ہر انسان کی شخصیت ایک حد تک اس کے خاندان اور اپنے ماں باپ کے اخلاق اور جس ماحول میں وہ نشونما پاتا ہے اس سے اس کی زندگی وابستہ ہوا کرتی ہے،م...
ہر انسان کی شخصیت ایک حد تک اس کے خاندان اور اپنے ماں باپ کے اخلاق اور جس ماحول میں وہ نشونما پاتا ہے اس سے اس کی زندگی وابستہ ہوا کرتی ہے،ماں باپ ہی ہوتے ہیں جو کسی انسان کی شخصیت کی داغ بیل ڈالتے ہیں اور اسے اپنے روحی قالب اور اخلاق میں ڈھال کر معاشرہ کے سپرد کرتے ہیں درحقیقت ہر ایک فرزند اپنے ماں باپ کے اسوہ کا آئینہ دار ہوتا ہے۔
پیدائش کی تاریخ:
جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کی پیدائش کی تاریخ میں علماء کے درمیان اختلاف ہے لیکن علماء شیعہ کے درمیان مشہور ہے کہ آپ سلام اللہ علیہا جمعہ کے دن 20 جمادی الثانی بعثت کے بعد پانچویں سال میں پیدا ہوئیں۔
محمد بن یوسف حنفی نے اپنی کتاب درالسمطین کےصفحہ نمبر ایک سو پچھتر پر لکھا ہے کہ فاطمہ سلام اللہ علیہا اس سال پیدا ھوئیں کہ جس سال خانہ کعبہ کی تعمیر میں مشغول تھے اور اس وقت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سن مبارک پینتیس سال کا تھا۔
ابو بصیر نے روایت کی ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ فاطمہ سلام اللہ علیہا بیس جمادی الثانی کو جبکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی 35 سال کی عمر مبارک تھی اس دنیا میں تشریف لائیں، آٹھ سال تک باپ کے ساتھ مکہ میں رہیں،دس سال تک باپ کے ساتھ مدینہ میں زندگی گزاری، باپ کے بعد 75 دن زندہ رہیں اور 3 جمادی الثانی 11 ہجری کو وفات پاگئیں۔
ماں کا دودھ:
جب جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو ایک پارچہ میں لپیٹ کر جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا بہت خوش ہوئیں اپنے پستانوں کو تازہ مولود کی چھوٹے سے منہ میں دے کر اپنے عمدہ اور بہترین دودھ سے سیراب کیا اور یہ ایک ایسا رویہ تھا جس نے فاطمہ سلام اللہ علیہا نے اچھی طرح نمو اور رشد پایا۔
جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا کی خود پسند اور نادان عورتوں میں سے نہ تھیں کہ جو بغیر کسی عذر اور بہانے کے اپنے نومولود کو ماں کے دودھ سے محروم کر دیتی ہیں۔
جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کی شادی:
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خداوندعالم کی طرف سے مامور تھے کے نور کا عقد نور سے کریں۔
حضرت علی علیہ السلام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر ہی پلے اور جوان ہوئے تھے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کو اچھی طرح پہچانتے تھے اور آپ کے اخلاق اور نفسیات سے پوری طرح آگاہ تھے،دونوں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا کے تربیت یافتہ تھے اور ایک ہی گھر میں جان ہوئے تھے۔
حضرت علی علیہ السلام جانتے تھے کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا جیسی عورت اور نہیں مل سکے گی آپ تمام کاملات اور فضائل سے آراستہ ہیں اور آپ انہیں تہہ دل سے چاہتے تھے اور یہ جانتے تھے کہ ہمیشہ مناسب وقت ہاتھ نہیں آیا کرتا لیکن اسلام کے بحرانی کیفیت اور مسلمانوں کی اقتصادی زبوں حالی نے حضرت علی علیہ السلام کو اس دلی خواہش سے روک رکھا تھا آپ میں سوائے ازدواج کے تمام افکار موجود تھے۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت جناب ام سلمہ کے گھر تشریف فرما تھے۔حضرت علی علیہ السلام جناب ام سلمہ کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا، پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جناب ام سلمہ سے فرمایا کہ دروازہ کھولو دروازہ کھٹکھٹانے والا وہ شخص ہے جس کو خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوست رکھتے ہیں اور وہ خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دوست رکھتا ہے۔