حدیبیہ سے واپس آنے کے بعد تقریبا بیس دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں رہے پھر فرمایا جنگ کی تیاری کرو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم 1400
جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حدیبیہ سے واپس آئے تو سورت فتح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی اور اس میں فتح خیبر کی بشارت دی گئی۔مفت خیبر کے ساتھی مضبوط قلعے تھے اور ان ناموں کے ساتھ مشہور تھے (1)ناعم (2)قموص (3)کتیبہ (4)شق (5)نطاۃ (6)وطیج (7)سلالم۔
حدیبیہ سے واپس آنے کے بعد تقریبا بیس دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں رہے پھر فرمایا جنگ کی تیاری کرو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم 1400 افراد کے ساتھ خیبر کی طرف روانہ ہوئے۔یہودی جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارادوں سے مبتلا ہوئے تو وہ قلعہ بند ہو گئے۔ایک دن خیبر کے لوگ کھیتی باڑی کے کام سے بلیچے اور ٹوکریاں لے کر اپنے قلعوں سے باہر نکلے۔اچانک ان کی نگاہ لشکر پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پڑی کہ اس لشکر نے قلعوں کے گرد پڑاؤ ڈالا ہوا ہے چیخ کے کہنے لگے خدا کی قسم یہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کا لشکر ہے ہے یہ کہہ کر اپنے گھروں میں بھاگ گئے۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی حالت دیکھی تو فرمایا اس کا ترجمہ کچھ یوں ہے:
اللہ اکبر خیبر خراب و برباد ہوا۔ہم جب کسی قوم کی ڈیوڑھی پر اتر پڑتے ہیں تو ڈرائے گۓ لوگوں کی صبح بری حالت میں کٹتی ہے۔جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیلچے اور ٹوکریاں جو توڑنے کے آلات ہیں خیبر والوں کے ہاتھ میں دیکھے تو فال لی کہ خیبر منہدم ہو گا۔دوسری طرف یہوی جنگ کے لئے تیار ہو گئے اور انھوں نے زن و بچے قلعہ کیتبہ میں اکٹھے کر دیۓ اور چو پاؤں کی باس اور اپنا خرچہ اور خوراک قلعہ ناعم میں جمع کر دیا اور سخت قسم کا حصار کھینچ دیا اور جنگی جو ان قلعہ نطاۃ میں آگئے۔
حساب بن منذر رضی اللہ نے عرض کیا کہ یہودی کھجور کے درخت کو اپنی اولاد اور اہل و عیال سے زیادہ سخت رکھتے ہیں۔اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم درختوں کو کاٹنے کا حکم دے دیں تو یہ زیادہ رنج و الم میں پڑ جائیں گے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔ بس صحابہ رضی اللہ نے 400 درخت کاٹ دیے۔بہرحال مسلمانوں نے یہودیوں کے ساتھ جنگ کی اور کچھ قلعہ فتح کرلئے اور قلعہ قموص کا محاصرہ کیا۔حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم درد شقیقہ میں مبتلا تھے جس کی وجہ سے میدان میں نہ آ سکے۔ ہر روز ایک صحابی علم لے کر جاتا اور مبارزت کرتا اور شام کو فتح کئے بغیر واپس لوٹ آتا۔ایک دن ابوبکر علم لے کر گیا اور شکست کھا کر واپس آیا۔دوسرے دن عمر علم لے کر گیا اور وہ بھی شکست کھا کر واپس آیا۔
