28 رجب 60 ہجری کو آپ علیہ السلام حضرت امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ مدینہ سے روانہ ہو کر مکہ معظمہ پہنچے۔چارماہ قیام کے بعد وہاں سے روانہ ہ...
28 رجب 60 ہجری کو آپ علیہ السلام حضرت امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ مدینہ سے روانہ ہو کر مکہ معظمہ پہنچے۔چارماہ قیام کے بعد وہاں سے روانہ ہو کر دو محرم الحرام کو کربلا پہنچے،وہاں پہنچتے ہی یا پہنچنے سے پہلے آپ علیل ہوگئے اور آپ کی علالت نے اتنی شدت اختیار کی کہ آپ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے وقت تک اس قابل نہ ہو سکے کہ میدان میں جا کر درجہ شہادت حاصل کرتے۔تاہم ہر اہم موقع پر آپ نے جذبہ نصرت کو بروئے کار لانے کی سعی کی۔جب کوئی آواز استغاثہ کان میں آئی آپ اٹھ بیٹھے اور میدان جنگ میں شدت مرض کے باوجود جا پہنچے کے اور سعی بلیغ کی،امام علیہ السلام کے استغاثہ سوپر تو آپ علیہ السلام خیمہ سے نکل آئے اور ایک چوب خیمہ لے کر عزم کر دیا، امام حسین علیہ السلام کی نظر آپ علیہ السلام پر پڑی اور انہوں نے حضرت زینب علیہ السلام کو آواز دی۔ "بہن سید سجاد علیہ السلام روکو ورنہ نسل رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا خاتمہ ہو جائے گا۔"
حکم امام سے زینب سلام اللہ نے سید سجاد کو میدان میں جانے سے روک لیا۔یہی وجہ ہے کہ سیدوں کا وجود آج نظر آرہا ہے۔اگر امام زین العابدین علیہ السلام علیل ہو کر شہید ہونے سے نہ بچ جاتے تو نسل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف امام محمد باقر علیہ السلام میں محدود رہ جاتی۔
شہادت امام حسین علیہ السلام کے بعد جب خیمے میں آگ لگائی گئی تو آپ انہیں خیموں میں تھے۔ہماری ہزار جانیں قربان ہو جائیں۔حضرت زینب سلام اللہ علیہا پر کہ انہوں نےاہم فرائض کی ادائیگی کے سلسلے میں سب سے پہلا فریضہ امام زین العابدین علیہ السلام کے تحفظ کا ادا فرمایا اور امام کو بچا لیا۔الغرض رات گزر گئی اور صبح نمودار ہوئی،دشمنوں نے امام زین العابدین علیہ السلام کو اس طرح جھنجھوڑا کے آپ اپنی بیماری بھول گئے۔آپ سے کہا گیا کے اونٹوں پر سب کو سوار کرو اور ابن زیاد کے دربار میں چلو۔۔۔۔۔سب کو سوار کرنے کے بعد آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساربان پھوپھیوں ، بہنوں اور تمام مستورات کو لئے ہوئے دربار داخل ہوا۔حالت یہ تھی کہ عورتیں اور بچے رسیوں میں بندھے ہوئے تھے اور امام لوہے میں جکڑے ہوئے دربار میں پہنچ گئے۔آپ چونکہ اگلی نشست نہیں سنبھال سکتے تھے اس لئے آپ علیہ السلام پچھلی نشست میں کھڑے تھے۔ دربار کوفہ میں داخل ہونے کے بعد آپ اور مستورات قید خانے میں بند کر دیئے گئے۔سات روز کے بعد آپ علیہ السلام سب کو لیے ہوئے شام کی طرف روانہ ہوئے اور 19 منزلیں طے کر کے تقریبا 36 یوم میں وہاں پہنچے۔16 ربیع الاول 61 ہجری کو بدھ کے دن آپ علیہ السلام دمشق پہنچے ہیں۔اللہ رے صبر امام زین العابدین علیہ السلام تمام بہنوں اور پھوپھیوں کے ساتھ اور لب پہ شکوہ کے بغیر ر حدود شام کا کا ایک واقعہ یہ ہے کہ آپ علیہ السلام ہاتھوں میں ہتھکڑی ،پیروں میں بیڑی اور گلے میں خار دار طوق آہنی پڑا ہوا تھا۔اڈس پر مستزاد یہ کہ لوگ آپ علیہ السلام پر آگ برسا رہے تھے۔اسی لیے آپ علیہ السلام کے بعد واقعہ کربلا ایک سوال کے جواب میں "الشام الشام الشام" فرمایا تھا۔شام پہنچنے کے کئی گھنٹوں یادنوں کے بعد آپ آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لیے ہوئے سرائے شہدا خدا سمیت دربار میں داخل ہوئے۔پھر قید خانہ میں بند کر دیے گئے۔تقریبا ایک سال قید کی مشقتیں جھیلیں ،قید خانہ بھی ایسا جس میں تمازت آفتابی کی وجہ سے ان لوگوں کے چہروں کی کھالیں متغیر ہو گئی تھیں۔مونا قید کے بعد آپ علیہ السلام سب کو لیے ہوئے 20 صفر 62 ہجری کو کربلا پہنچے۔آپ علیہ السلام کے ہمراہ سرا حسین علیہ السلام بھی کر دیا گیا تھا۔آپ علیہ السلام نے اسے اپنے بابا امام حسین علیہ السلام سلام کے جسم مبارک سے ملحق کیا۔8 ربیع الاول 62 ہجری کو آپ علیہ السلام امام حسین علیہ السلام کا لوٹا ہوا کافلہ لے کر مدینہ منورہ پہنچے،وہاں کے لوگوں نے آہ و زاری اور کمال رنج و غم سے آپ علیہ السلام کا استقبال کیا۔15 شب و روز نوحہ و ماتم ہوتا رہا۔
اس عظیم واقعے کا اثر یہ ہوا کہ زینب سلام اللہ کے بال اس طرح سفید ہوگئے تھے کہ جاننے والے انہیں پہچان نا سکے۔بیوی روباب سلام اللہ نے سایہ میں بیٹھنا چھوڑ دیا۔امام زین العابدین علیہ السلام تاحیات گریہ فرماتے رہے۔پہلے مدینہ ہجرت سید کی بیعت سے علیحدہ ہو کر باغی ہوگئے بلاآخر واقعہ حرہ کی نوبت آگئی۔
تبصرے