ام سلمہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں کہ یہ کون ہے کہ جسے آپ نے بغیر دیکھے ہوئے اس قسم کا فیصلہ ان کے حق میں کر دیا ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام سلمیٰ یہ ایک بہادر اور شجاع انسان ہے جو میرا چچا زاد بھائی ہیں اور سب لوگوں سے زیادہ میرے نزدیک محبوب ہے جناب ام سلمہ اپنی جگہ سے اٹھی اور گھر کا دروازہ کھول دیا، حضرت علی علیہ السلام گھر میں داخل ہوئے اور سلام کیا اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گئے اور شرم کی وجہ سے سر نیچے کئے ہوئے تھے اور اپنے ارادے کو ظاہر نہ کر سکے، تھوڑی دیر تک دونوں چپ رہے اور آخر کار پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خاموشی کو توڑا اور۔۔۔۔۔فرمایا یا علی گویا کسی کام کے لیے میرے پاس آئے ہو کہ جس کے اظہار کرنے سے شرم کر رہے ہو؟
حضرت علی علیہ السلام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں آپ کے گھر میں جوان ہوا اور آپ کے لطف و کرم سے ہی مستفید کر رہا ہوں آپ نے میری تربیت میں ماں اور باپ سے بھی زیادہ کوشش فرمائی ہے اور آپ کے وجود مبارک کی برکت سے میں نے ہدایت پائی ہے یا رسول اللہ کی قسم میری دنیا اور آخرت کی پونجی آپ ہیں اب وہ وقت آ پہنچا ہے کہ اپنے لئے کسی رفیقہ حیات کا انتخاب کروں،اگر آپ مصلحت دیکھیں تو اپنی دختر جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کو میرے عقد میں دے دیں کہ جس سے مجھے ایک بڑی سعادت نصیب ہو گی۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قسم کی پیشکش کی منتظر تھے آپ کا چہرہ خوشی اور سرور سے جگمگا اٹھا اور فرمایا کہ صبر کرو میں فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے اس کی اجازت لے لوں۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا تم تو بہتر جانتی ہو وہ خواستگاری کے لیے آئے ہیں آیا تم اجازت دیتی ہو کہ میں تمہارا ان سے عقد کر دوں؟ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا شرم کی وجہ سے ساکت رہیں اور کچھ نہیں بولیں ۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سکوت کو رضایت کی علامت قرار دیا۔
پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جواب لینے کے بعد حضرت علی علیہ السلام کے پاس آئے اور مسکراتے ہوئے فرمایا یا علی شادی کے لیے آپ کے پاس کچھ ہے؟ حضرت علی علیہ السلام نے جواب دیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں آپ میری حالت سے پوری طرح آگاہ ہیں آپ میری حالت سے پوری طرح آگاہ ہیں میری تمام دولت ایک تلوار اور ایک زرہ اور ایک اونٹ ہے آپ نے فرمایا کہ تم ایک جنگجو سپاہی اور جہاد کرنے والے ہو بغیر تلوار کے خدا کی راہ میں جہاد نہیں کرسکتے تلوار تمہاری پہلی کھینچ کر اپنے اور اپنے گھر کے اقتصادی اور مالی حالت سنوار سکوں اور مسافرت میں اس پر سامان لاد سکو صرف ایک چیز ہے جس سے صرف نظر کر سکتے ہیں اور وہ ہے تمہاری زرہ، میں بھی تم پر سختی نہیں کرتا اور اسی زرہ پر اکتفا کرتا ہوں۔
بچوں کی تعلیم و تربیت:
جناب زہراء سلام اللہ علیہا کی ذمہ داریوں سے سب سے زیادہ سخت ذمہ داری اولاد کی تربیت تھی۔آپ کے پانچ بچے ہوۓ، جناب امام حسن علیہ السلام ، امام حسین علیہ السلام ،جناب زینب سلام اللہ علیہا، جناب ام کلثوم سلام اللہ علیہا اور پانچوں فرزند کا نام محسن تھا جو ساقط کر دیا گیا، آپ کے دو بیٹے اور دو لڑکیاں زندہ ہیں آپ کی اولاد عام لوگوں کی اولاد کی طرح نہیں تھی بلکہ یوں ہی مقدر ہو چکا تھا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسل مبارک جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے چلے۔
