اے بزرگان قوم! اے امت کے مضبوط بازوؤں،اے دین کے محافظو! میرے حق میں کئے گئے مظالم کے بارے میں تمہاری سستی و انحراف اور تمہاری غفلت اور تمہارا خواب...
انصار کی طرف متوجہ ہو کر بی بی فاطمۃ الزہرا سلام اللہ فرماتی ہیں:
اے بزرگان قوم! اے امت کے مضبوط بازوؤں،اے دین کے محافظو! میرے حق میں کئے گئے مظالم کے بارے میں تمہاری سستی و انحراف اور تمہاری غفلت اور تمہارا خواب کس لیے ہے؟ کیوں ہے؟ کیا تم بھول گئے کہ میرے بابا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر شخص اپنی اولاد کی رعایت و احترام کی خاطر محفوظ اور منظور نظر خود ہوتا ہے، تم نے کتنی جلدی بہت سے کام کرکے بدعتوں کو پیدا کر دیا،تم نے کتنی جلدی اس کا اظہار کردیا جس کا اتنی جلدی ظاہر کرنا تمہارے لئے سزاوار نہیں تھا، کیا تم میری خواہشات اور میرے حقوق کے اثبات کی طاقت و قدرت نہیں رکھتے؟کیا سمجھتے ہو کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان سے گئے اور ہم آزاد ہو گئے؟
آہ آہ: حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موت سے گہرا رنج،سخت ملال اور بڑا شگاف پیدا ہوگیا، ساری دنیا اس سخت حادثہ سے تیرہ تاریک ہو گئی تاروں کی روشنی اور آسمان کے انوار ختم ہوگئے ہماری آرزو منقطع ہوگئی بلند و بالا پہاڑ سر نگوں ہو گئے، یہ سوراخ وخلا دوبارہ پر نہیں ہوں گے،اس بڑی مصیبت سے احکام الٰہی کا احترام ختم ہوگیا۔
محمد رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور ان پیغمبروں کی طرح ہیں جو ان سے پہلے مبعوث ہوئے تھے اگر وہ اس دنیا سے چلے جائیں تو کیا تم بھی حق سے منحرف ہو کر پیٹھ پھیر لو گے؟ جو اپنے پیچھے پلٹ جائے وہ خدا کو کوئی ضرر اور نقصان نہیں پہنچائے گا،عنقریب خدا شکر کرنے والوں کو بہترین جزا دے گا۔
اے گروہ انصار! کیا میرے باپ کی میراث دوسروں کے ہاتھ میں چلی جائے اور تم سب حاضر و ناظر اس سے آگاہ رہو؟ کیا جائز ہے کہ تم ایسے ہی خاموش اور متحیر اس جلسہ کو ختم کر دو اور میری درخواست کا معمولی سا بھی اثر نہ لو؟ جب کہ تم جنگی سازوسامان سے مجہز ہو اور تم زمانہء ماضی کے فعال و شجاع اور سخت حالات میں صابر و استقامت کرنےوالوں میں جانے جاتے ہو، تمہیں کیا ہو گیا ہے؟کہ تم میری دعوت کو سن کر بھی میری مدد نہیں کرتے کیسے میرے آہ و نالہ کو تمہارے کان سنتے ہیں اور میری فریاد نہیں سنتے؟ تم سب تو ملت اسلامیہ کے منتخب برگزیدہ تھے،تم نے عرب کے دلیر دشمنوں سے مبارزہ و مقابلہ کیا، تم تو ہمیشہ ہمارے فرمان کی اطاعت کرتے تھے؟
اسی فعالیت و کوشش کا نتیجہ تھا کہ اسلامی سماج وجود میں آیا اور دائرہ اسلام وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا اور سب لوگ قوانین دین مبین کے معنوی منافع سے بہرہ مند ہوئے، کفر و شرک کی مضبوط گردن ٹوٹ گئی اور باطل کے تظاہر ختم ہو گئے، گمراہی و شرک کے شعلے خاموش ہو گئے،ہرج و مرج اور تمام امور کی بے سروسامانی ختم ہوگئی اور دین کا نظام، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ترسیم کردہ نقشہ عام ہو گیا۔
اے گروہ انصار! ان تمام واقعات اور حقیقت کی روشن ہونے کے بعد تم کیوں متحیر و مبہوت ہو گئے ہو؟حقائق سے واضح و معلوم ہونے کے بعد اسے کیسے پوشیدہ رکھ سکتے ہو؟کیا اتنی ترقی کے بعد پھر تم عقب نشینی کر لو گے؟کیا ایمان و اعتقاد پانے کے بعد کافر ہو جاؤ گے؟
اس گروہ پرواۓ ہو جو اپنے عہد و پیمان کو توڑ ڈالے، اپنے ایمان میں متزلزل و مضطرب ہو جائے،کلام رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاموش کر دے۔
خدا کا ارشاد ہے: "اگر تم مومن ہو تو خدا زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو."
آگاہ ہو جاؤ کہ تم پستی و ہوسرانی کی طرف جارہے ہو اور جو امامت و ولایت کے لائق ہیں تم نے اس سے چھوڑ دیا ہے۔
تم نے اپنی شرعی تکلیف اور حدود کو آزاد کر دیا ہے،جو کچھ تم نے دیکھا،اور جانا اسے دور ڈال دیا ہے۔ جان لو کہ میں دیکھ رہی ہوں یہ ضلالت و گمراہی اور انحراف کی تاریکی نے تمہارے ظاہر و باطن کو گھیر لیا ہے۔میں جانتی ہوں کہ تم اس ظلمت کدہ بحران سے نجات نہیں پا سکو گے، میری باتیں تم پر کچھ اثر نہیں کریں گی لیکن میں تم پر حجت تمام کرنا چاہتی ہوں اور غم و غصہ سے بھرے ہوئے اپنے سینہ کو خالی کرنا چاہتی ہوں تاکہ میرے دل کے جوش و خروش ٹھنڈے ہو جائیں۔
تم خوب جانتے ہوں گے اس منصب خلافت پر تم نے ہم سے لے لیا اور اپنے کو ہمیشہ کے لیے غضب اور عذاب الٰہی کا مستحق بنا لیا۔
"وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون"
تبصرے