جب قریش نے محسوس کیا کہ دین اسلام روز بروز ترقی کر رہا ہے اور ان کا قاصد عمرو بن العاص بھی نجاشی کے دربار سے ناکام ہو کر واپس آ گیا ہے۔تو ان...
جب قریش نے محسوس کیا کہ دین اسلام روز بروز ترقی کر رہا ہے اور ان کا قاصد عمرو بن العاص بھی نجاشی کے دربار سے ناکام ہو کر واپس آ گیا ہے۔تو انہوں نے اپنے سربراہوں کا اجلاس طلب کیا۔جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ وہ بنی ہاشم کے ساتھ کسی قسم کا لین دین نہیں کریں گے اور رشتہ ناتا نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے اپنے اس فیصلے کو لکھ کر کعبہ میں نصب کر دیا۔حضرت ابو طالب بن ہاشم اور بنی عبدالمطلب کو لے کر پہاڑ کی گھاٹی میں چلے آئے۔اس گھاٹی کو شعب ابی طالب کہا جاتا ہے۔اس گھاٹی میں ابو طالب نے تقریبا تین برس کا عرصہ گزارا۔اس کے بعد اللہ تعالی نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہی کے ذریعے بتایا کہ کہ صحیفہ کی عبارت کو دیمک چاٹ چکی ہے۔اس میں صرف اللہ کا نام باقی بچا ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچا ابو طالب کو اس امر کی خبر دی۔ابوطالب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کسی بات میں شک نہیں کرتے تھے۔جیسے ہی انہوں نے یہ خبر سنی تو ف فوراً حرم میں آئے اور قریش نے کہا کہ تمہارے معاہدہ کو دیمک چاٹ چکی ہے۔ اس میں صرف اللہ کا نام باقی رہ گیا ہے۔۔۔۔۔پھر انہوں نے فی البدیہ یہ شعر پڑھے جن کا ترجمہ یوں ہے:
"صحیفہ کے معاملے سے عبرت حاصل کرو۔جب ایک غیر موجود شخص خبر دے تو تعجب ہوتا ہے۔اللہ نے ان کے کفر و نافرمانی کی عبارتوں کو مٹا ڈالا۔ان لوگوں کو حق کے داعی سے ناحق ضد تھی انھوں نے جو کچھ بھی کہا تھا باطل ہوگیا اور جو شخص جھوٹی بات بنائے گا وہ لازمی طور پر جھٹلایا جائے گا۔"
جب تک ابوطالب زندہ رہے کسی کافر کی جرات نہ تھی کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذیت دے سکتا۔لیکن جب ان کی وفات ہوگئی تو کافروں کے لیے میدان صاف ہو گیا اور انہوں نے دل کھول کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تکلیفیں پہنچائی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا جن کا ترجمہ کچھ یوں ہے ۔
"جب تک ابوطالب زندہ رہے قریش مجھے اذیت نہ دیتے تھے۔"
ابو طالب کی فداکاری اور جانثاری کو ہمارے ابن خلدون کے الفاظ ختم کرتے ہیں۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آٹھ برس کے تھے کہ ان کے دادا عبدالمطلب کی وفات ہوئی۔عبدالمطلب نے اپنی وفات سے پہلے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ابو طالب کے حوالے کیا تھا۔ابو طالب نے احسن انداز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پرورش فرمائی۔ابو طالب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے تمام لمحات کو بغور دیکھا کرتے تھے۔انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لڑکپن اور جوانی کا بہت اچھا مشاہدہ کیا اور انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دور جہالت کے تمام رسومات سے دور رہا کرتے تھے۔ہجرت کے تین برس قبل ابوطالب اور حضرت خدیجہ علیہ السلام کی وفات ہوئی۔شفیق چچا اور فداکار زوجہ کی وفات رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بہت بڑا صدمہ تھا۔ابو طالب کے خوف سے سہمے ہوئے قریشوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ستانا شروع کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جائے نماز پر غلاظت ڈالی گئی۔
حضرت علی علیہ السلام کے والد ماجد کی فداکاری کی مختصر سی تاریخ کی اور حضرت علی علیہ السلام کی والدہ ماجدہ نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسلام کو پھیلانے میں بہت مدد کی جن کو بیان نہیں کیا گیا۔ان کی عظمت کی یہی بات ہی کافی ہے کہ جب ان کی وفات ہوئی تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے کفن کے لیے اپنی قمیض اتار کر دی اور جب قبر تیار ہوئی تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چچی کے جنازہ سے پہلے خود لحد میں اترے۔لحد کی مٹی کو اپنے ہاتھوں سے درست فرمایا اور کچھ دیر تک اپنی چچی اماں کے جنازہ کے ساتھ لحد میں لیٹے رہے۔
حضرت ابوطالب علیہ السلام جیسے عاشق رسول اور فاطمہ بنت اسدجیسی فداکار شخصیت کی گود میں حضرت علی علیہ السلام پلے بڑھے ے اور جب ذرا بڑے ہوئے تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت خدیجہ علیہ السلام نے ان کی پرورش کی۔
تبصرے