موصعب ابن عبداللہ سے مروی ہے کہ جب دشمنوں نے امام حسین علیہ السلام محسن اسلام کا محاصرہ کرلیا تو حضرت نے گھوڑے پر سوار ہوکر قریب آئے اور انہ...
موصعب ابن عبداللہ سے مروی ہے کہ جب دشمنوں نے امام حسین علیہ السلام محسن اسلام کا محاصرہ کرلیا تو حضرت نے گھوڑے پر سوار ہوکر قریب آئے اور انہیں خاموش ہونے کو کہا اس کے بعد حمد و ثنائے الٰہی بجا لاۓ اور اس طرح ہوئے:
اے جماعت! تمہارے لئے ہلاکت ہو،تم نے مجھ کو اتنے جوش اور ولولہ کے ساتھ بلایا تاکہ تمہاری فریاد کو پہنچوں اور ہم تمہارے دعوت پر جلد سے جلد آئے، پھر ہمارے ہی سروں پر تلوار لے کر کھڑے ہو اور ہمارے دشمنوں کے بجائے ہمیں پر آتش جلا دی، تم میدان جنگ میں اپنے دوستوں کے ساتھ اپنے ہی دشمن کے یارو مددگار ہو گئے حالانکہ انہوں نے تمہارے ساتھ نہ عدل و انصاف سے کام لیا اور نہ ان سے خیر کی امید رکھتے ہو۔تم پرواۓ ہو! جب تلوار نیاموں میں اور قلب آرام و سکون میں اور افکارنا پختگی میں تھے تب تم نے ہم کو کیوں نہ چھوڑ دیا لیکن تم لوگ مکھیوں کی مانند فتنہ کی طرف بھاگے اور پروانوں کی مانند ایک دوسرے پر گر رہے تھے ،تمہارے لۓ ہلاکت و تباہی ہو!
اے کنیز کے غلاموں! احزاب میں باقی بچے لوگو! کتاب خدا کے چھوڑ دینے والو! تحریف کرنے والو! تم نے کلمات کو معانی سے الگ کر لیا اور ہمارے سنتوں کو مٹانے والو! امام کی نافرمانی کرنے والو! ان نفسوں نے ان کے لئے جو پہلے سے بھیجا ہے وہ کتنا برا ہے کہ اللہ ان پر غضب ناک و ناراض ہے اور وہ لوگ عذاب خدا میں ہمیشہ رہیں گے۔تم ان کی مدد کر رہے ہو اور ہم کو تنہا چھوڑ رہے ہو؟
ہاں! خدا کی قسم! بے وفائی و پیمان شکنی تمہاری دیرینہ عادت ہے،تمہاری جڑیں غدر و دھاگہ سے ملی ہوئی ہیں اور تمہاری شاخوں نے اسی پر پرورش پائی ہے،تم ان کے وہ پلید ترین اور خراب ترین میوے ہو جو مالک کے گلے میں اٹک ہوۓ اور غاصب کے لیے خوش ذائقہ ہو۔
آگاہ رہو کہ اللہ کی لعنت ان ظالمین پر ہے جو عہد شکن پر ہے جو زیادہ تاکید کے بعد بھی عہد و پیمان توڑ ڈالتے ہیں حالانکہ خدا نے تم کو خود تمہارا ضامن اور وکیل قرار دیا ہے۔
اس بے باپ کے بیٹے نے جس کو بنی امیہ نے اپنے سے ملحق کرلیا اور بے باپ کے اس کا بیٹا بنا لیا، مجھے دو چیزوں کے درمیان کھڑا کر دیا ہے تلوار کھینچ لوں یا کہ ذلت برداشت کروں۔ اگر ہم ذلت اختیار کریں تو ہمارے لئے ہیہات و افسوس ہو!خدا و رسول اور مومنین ہمارے لئے زبوں حالی و ذلت ہے جس کو ہم پسند نہیں کرتے اور پاک و پاکیزہ گودیاں اور حمیت و غیرت مند ہو جائیں لیکن ایسے کم مایہ لوگوں کی اطاعت کبھی نہیں کرتے ہیں ،میں اس مختصر سی جماعت کے ساتھ تم سے کارزار کروں گا اگرچہ مددگاروں نے مجھے چھوڑ دیا ہے پھر امام نے ایک شاعر کا اشعار پڑھا۔
اگر ہم کامیاب ہوں تو دیر ہوئی ہم کامیاب ہوچکے تھے اور اگر ہم مغلوب ہوں پھر بھی ہم مغلوب نہیں ہوئے ہیں۔
ڈر جانا ہماری عادت نہیں لیکن زندگی کی کوشش کرتے ہیں اور دشمن کے قتل کی کیونکہ ہمارا قتل کرنا دوسروں کی حکومت کے ساتھ ہے۔
اگر بادشاہ جاوداں تھے تو ہم بھی جاوداں رہیں گے اگر بزرگ رہے ہو تو ہم بھی رہیں گے۔
جو ہمارے غم سے خوش ہوتے ہیں ان سے کہہ دو کہ ہوشیار رہیں کہ جہاں ہم پہنچے ہیں وہ بھی پہنچیں گے۔
منقول ہے کہ جب امام حسین علیہ السلام کے تمام اصحابہ و قرابت دار شہید ہو گئے سوائے علی ابن الحسین زین العابدین علیہ السلام اور فرزند شیر خوار علی اصغر کے علاوہ کوئی باقی نہ بچا اور امام تنہا ہوے تو آپ علیہ السلام نے خیمہ کے در پر آکر فرمایا:
اس بچہ کو مجھے دو تاکہ اس کو الوداع کر لوں، آپ نے لے کر بوسہ لینے لگے فرمایا:
اے میرے لال! اس قوم پر واۓ ہو جو رسول خدا سے مخاصمہ اختلاف کریں۔
