حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "آدمی کی سعادت کا ایک نشان یہ ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو ایام حیض سے پہلے اس کے شوہر کے گھر بھیج...
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
"آدمی کی سعادت کا ایک نشان یہ ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو ایام حیض سے پہلے اس کے شوہر کے گھر بھیج دے۔"
ائمہ کرام علیہم السلام نے بیان کیا ہے کہ:
انسان کو جن چیزوں کی ضرورت تھی وہ تمام چیزیں اللہ تعالی نے اس کے پیغمبر کو سکھا دی ہیں۔ایک روز پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر گئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا:
"لوگو! اللہ تعالی کی جانب سے جو تمام بھیدوں کا جاننے والا ہے۔ جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور کہا: لڑکیاں شاخوں پر لگے ہوئے پھولوں کی طرح ہیں،ان کے پکتے ہی انہیں توڑ لینا چاہئے ورنہ سورج کی گرمی اور ہواؤں کا چلنا انہیں تباہ کر دے گا۔جب لڑکیاں سن بلوغ کو پہنچ جاتی ہیں تو ان کے اندر غرائز کا طوفان بپا ہوتا ہے جس کا علاج شوہر کے سوا کسی کے پاس نہیں ورنہ ممکن ہے کہ وہ بگڑ جائیں اور آلودہ ہو جائیں کیونکہ وہ انسان ہی ہیں۔"
لڑکیوں کی شادی جلدی کر دینے کے بارے میں بہت زیادہ تاکید آئی ہے۔اس حکم کا سبب لڑکیوں کے اخلاق کو خراب ہونے سے روکنا ہے۔حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ لڑکی کے سن رشد کو پہنچنے اور اس کی شوہرداری کی صلاحیت اور لڑکا لڑکی کی عمر کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔
جو لڑکی خانہ داری کی قدرت نہ رکھتی ہو یا اس نے جسمانی طور پر پوری طرح پرورش نہ پائی ہو اور اس کے مزاج و طبیعت میں ابھی شادی کے لیے ضروری استعاد پیدا نہ ہوئی ہو اور اس صورت میں شادی کر دی جائے تو شادی شدہ دیر باقی نہیں رہتی ہے ایسی لڑکیوں کی شادی میں جلدی نہیں کرنی چاہیے۔
آخرکار دونوں کی جانیں آہستہ آہستہ گھلتی چلی جائیں گی یا پھر علیحدگی اور طلاق کی نوبت آئے گے۔بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ اس طرح کی ازدواجی سے زندگیاں آغاز کار میں حسب مراد بسر ہو ں۔
البتہ اگر گھرانہ مذہبی ہو اور خاندانوں پر دینی اخلاق کی فرماں روائی ہو تو یہ ساری ناہمواریاں اور پریشانیاں رونما نہ ہوں۔ اورطلاق کا وحشت ناک عفریت ہستے بستے خاندانوں کو خاموش قبرستانوں میں تبدیل نہ کرے۔
یہ سب کچھ مالی تمدن کا تحفہ ہے اور مذہبی طاقت کو کمزور کر دینے کا نتیجہ ہے۔لیکن موجودہ حالات میں توجہ اور احتیاط اور بنیادوں کو مضبوط کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں۔
لڑکیوں میں یہ جذبہ عفت اور خداترسی پیدا کرنے کی طرف توجہ دی جانی چاہیے اور گھر کی بنیاد بڑھتے ہوئے سیلاب کی راہ میں نہیں رکھنی چاہیے۔
تبصرے