امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ "احرام ان پانچ مواقیت میں سے کسی ایک میں میقات سے باندھا جاتا ہے جن مواقیت کو رسول اکرم صلی ا...
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
"احرام ان پانچ مواقیت میں سے کسی ایک میں میقات سے باندھا جاتا ہے جن مواقیت کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمایا ہے۔حج اور عمرہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان مواقیت سے پہلے احرام حج جا احرام عمرہ باندھ لے۔ان مواقیت کے بعد نہیں باندھنا چاہیے۔پیغمبر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ جو بھی وہی ہے جن کو میقات قرار دیا ہے۔پس حج ادا کرنے والے یا عمرہ ادا کرنے والے کو چاہیے کہ اس میقات پر دو رکعت نماز ادا کرے اور حج کا آغاز احرام باندھ کر کر ے۔اور شام سے آنے والے لوگوں کے لیے جعفہ کو میقات قرار دیا ہے ہے اور اہل نجد د کے لیے عقیق کو میقات قرار دیا ہے ہے اور اہل طائف ایف کے لئے قرآن المنازل کو میقات قرار دیا ہے۔اور اہل یمن کے لئے یلملم کو میقات قرار دیا ہے۔اور کسی بھی عازم کے لئے جائز نہیں ہیں کہ ان مواقیت کو ترک کرے کیوں کہ مواقیت خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے معین معین کئے ہیں۔"
حر م الہی میں داخل ہونے کے لیے کچھ آداب بیان ہوئے ہیں ہیں یعنی حرم الہٰی بھائی نے میں داخل ہونے والے عازمین کو ایک خاص نکتے کی طرف ہدایت دی گئی ہے کہ وہ صرف صرف انہیں نکات سے حرم الہی میں داخل ہوں۔ان جگہوں ہو اور ان نکات کو حرم الہی کے میقات کہتے ہیں۔جس طرح سے ہر گھر میں داخل ہونے کے لئے ایک دروازہ ہوتا ہے اور گھر کے اندر گھر آنے کے لیے اسی دروازے کو استعمال کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے کہ گھر کی عزت و ناموس کی حفاظت کی جاسکے۔
اگر آنے والے کو دروازے کے لیے ہدایت نہ کی جاتی تو ممکن تھا وہ دیوار پھلانگ کر،روشن دان کے ذریعے یا کھڑکی کے ذریعے گھر میں داخل ہوجاتا۔جس سے گھر کی عزت و ناموس خاک میں مل جاتی ہے۔اسی طرح خداوند متعال کی گھر میں داخل ہونے کے لئے بھی دروازے رکھے گئے ہیں تحقیق اس گھر کی عزت اور ناموس پر کوئی آنچ نہ آنے پائے۔
بعض روایات میں ہے کہ خداوند متعال کے دروازے پر اس طرح دستک دو جس طرح سے ایک دھتکارا ہوا شخص واپس آ کر گڑگڑا کر دروازے پر دستک دیتا ہے۔اور جب کوئی سچے دل کے ساتھ توبہ کرنے کے بعد خداوند متعال کے دروازے پر دستک دیتا ہے تو خداوندمتعال کی ذات ایسی کریم ہے کہ فوراً اس کے لیے دروازے کھول دیتی ہے۔
اگر انسان اپنے ارادے سے میقات میں داخل ہوا ہے تو غیر خدا کی محبت اس کے دل سے محو ہو جائے گی۔پھر اس کے لیے اس سفر کی مشکلات آسان ہوجائیں گی۔اس کے لئے اسے چاہئے کہ اپنے جسم کے ساتھ ساتھ اپنے دل کو بھی میقات میں لے کر آئے۔کیوں کہ اگر اس کا جسم میقات میں ہو اور اس کا دل وطن میں رہ گیا ہو تو پھر بھی وہ معنوی طور پر میقات میں نہیں آتا۔لیکن یہ ہو سکتا ہے کہ اس کا جسم تو وطن میں ہو لیکن اس کا دل اور روح میقات میں داخل ہو چکی ہو۔اور پھر طواف کعبہ اور صفا و مروہ کے درمیان سعی بھی انجام دے رہی ہو۔پس میقات میں انسان کو جسم اور روح دونوں کے ساتھ داخل ہونا چاہیے۔
تبصرے