تربیت کی اعلیٰ درسگاہ:
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر میں بچوں کی اسلامی تربیت اور اعلیٰ درسگاہ کی بنیاد رکھی گئی یہ درسگاہ اسلام کی دوسری شخصیت اور اسلام کی خاتون اول کی مدد سے یعنی امام علی علیہ السلام اور بی بی فاطمتہ زہرا سلام اللہ علیہا کی مدد سے چلائی جا رہی تھی اور اسلام کی پہلی شخصیت یعنی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیر نگرانی چل رہی تھی۔ اس میں تربیت کے قواعد اورپروگرام بلاواسطہ پروردگار جہان کی طرف سے نازل ہوئے تھے۔
بچے کی تربیت کی اہم اصول:
(1) محبت
(2) شخصیت
(3) ایمان اور تقوی
(4) نظم اور دوسروں کے حقوق کے مراعات
(5) ورزش اور کھیل کود
فضائل حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا:
پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بہترین عورتیں چار ہیں، مریم دختر عمران، فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا دختر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، خدیجہ بنت خویلد، آسیہ زوجہ فرعون۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بہشت کی عورتوں میں سے بہترین عورت فاطمہ سلام اللہ علیہا ہیں۔
جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب قیامت برپا ہوگی، عرش سے اللہ کا منادی ندا دے گا، لوگو !اپنی آنکھیں بند کرلو تاکہ فاطمہ سلام اللہ علیہا پل صراط سے گزر جائیں۔
(1) پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے فرمایا ہے کہ خدا تیرے واسطے سے غضب کرتا ہے اور تیری خوشنودی کے ذریعہ خوشنود ہوتا ہے۔
(2) جناب عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی کو جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچا نہیں دیکھا۔
(3)جناب ام سلمہ نے فرمایا کہ سب سے زیادہ شباہت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کو تھی۔
(4)پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ فاطمہ سلام اللہ علیہا انسانوں کی شکل میں جنت کی حور ہیں۔
(5)پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ فاطمہ سلام اللّٰہ علیہا سب سے پہلے جنت میں داخل ہو گی۔
(6)امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ فاطمہ سلام اللہ علیھا کا نام فاطمہ اس لئے رکھا گیا ہے کہ لوگوں کو آپ کی حقیقت کے درک کرنے کی قدرت نہیں ہے۔
(7)پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے اللہ نے مجھے اور علی علیہ السلام اور فاطمہ سلام اللہ علیہا اور حسن و حسین کو ایک نور سے پیدا کیا ہے۔
(8)ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پوچھا کے وہ کلمات جو اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کو بتائے اور ان کی وجہ سے ان کی توبہ قبول ہوئی وہ کیا تھے؟ آپ نے فرمایا کہ جناب آدم نے خدا کو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور علی علیہ السلام اور فاطمہ سلام اللہ علیہا اور حسن علیہ السلام اور حسین علیہ السلام کے حق کی قسم دی اسی وجہ سے آپ کی توبہ قبول ہوئی۔
(9)پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر علی نہ ہوتے تو جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کا کوئی ہمسر نہ ہوتا۔
(10)پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب میں معراج پر گیا تو بہشت کی سیر کی میں نے جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کا محل دیکھا جس میں ستر قصر تھے کہ جو لے لو اور مرجان سے بنائے گئے تھے۔
ویسے تو بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہا کے غموں کی طرح ان کے فضائل بھی بہت زیادہ ہیں جن کو میں قلم بند نہیں کرسکتی ان میں سے چند درج بالا میں بیان کر دیے ہیں۔
تبصرے