم رنگ و بو" کی صورت گری میں اس ذات بے نیاز کا کوئی مفاد مضمر تھا۔
بس! وہ چاہتا یہ تھا کہ
اس کی حکمت عالم آشکار ہو اور ساری خدائی فرض بندگی کو توجہ کا مرکز بنائے۔
پھر تخلیق کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ آفریدگار عالم اپنی ہمہ گیر قدرت کو نمایاں فرما کر یہ بھی جتا دے کہ وہی سب کا آ قا اور دنیا کے تمام لوگ اس کے بندے ہیں۔
ساتھ ساتھ یہ مقصد بھی تھا کہ دین کے پیغام اور خدا شناسی کی دعوت کو استحکام حاصل ہو۔
پھر اس نے اپنی اطاعت کو باعث ثواب!
اور
سرکشی کو لائق تعزیر قرار دیا!
تاکہ
یہ بندے اس کے غیظ و غضب کی زد میں نہ آئیں اور بہشت کی راہوں پر گامزن رہیں۔
تبصرے