اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرما رہا ہے اس کا ترجمہ یہ ہے: "یقیناً اللہ نے جنت کے عوض اہل ایمان سے انکی جانوں اور ان کے اموال کو خری...
اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرما رہا ہے اس کا ترجمہ یہ ہے:
"یقیناً اللہ نے جنت کے عوض اہل ایمان سے انکی جانوں اور ان کے اموال کو خرید لیا ہے۔وہ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں اور قتل کرتے ہیں اور قتل ہوتے ہیں۔"
(سورۃ توبہ: آیت 111)
اسلام وہ واحد دین ہے جو کہ امن و سلامتی کا محافظ ہے۔ وہ دیگر ادیان کی بہ نسبت لوگوں کے جان و مال اور حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔ چنانچہ انسان کے خون کو ناحق بہانا اور ان سے زندگی کی نعمت چھیننا اسلام کی نظر میں انتہائی ناپسندیدہ ترین عمل ہے۔ البتہ اگر کوئی بدبخت انسانی سعادت کے راستے کو روکنے پر بضد ہو تو پھر اسلام ایسے شخص کے خون بہانے کو جائز قرار دیتا ہے۔
اس کی مثال یوں سمجھ لیں کہ کسی شہر میں مختلف بیماریاں پائی جائیں جن سے لوگوں کی جان کو خطرہ ہو اور ایک طبیب خداترس کرتے ہوئے اس شہر میں آ جائے اور لوگوں کو مفت دوا فراہم کرنے لگے اور لوگ اس کی دوا سے صحت یاب ہو رہے ہوں۔
پھر کچھ اشرار کا گروہ نمودار ہو، جو معالج کو علاج سے منع کرے اور اس سے جنگ شروع کر دے اور طبیب انھیں سمجھاۓ کہ تم لوگ اپنی حرکات سے باز آ جاؤ یہاں کی عوام میں صحت و عافیت تقسیم کر رہا ہوں۔ میری تو کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ میں تمہارے شہر کو بیماری سے پاک کرنا چاہتا ہوں۔
مگر اشرار کا گروہ دھمکیوں پر اتر آئے اور شفا حاصل کرنے کے لئے جو لوگ معالج کے پاس جانا چاہتے ہوں ان سے لڑائی پر آمادہ ہو جائے اور وہ گروہ لوگوں کی صحت و سلامتی دیکھ کر کسی قیمت پر راضی نہ ہو تو عقل کا فیصلہ یہی ہے کہ اشرار کے اس گروہ کو نابود کر دیا جائے۔
اس وقت کا جاہلی ماحول بیماری میں مبتلا تھا اور اللہ تعالی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کا طبیب مقرر کیا تھا۔ مکہ کے اشرار نے طبیب سے اتنی بدسلوکی کی کہ انہیں مکہ سے ہجرت کرنا پڑی تھی۔
ان لوگوں نے خدا کے مقرر کردہ طبیب کو مکہ میں قتل کرنے کا منصوبہ بنا لیا تھا لیکن خدا نے ان کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی جنم دھرتی کو چھوڑ دیا تاکہ دعوت اسلام کو جاری رکھا جا سکے لیکن دشمنوں نے یہاں بھی پیچھا نہ چھوڑا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے چراغ کو گل کرنے کے منصوبے بنائے اور اس کے لیے باقاعدہ جتھہ بندی کی گئی اور ان کا اول و آخر ہدف یہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے پیروکاروں کا دنیا سے خاتمہ کردیا جائے۔
ان حالات میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ضروری ہو گیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دوستوں کو جمع کرکے دشمنوں کا مقابلہ کریں۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوستوں میں مکہ کے مہاجر اور مدینہ کے انصار تھے۔ ان میں بوڑھے، پختہ عمر اور جوان ہر طرح کے افراد تھے اور ان سب میں ایک چیز مشترک تھی اور وہ اسلام کی محبت تھی۔ اور ان کے پاس مادی ہتھیار کم تھے جب کہ وہ ایمان کے ہتھیاروں سے مکمل طور پر مصلح تھے، لیکن ابھی تک زندگی سے پیار ان کے دلوں میں موجود تھا لہذا موت کی گھاٹی میں اترنا ان کیلئے انتہائی مشکل تھا اور تیروں اور تلواروں کے سامنے اپنے سینوں اور گردنوں کو پیش کرنا انہیں فی الحال دشوار دکھائی دیتا تھا کیونکہ وہ کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے کہ ان کی تعداد بہت کم ہے۔ جبکہ دشمن کی افرادی قوت بھی زیادہ ہے اور وہ ہتھیاروں سے بھی پوری طرح مسلح ہیں۔