شام کے وقت جب عمر واپس آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا البتہ یہ علم کل سے ایسے شخص کو دوں گا جو کرار وغیرہ فرار ہو گا جو خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دوست رکھتا ہے اور اس کو خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوست رکھتے ہیں اور خداوند عالم اس کے ہاتھ پر خیبر فتح کرے گا۔دوسرے دن صحابہ جمع ہوئے اور تمام کے تمام یہ خواہش رکھتے تھے کہ یہ دولت عظمیٰ ہمیں میسر ہو۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "علی علیہ السلام کہاں ہیں؟" عرض کیا گیا کہ وہ آشوب چشم میں مبتلا ہیں اور اٹھ نہیں سکتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:"انہیں لے آؤ۔" سلمہ بن اکوع گیا اور آپ علیہ السلام کے ہاتھ پکڑ کر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کے آیا۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ علیہ السلام کا سر اپنے زانوں پر رکھ کر لعاب دہن ان کی آنکھوں میں ڈالا۔اسی وقت آپ علیہ السلام کی آنکھیں ٹھیک ہوگئیں۔پس علم امیرالمومنین علیہ السلام کو دیا۔امیرالمؤمنین علیہ السلام علم لے کر دوڑتے ہوئے قلعہ قموص تک پہنچے۔مرحب ہر روز کی عادت کے مطابق قلعہ سے باہر نکلا اور مست ہاتھی کی طرح میدان میں آیا اور رجز پڑھے:
"خیبر والے جانتے ہیں کہ میں مرحب ہوں۔مکمل جنگ کے ہتھیاروں سے آراستہ تجربہ کار بہادر ہوں۔"
امیرالمؤمنین علیہ السلام غضب ناک شیر کی طرح اس کی طرف بڑھے اور فرمایا: "میں وہ ہوں جس کا نام اس کی ماں نے حیدر رکھا اور بیشہ کا شیر ہوں۔"
جب مرحب نے یہ رجز امیر المومنین علیہ السلام سے سنا تو اسے اپنی دایہ کی بات یاد آئی جس نے اس سے کہا تھا کہ وہ ہر شخص پر غالب آئے گا سوائے اس کے جس کا نام ہے حیدر علیہ السلام ہوگا۔اگر تم نے اس سے جنگ کی تو مارا جائے گا۔لہذا مرحب بھاگ کھڑا ہوا۔شیطان ایک یہودی عالم کی شکل میں سامنے آیا اور کہنے لگا حیدر علیہ السلام تو بہت سے ہیں تو کیوں بھاگ رہا ہے۔پس مرحب تیزی سے واپس لوٹا اور چاہا کہ پیش دستی کرے اور حضرت علی علیہ السلام کے زخم لگائے لیکن امیر المومنین علیہ السلام نے اسے مہلت نہ دی اور ذوالفقار کے ایک ضربت سے اسے ہلاک کر دیا۔
اس کے بعد ربیع ابن ابی الحقیق جو اپنی قوم کا نمایاں فرد تھا اور خیبر کا رہنے والا عشر جو بہادری اور قوت میں مشہور تھا اور مرہ و یاسر وغیرہ جو یہودیوں میں سے بہادر لوگ تھے ان سب کو قتل کیا۔یہودی شکست کھاکر قلعہ قموص کی طرف بھاگے اور بڑی مضبوطی سے دروازہ بند کر لیا۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام تلوار لے ہوئے دروازے کے پاس آئے اور اس کو پکڑ کر جھنجھوڑا کہ پورا قلعہ لرز اٹھا۔ صفیہ بنت عبد اخطب اپنے تخت سے منہ کے بل زمین پر گر پڑی اور اس کا چہرہ زخمی ہوگیا۔یہودی بھاگ کھڑے ہوئے۔حضرت علی علیہ السلام نے وہ دروازہ اکھاڑ کر اس کو اپنی سپر بنا لیا اور اس طرح تھوڑی دیر لڑتے رہے۔ آپ علیہ السلام نے خندق پر اس دروازہ کا پل بنا دیا اور خود خندق میں کھڑے ہو گئے۔ تمام لشکر کو اس عمل سے گزارا۔پھر اسے اپنے پیچھے کی طرف صرف چالیس ہاتھ کے فاصلے پر پھینک دیا۔چالیس آدمی اس دروازہ کو حرکت نہ دے سکے۔
تاریخ میں ہے کہ فتح خیبر کے دن جعفر بن ابی طالب علیہ السلام حبشہ سے واپس آئے اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے آنے سے خوش ہوئے اور انہیں نماز جعفر طیار سکھائی۔ حضرت جعفر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے حبشہ سے کچھ حدیے لائے تھے جن میں عطر اور لباس تھے اور ان میں ایک زرتا چادر بھی تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امیر المومنین علی علیہ السلام کو عطا فرما دی۔ آپ علیہ السلام نے اس میں سونے کے تار الگ کیے جو ہزار تھے۔آپ علیہ السلام نے ان تاروں کو مدینے کی فقیروں میں تقسیم کردیا اور اپنے لئے کچھ بھی نہ رکھا۔
