قرآن مجید میں اللہ تعالی نے یہ ہدایت فرمائی ہے کہ اپنے کنوارے غلاموں اور لونڈیوں کی شادی کر دو، وہ فقیر و محتاج ہوں گے تو اللہ تعالی اپنے فض...
قرآن مجید میں اللہ تعالی نے یہ ہدایت فرمائی ہے کہ اپنے کنوارے غلاموں اور لونڈیوں کی شادی کر دو، وہ فقیر و محتاج ہوں گے تو اللہ تعالی اپنے فضل سے انہیں غنی کردے گا۔اللہ تعالی وسعت و فراخی رکھنے والا اور علم رکھنے والا ہے۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے:
"شادی کرو تاکہ تمہارے رزق میں اضافہ ہو۔"
توضیح:
شادی بیاہ کا رزق میں اضافہ کا سبب دو وجہ سے ہے۔ ایک وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی اپنے کیے ہوئے وعدہ کے مطابق مرد اور عورت دونوں کی غیب سے مدد فرمائے گا۔ رزق میں اضافے کا دوسرا سبب یہ ہے کہ جب مرد اور عورت دونوں رشتہ ازدواج میں منسلک ہو کر زندگی گزارنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں تو ان میں ایک طرح کی بیداری پیدا ہوتی ہے انکی عاقبت اندیشی میں اضافہ ہوتا ہے۔وہ اپنا ایک خاندانی نظام تشکیل دیتے ہیں،ان میں زندگی کی فلاح و بہبود کا جذبہ ابھرتا ہے،پھر وہ اپنے اخراجات کو کنٹرول کرنے کی جانب متوجہ ہوتے ہیں۔وہ وسائل معاش کی تیاری اور فراہم کی جانب توجہ دیتے ہیں،بے جا خرچ، خواہشات اور اسراف سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس طرح ان کے وسائل زندگی میں استحکام پیدا ہوتا ہے اور غربت اور افلاس دور ہو جاتا ہے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث:
(1)"جو شخص بھی افلاس کے خوف سے شادی نہیں کرتا وہ دراصل اللہ تعالی کے اس حکم کے بارے میں بدگمانی کرتا ہے کہ اگر لوگ غریب ہوں گے تو اللہ تعالی اپنے فضل و کرم سے انہیں غنی بنا دے گا۔"
(2)"رزق میں اضافے کے لیے شادی کرو۔عورت برکت کا باعث ہے۔"
اسحاق بن عمار کا بیان ہے:
میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا لوگ کہتے ہیں ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں تنگدستی کی شکایت کی۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا شادی کر لو، دوسری بار بھی اس نے یہی شکایت کی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: شادی کرو،تیسری بار بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی فرمایا۔ کیا یہ حدیث صحیح ہے؟ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: ہاں یہ حدیث صحیح ہے،رزق بیوی اور بچوں کے ساتھ وابستہ ہے۔"
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
"ایک شخص نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اپنی تنگدستی کی شکایت کی،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شادی کر لو،وہ شخص گیا اور اس نے شادی کر لی اور پھر رزق کے دروازے اس پر کھل گئے۔"
ہمارے چھٹے امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے:
"ایک انصاری جوان نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اپنے فقر کا حال بیان کیا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شادی کر لو۔ اس انصاری کو اس بات سے بڑی شرم آئی کہ وہ دوبارہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اپنی حاجت کا ذکر کرے۔مدینے کے ایک انصاری مسلمان نے اس سے ملاقات کی اور کہا: میری لڑکی بالغ ہو چکی ہیں اگر تم چاہو تو میں اسے تمہارے عقد میں دے دوں۔ وہ نوجوان آمادہ ہو گیا اور اس نے شادی کر لی۔ اللہ تعالی نے اس کا رزق کشادہ کر دیا۔ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس نے سارا قصہ بیان کیا۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "اے جوانو! ازدواجی زندگی اختیار کرو۔"
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
"اے جوانو! تم میں سے جس کی سکت ہے وہ شادی کرے اور جو سکت نہ رکھتا ہو وہ روزے رکھے، کیونکہ روزہ شہوت کو گھٹاتا ہے۔"
تبصرے