مسلمانوں کی کفار سے باقاعدہ پہلی جنگ بدر میں ہوئی تھی۔ یہ مقام مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا لشکر لے کر وہاں پہنچے۔ادھر سے مکہ کے مشرکین کی فوج بھی وہاں آ گئ۔ ادھر سے مسلمانوں کی تعداد 313 افراد پر مشتمل تھی۔ جبکہ مشرکین کی تعداد 900 سے 1000 افراد پر مشتمل تھی۔ اس جنگ میں ابو جہل جیسے سرکردہ افراد بھی شامل تھے اور انہیں اپنی قوت بازو پر یقین تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ انہیں کامیابی حاصل ہوگی لیکن خدا کا ارادہ کچھ اور تھا۔
تاریخ بیان کرتی ہے کہ کئی بار چھوٹے گروہ اللہ کے حکم سے بڑے گروہوں پر غالب آئے ہیں۔ اسلام کی اس پہلی جنگ میں حضرت علی علیہ السلام نے قائدانہ کردار ادا کیا تھا۔ آپ علیہ السلام نے کفار کے بہادروں کو پچھاڑا اور ان کے دلیروں کو قتل کیا۔
میں یہ نہیں کہنا چاہتی کہ حضرت علی علیہ السلام خون بہانے کے عادی تھے۔ اس سے میرا مقصد یہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کا خدا پر پورا یقین تھا اور انہوں نے تمام غزائز کو پس پشت ڈال کر موت کی وادی میں قدم رکھا تھا۔ اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر قریباً 24 برس تھی اور اس عمر کا شخص بھرپور جوان ہوتا ہے۔ فطری طور پر جوان کی زندگی سے زیادہ محبت ہوتی ہے، جب کے پختہ عمر کا شخص زندگی سے کچھ زیادہ پیار نہیں کرتا۔ لیکن اس کے باوجود دنیا نے دیکھا کہ علی علیہ السلام خوف سے بالکل ناآشنا ہیں اور بزدلی کبھی ان کے قریب سے بھی نہیں گزری اور وہ سینہ تان کر موت کا استقبال کرتے ہوئے دکھائی دیئے۔ آپ علیہ السلام نے جنگ میں دشمن کی طرف یوں پیش قدمی کی جیسا کہ اپنی کسی پسندیدہ چیز کو تلاش کرنے چلے ہوں۔ آپ علیہ السلام نے شجاعت و حمیت کا وہ مظاہرہ کیا کہ تمام مورخین مسلم و غیر مسلم کو یہ کہنا پڑا کہ عرب و عجم میں حضرت علی علیہ السلام سے بڑا بہادر کوئی نہیں ہے۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں جو غزوات واقع ہوئی تھیں اس کا ایک نمونہ تھا۔ تمام غزوات میں حضرت علی علیہ السلام نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ آپ علیہ السلام دشمن کے تیر اور نیزے سے کبھی خوفزدہ نہیں ہوئے تھے۔ آپ علیہ السلام کا پورا جسم زخموں سے چور چور ہو جاتا تھا پھر بھی آپ علیہ السلام جنگ جاری رکھتے تھے۔اگر خدا کی حفاظت آپ علیہ السلام کے شامل حال نہ ہوتی تو ان غزوات میں آپ علیہ السلام کی شہادت یقینی تھی۔
ابن ابی الحدید لکھتے ہیں:
جہاں تک جہاد فی سبیل اللہ کا تعلق ہے تو حضرت علی علیہ السلام کے جہاد کو دوست دشمن سب تسلیم کرتے ہیں اور سب یہ مانتے ہیں کہ آپ علیہ السلام سید المجاہدین تھے۔ کیا عہد پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں آپ علیہ السلام سے بڑھ کر کسی اور نے جہاد کیا تھا؟
تاریخ میں موجود ہے کہ بدر کبریٰ کی جنگ انتہائی فیصلہ کن جنگ تھی۔ اس جنگ میں ستر مشرک قتل ہوئے۔ مقتولین کی نصف تعداد کو حضرت علی علیہ السلام نے تن تنہا قتل کیا تھا اور باقی آدھی تعداد کو تمام مجاہدین اور ملائکہ نے مل کر قتل کیا تھا۔
جنگ بدر کے علاوہ جنگ احد، جنگ خندق،خیبر و حنین میں بھی آپ علیہ السلام نے جان پر کھیل کر اسلام کی عزت کا تحفظ کیا تھا۔
تبصرے