7 ہجری ہی میں عمرۃالقضا واقع ہوا اور وہ اس طرح کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر سے واپس آئے تو مکہ کی زیارت کا قصد کیا اور ذیقعدہ کے مہینے میں حکم دیا کہ اصحاب مکے کے سفر کی تیاری کریں اور عمرہ حدیبیہ کی قضا کریں۔پاس ہو لوگ جو حدیبیہ میں موجود تھے کچھ دوسرے لوگوں کے ساتھ عازم مکہ ہوئے۔انہوں نے ہتھیاروں کے ساتھ ستر اونٹ قربانی کے بھی ہمراہ کیے تاکہ اگر قریش عہد شکنی کریں تو ہتھیار کام دے سکیں۔اوہ ہتھیار انہوں نے چھپا رکھے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قصویٰ نامی ناقہ پر سوار ہوئے اور کچھ اصحاب پیادہ اور کچھ سوار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمرکاب تھے اور تلواریں غلافوں میں حمائل کیے ہوئے تھے۔ یہ سب تلبیہ کہتے ہوئے ثنیہ حجون سے مکے میں داخل ہوئے اور سواری پر طواف کیا اور جو چھڑی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں تھی اس سے استلام حجر اسود فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ صحابہ رضی اللہ چادر دائیں بغل سے نکال کر بائیں کاندھے پر اس طرح ڈالیں کہ دایاں کندھا برہنہ رہے اور بایاں چھپ جاۓ۔ اورطواف کی حالت میں قوت کا مظاہرہ کریں تاکہ کافر مسلمانوں کو کمزور نہ سمجھیں اور یہ پڑھنے اور تیزی سے چلنے کا حکم مکہ کے زائروں کے لیے اسی دن سے برقرار ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین روز تک مکہ میں رہے پھر واپس لوٹ آئے۔
7 ہجری میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام حبیبہ بنت ابو سفیان کے ساتھ زفاف کہا۔وہ پہلے عبد اللہ بن جحش کی بیوی تھی اور اپنے شوہر کے ساتھ مسلمان ہوگئی تھیں دونوں میاں بیوی حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔حبشہ میں ان کا شوہر عیسائی ہو کر مر گیا تھا لیکن ام حبیبہ رضی اللہ اسلام پر قائم رہی یہاں تک کہ ام حبیبہ کی خواستگاری کا خط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے نجاشی کو پہنچا۔نجاشی نے ایک مجلس ترتیب دی حضرت جعفر ابن ابی طالب علیہ السلام اور باقی مسلمانوں کو جمع کیا اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وکالت کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نکاح حضرت ام حبیبہ رضی اللہ کے ساتھ۔ حضرت ام حبیبہ کی طرف سے خالد بن سعید بن عاص وکیل نکاح تھے۔نجاشی نے خطبہ پڑھا۔
پھر اس نے حکم دیا کہ چار سو دینار حق کیامہر حاضر جائے۔پھر خالد بن سعید نے کہا:
الحمد اللہ احمده واستغفرہ واشھدان لا آلا اللہ وان محمد اعبدہ و رسولہ ارسلہ بالھدی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ولوکرہ المشرکون امابعد فقد احبت الی مادعا الیہ رسول اللہ و زوجت ام حبیبہ بنت ابوسفیان تبارک اللہ لرسولہ۔
پھر حضرت خالد نے رقم اٹھائی نجاشی کو حکم دیا کہ کھانا حاضر کیا جائے۔ تمام اہل مجلس نے کھانا کھایا اور پھر رخصت ہو گئے۔

تبصرے