حضرت عبداللہ کے بارے میں صرف ایک اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ کربلا کیوں نہیں آئے۔کیا آپ نے اس سلسلے میں کوتاہی ک...
حضرت عبداللہ کے بارے میں صرف ایک اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ کربلا کیوں نہیں آئے۔کیا آپ نے اس سلسلے میں کوتاہی کی یا آپ امام حسین علیہ السلام کی تحریک کو نہیں جانتے تھے؟ان سوالات کا جواب یہ ہے کہ آپ دل و جان سے امام حسین علیہ السلام کی تحریک کو قبول کرتے تھے،اس کی دلیل یہ ہے کہ آپ نے اپنی بیوی اور بچوں کو کربلا جانے سے نہیں روکا اور جب آپ علیہ السلام کو اپنے بچوں عون علیہ السلام و محمد علیہ السلام کی شہادت کی خبر ملی تو آپ نے صبر و حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے انا لله وانا اليه راجعون کہا۔یہ سن کر آپ کے غلام نے توہین آمیز لہجے میں کہا یہی ہے جو ہمیں حسین علیہ السلام سے ملا ہے۔عبداللہ کو غلام کے بعد پر شدید غصہ آیا اور آپ نے اسے جوتے سے مارا اور کہا: اے ناپاک اولاد! کیا تو حسین علیہ السلام کے حق میں اس طرح گستاخی سے بات کرتا ہے، خدا کی قسم! اگر میں کربلا میں ہوتا تو شہید ہونے تک حسین علیہ السلام سے جدا نہ ہوتا، خدا کی قسم میں نے خدا کی راہ میں اپنے بیٹوں کو بھیجا اور انہیں حکم دیا ہے کہ وہ حسین علیہ سلام کی رکاب میں جہاد کریں۔
ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت عبداللہ کو غلام کی بات پر اس قدر غصہ آیا کہ آپ نے عصا سے مارنا چاہا لیکن غلام بھاگ گیا اور اس کے بعد عبد اللہ نے اسے اپنے گھر آنے نہیں دیا۔
اس طرح سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ جناب عبداللہ بہ نفس نفیس کربلا میں موجود نہیں تھے لیکن آپ اپنے بیٹوں کو امام حسین علیہ السلام کی حمایت کے لیے بھیجا تھا۔
کچھ تاریخی کتابوں میں مورخین نے کہا ہے کہ آپ ایک شدید عارضہ میں مبتلا ہوگئے تھے اس لیے کربلا نہ جا سکے۔
بہرحال خدا اور اھل بیت علیھم السلام کے نزدیک حضرت عبداللہ علیہ السلام کو عظیم مقام حاصل تھا،آپ کبھی بھی کوئی ایسا کام نہیں کرتے جو حضرت علی یا حسن و حسین علیہ السلام کی ناراضگی کا سبب ہوتا، کربلا میں آپ کا ہونا شاید بعض مصلحتوں کی بنا پر تھا،ان میں ایک مصلحت، اہل بیت عصمت و طہارت کے اہداف کا نفاذ تھا۔
اگر عبداللہ بن عذر اور امام حسین علیہ السلام کے بغیر مشورے کے کربلا سے دور رہتے تو یقینا جناب زینب سلام اللہ علیہا اس بات پر اعتراض کرتیں جب کہ کسی کو اس میں شک نہیں کہ کربلا سے لوٹنے کے بعد حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے حضرت عبداللہ کے ساتھ زندگی گزاری اور کبھی ان پر اعتراض نہیں کیا۔
علامہ جزائری اس سلسلے میں لکھتے ہیں:
ممکن ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے مدینہ میں بنی ہاشم کی حفاظت کے لیے حضرت عبداللہ کو مکہ اور مدینہ میں چھوڑ رکھا تھا کیونکہ یزید اس قدر سنگدل تھا کہ بنی ہاشم کے ایک فرد کو بھی زندہ نہیں چھوڑنا چاہتا تھا اور چونکہ حضرت عبداللہ کا شجاعت اور دیگر فضائل وجہ سے عوام میں احترام تھا اور آپ معاشرے میں اثر رسوخ رکھتے تھے، لہذا حجاز میں آپ کا وجود بنی ہاشم کے لیے بہت ہی اہمیت رکھتا تھا، کیونکہ بنی ہاشم کی حفاظت تشیع اور خاندان نبوت کی طرز فکر کی حفاظت تھی، جس طرح سے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ تبوک موقع پر مدینہ کی عوام کو منافقین کے شر سے محفوظ رکھنے کے لیے حضرت علی علیہ السلام کو مدینہ میں روکے رکھا تھا، یہ بات اگرچہ حضرت علی علیہ السلام کے لئے منافقین کے اعتراض کا سبب ہوئی، لیکن مصلحت اسی میں تھی کہ حضرت علی علیہ السلام علیکم نے میں رہیں۔حضرت عبداللہ جناب زینب سلام اللہ علیہا کے شوہر کے حالات بھی اسی طرح کے تھے۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا شجاع اور ایثار کرنے والے جناب عبداللہ بن جعفر طیار کی زوجہ تھیں،یعنی حضرت جعفر طیار علیہ السلام کی بہو تھیں جو حضرت علی علیہ السلام کے بڑے بھائی تھے اور جن کی شہادت جنگ موتہ ہوئی تھی، حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے شوہر کی ماں نیک اور اہل بیت کے مخلص شیعوں میں سے تھیں ان کا نام اسماء بنت عمیس تھا، آپ کا شمار جناب فاطمہ علیہ سلام اللہ علیہا کی خاص کنیزوں میں تھا۔انہوں نے حضرت فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کے بعد آپ کی اولاد کے حق میں ماں کا کردار ادا کیا، اسماء بنت عمیس نے جعفر طیار کی شہادت کے بعد ابوبکر سے نکاح کیا، اور ابوبکر سے انہیں ایک مبارک اور با برکت اولاد نصیب ہوئی، جن کا نام محمد بن ابوبکر تھا، حضرت علی علیہ السلام نے ان کے حق میں فرمایا: "محمد، ابوبکر کے صلب سے میرا بیٹا ہے۔"
جناب محمد بن ابوبکر،حضرت علی علیہ السلام کے مقدس ہدف کی راہ میں مصر میں، حضرت کے کینہ پرور دشمنوں کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ اسماء ابو بکر کی وفات کے بعد حضرت علی علیہ السلام کے نکاح میں آئیں، اسماء سے حضرت علی علیہ السلام کے دو بیٹے، عون اور یحییٰ پیدا ہوئے جو امام حسین علیہ السلام کے ساتھ کربلا میں شہید ہوئے۔
تبصرے