خداوندعالم فرماتے ہیں کہ: "اور نماز قائم کرو، یقیناً نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔اور ضرور اللہ تعالی کی یاد سب سے بڑھ کر ہے اور...
خداوندعالم فرماتے ہیں کہ:
"اور نماز قائم کرو، یقیناً نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔اور ضرور اللہ تعالی کی یاد سب سے بڑھ کر ہے اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اسے جانتا ہے۔"
وہ مومنین کامیاب اور خوش نصیب ہیں جو نماز دل لگا کر پڑھتے ہیں اور خدا سے رکھتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص نماز پابندی سے پڑھے اور نماز کی حالت میں اس کا دل اللہ کے خوف سے دھڑکتا رہے ایسے ہی شخص کو کامیابی نصیب ہوگی اور خدا ایسے ہی شخص سے خوش ہو گا۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:
(1)"نماز دین کا ستون ہے۔"
(2)روز قیامت اعمال میں سے سب سے پہلے نماز کو دیکھا جائے گا اگر یہ درست ہوئی تو دوسرے اعمال پر نظر کی جائے گی۔"
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:
"بے شک ہماری شفاعت اسے نہیں پہنچے گی جو نماز کو حقیر جانے گا۔"
امام جعفر صادق علیہ السلام نے مومن کی جو نشانیاں بتائی ہیں ان میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مومن دن رات میں ا51 رکعت نماز ادا کرتا ہے جن میں شامل ہیں تہجد کی 11، صبح کی 4، ظہر کی 12،عصر کی 12،مغرب کے 7 اور عشاء کی 5 رکعت نوافل سمیت۔عشاء کے دو رکعت نوافل کھڑے ہو کر ایک رکعت کے برابر ہوتے ہیں۔
نماز کے آداب وشرائط:
نماز پڑھنے والا جب اپنے خدا کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو خداوند عالم سے باتیں کرتا ہے۔اس وجہ سے نماز پڑھنے والے کو چاہیے کہ عاجزی اور خاکساری کے ساتھ کھڑا ہو۔ڈرا،سہما،با ادب، اور باوقار ہو۔ جب نماز پڑھنے کی نیت کرو تو وضو کرکے قبلہ رخ سیدھا کھڑا ہو کسی چیز کا سہارا نہ لے،ادھر ادھر مڑے نہ کسی سے بات کرے۔ لباس پاک ہو،حرام مال یا حرام اجزاء سے تیار کردہ نہ ہو۔حرام گوشت، حیوان کے جسم کا کوئی جزو حتیٰ کہ بال یا تھوک وغیرہ بھی لباس یا جسم پر نہیں ہونا چاہیے۔
واجب نمازیں:
اللہ تعالی نے رات دن میں پانچ وقت کی نماز ہم لوگوں پر فرض کی ہے۔صبح کی نماز دو رکعت،ظہر کی نماز چار رکعت،عصر کی نماز چار رکعت، مغرب کی تین رکعت اور عشاء کی نماز چار رکعت۔نماز جمعہ غیبت امام علیہ السلام میں واجب تخییری ہے۔نماز جنازہ چند افراد پڑھ دیں تو سب سے ساقط ہوجاتی ہے۔خانہ کعبہ کے طواف واجب کی نماز اور اس کے علاوہ نماز آیات ،نذر،منت، قسم، عہد اور اجارہ کی نمازیں واجب ہوتی ہیں۔والدین کی قضا نمازیں بڑے بیٹے پر واجب ہوتی ہیں۔
نوافل و مستحب نمازیں:
یومیہ نوافل 34 رکعتیں ہیں۔ظہر کی 8 رکعت ظہر سے پہلے،عصر کے 8 رکعت عصر سے پہلے،مغرب کی 4 رکعت مغرب کے بعد، عشاء کی دو رکعت عشاء کے بعد بیٹھ کر جو ایک رکعت شمار کی جاتی ہے، صبح کی دو رکعت صبح کی نماز سے پہلے۔گیارہ رکعت شب کی ہیں آٹھ رکعت پہلے دو دو کرکے پھر دو رکعت شفع کی اور ایک رکعت نماز وتر۔ نماز شب آدھی رات سے لیکر طلوع فجر تک ادا کی جاسکتی ہے۔