تاریخ میں کہا گیا ہے کہ ناگہاں ایک تیر آیا اس بچے کے سینے پر لگا اور وہ شہید ہو گیا۔امام گھوڑے سے اترے شمشیر سے قبر کھودی اور خون آلود لاشہ دفن کر دیا،یہ اشعار پڑھتے ہوئے کھڑے ہو گئے۔
ترجمہ: سب کافر ہوگئے اور ثواب خداوند کو چھوڑ کر انہوں نے جن و انس کے رب سے بھی چشم پوشی کر لی۔
واقعہ کربلا سے پہلے امام علی علیہ السلام اور ان کے فرزند امام حسن علیہ السلام جو ماں باپ کی خدمت سے کریم تھے ان کو بھی قتل کیا گیا ہے۔
سب نے ناراض ہو کر کہا اب حسین ابن علی علیہ السلام پر حملہ کرکے ان کا خون بہا دو۔
ان ذلیل و کمبخت لوگوں پر اللہ کی وائے ہو کہ جنہوں نے سب کو مالک حرمین کے خلاف جمع کیا۔
پھر سب نے تیار ہو کر ایک سفارش کی کہ ہم ملحدین کے رضا و خوشنودی کی احتیاج رکھتے ہیں۔
کافروں کی نسل کے عبید اللہ کے لیے یہ لوگ میرے خون بہانے میں خدا سے بھی نہیں ڈرے۔
عمر ابن سعد نے لشکر کثیر کے ساتھ مجھے اپنے تیروں کی آماجگاہ بنا لیا۔
اس قتل کے لیے دو ستارہ قطبی کے نور سے میرا فخر اور میری بزرگی کے علاوہ اور کوئی مسئلہ و سبب نہیں ہے۔
ایک ستارہ علی ہیں جو بعد نبی سب سے بہتر و برتر ہیں کہ اس نبی کے والدین قریشی ہیں۔
میرے ماں باپ خدا کے برگزیدہ تھے اور میں دو برگزیدہ کا فرزند ہوں۔
وہ چاندی جو سونے سے خالص ہو اور میں وہ چاندی ہوں جو دو سونوں کا بیٹا ہے۔
کون ہے جس کے پاس میرے جیسے نانا یا بابا ہوں کہ میں ان دو رہبروں کا بیٹا ہوں۔
حضرت فاطمۃ الزہراء علیہا السلام میری ماں ہیں اور میرے بابا جنگ بدر و حنین میں کفر کو توڑنے والے ہیں۔
دین کی رسی امام علی مرتضی علیہ السّلام ہیں وہی لشکروں کو بھگانے والے اور دونوں قبیلہ کی جانب نماز پڑھنے والے ہیں۔
انہوں نے ہی روز احد ایسا حملہ کیا کہ دو لشکر کے قبضہ کے ساتھ حسد و کینہ کو دور کر دیا۔
پھر کارزار احزاب و فتح مکہ میں کافروں کے لشکر کے لئے موت کا پیغام بن کے رہے۔
اس امت بد نے عترت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں اللہ کی راہ میں کس عمل کا ارتکاب کیا۔
نبی مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بہترین عترت اور دلاور و بہادر علی علیہ السلام کی نسل کو جنگ میں۔
امام علی علیہ السلام نے نوجوانی میں اللہ کی پرستش اور قریش بت پرستی کر رہے تھے۔
انہوں نے ابتدا ہی سے بتوں سے دشمنی و کینہ رکھا اور قریش کے ساتھ ایک لمحہ بھی ان کا سجدہ نہ کیا۔
ان بہادروں کو میدان بدر احزاب و حنین میں اپنی تلوار سے زخمی کیا۔
پھر امام حسین علیہ السلام دشمنوں کے سامنے آ کر کھڑے ہوئے حالانکہ ان کے ہاتھ میں برہنہ شمشیر تھی زندگی سے ناامید تھے اور موت کے لئے آمادہ ہو کر فرما رہے تھے کہ میں ابن ہاشم کے پاک و امام طاہر علی علیہ السلام کا فرزند ہوں شہید یہی فخر و مباہات میرے لئے کافی ہے۔
لوگوں میں سب سے زیادہ بزرگ و برتر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے جد ہیں اور ہم مخلوق کے درمیان اللہ کے درمیان اللہ کے روشن چراغ ہیں۔
میری ماں فاطمہ زہرہ علیہ السلام امام احمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسل سے ہیں اور میرے چچا جعفر ذوالجناحین مشہور ہیں۔
ہمارے درمیان کتاب خدا صداقت و سچائی کے ساتھ نازل ہوئی اور ہمارے درمیان ہدایت وحی کے ساتھ یاد کی جاتی ہے۔
ہم تمام لوگوں کی خاطر خدا کی امان ہیں اور ظاہر و پوشیدہ لوگوں کے درمیان ہم اسے بیان کرتے ہیں۔
ہم حوض کوثر کے والی و مالک ہیں جام رسول اپنے دوستوں کو بلاتے ہیں ان کا انکار نہیں ہو سکتا۔
لوگوں میں ہمارے پروردگار بہترین شیعہ ہیں اور ہم سے دشمنی و کینہ رکھنے والے روز قیامت زیاں و خسارہ میں ہیں۔

تبصرے