واجبات نماز:
واجبات رکنی:
(1)نیت (2) تکبیرۃ الاحرام (3) قیام متصل بہ رکوع (4)رکوع (5)دو سجدے
امید کے لیے ضروری نہیں کہ زبان سے ادا کی جائے۔بس اتنا زہںن میں ہونا کافی ہے کہ کون سی نماز پڑھ رہے ہیں اور یہ کہ صرف اور صرف خالص اللہ تعالی کی خوشنودی کے لئے پڑھا رہے ہیں۔
اگر انسان واجبات رکنی میں سے کوئی رکن جان بوجھ کر یا غلطی سے چھوڑ دے تو نماز باطل ہو جاتی ہے۔نماز دوبارہ ادا کرنی چاہیے۔
واجبات غیر رکنی:
(1) قیام (2)قرآت (3)ذکر (4) تشہد (5) سلام (6)ترتیب (7) موالات
واجبات غیر رکنی میں سے اگر کوئی رکن جان بوجھ کر چھوڑ دے تو نماز باطل ہو جاتی ہے اگر غلطی سے چھوٹ جائے تو نماز باطل نہیں ہوتی۔
مستحبات نماز:
(1)سمع اللہ لمن حمدہ
(2) استغفر اللہ ربی و اتوب الیلہ
(3)بحول اللہ و قوته اقومہ و اقعد
(4) تکبیرۃ الاحرام کے سوا تمام تکبیریں
(5) تکبیرۃ الاحرام کے سوا تمام تکبیروں کے ساتھ رفع یدین
(6) دعاۓ قنوت
(7) رکوع اور سجدہ میں ایک مرتبہ تسبیح واجب ہے اس کے بعد مستحب
مرد اور عورت کی نماز میں فرق:
مرد کی نماز:
(1) نماز کے دوران مرد کے لئے ناف سے لے کر گھٹنوں تک کا پردہ واجب ہے۔لیکن مستحب ہے کہ لباس مکمل، باوقار اور صاف ستھرا ہو۔
(2) فجر ،مغرب اور عشاء جہری نمازیں ہیں۔ان میں پہلی دو رکعتوں میں پڑھی جانے والی سورتیں بلند آواز سے پڑھنا واجب ہے۔ظہر اور عصر خفاتی نمازیں ہیں ان میں وہ صورتیں آہستہ آواز میں پڑھی جائیں گے۔
(3)مرد تکبیرۃ الاحرام کہنے کے بعد دونوں ہاتھ کانوں کی لو تک اس طرح اٹھائے کہ ہاتھوں کا رخ قبلہ کی طرف ہو۔پھر دونوں ہاتھوں کو نیچے کی طرف سیدھا لٹکا دے کہ رانوں کے مقابل پہنچ جائیں۔
(4)مرد قیام کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے پیروں کے درمیان ایک بالشت کا فاصلہ ہونا چاہیے۔
(5) رکوع کے دوران مرد اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھے۔
(6) سجدے کے دوران مرد اپنی کہنیوں کو جسم سے الگ رکھے۔
عورت کی نماز:
(1) عورت کے لئے چہرہ،دونوں ہاتھوں اور پیروں کے علاوہ تمام بدن کو نماز کے وقت چھپانا واجب ہے۔
(2)عورت کو بلند یا آہستہ آواز سے پڑھنے میں اختیار ہے لیکن اگر خدشتہ ہو کہ اس کی آواز نا محرم تک پہنچے گی تو بلند آواز سے نماز پڑھنا منع ہے۔
(3) عورت تکبیرۃالاحرام یعنی اللہ اکبر کہتے وقت اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھائے اور پھر اپنے دونوں ہاتھ جدا جدا اوڑھنی کے نیچے اپنے سینے پر رکھے۔
(4) قیام کی حالت میں عورت کے پاؤں آپس میں ملے ہوئے ہونے چاہئیے۔
(5) عورت رکوع کے دوران اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں سے کچھ اوپر رکھے۔
(6) عورت سجدے کی حالت میں کہنیوں کو جسم سے ملا کر رکھے۔
تبصرے