رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شرابی اور بداخلاق آدمی سے اپنی لڑکی کی شادی کرنے سے منع فرمایا ہے کیونکہ اللہ تعالی نے شراب کو حرام قرا...
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شرابی اور بداخلاق آدمی سے اپنی لڑکی کی شادی کرنے سے منع فرمایا ہے کیونکہ اللہ تعالی نے شراب کو حرام قرار دیا ہے اس وجہ سے شرابی اور بداخلاق آدمی سے اپنی لڑکی کی شادی نہیں کرنی چاہیے۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
"اللہ تعالی نے شراب کو میری زبان سے حرام قرار دیا ہے۔ہم جو شخص شراب پیئے گا وہ اس لائق نہیں کہ کسی مسلمان لڑکی کا شوہر بنے۔"
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
"جس شخص نے بھی اپنی لڑکی کی شادی کسی شرابی سے کی وہ قطع رحم کا مرتکب ہوا۔" (یعنی اس نے ایک باپ کی حیثیت سے اپنا فرض ادا نہیں کیا اور لڑکی پر اس نے ظلم کیا)
امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:
"کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی شرابی دے دو،اگر تم نے ایسا کیا تو گویا تم نے لڑکی کو زنا کے خاطر کسی کے حوالے کر دیا۔"
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے:
"اگر شرابی بیمار پڑ جائے تو اس کی عیادت نہ کرو اور اگر وہ لڑکی مانگے تو اسے اپنی لڑکی نہ دو۔"
امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہے کہ:
"شرابی اس بات کا اہل نہیں کہ کوئی مسلمان اسے لڑکی دے یا اسے اپنا مال حوالے کرے۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے،اپنا مال نہ سمجھوں کے ہاتھ میں نہ دو۔"
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:
"جو شخص بھی اپنی عزیز بیٹی کو کسی بے دین کے عقد میں دیتا ہے اس پر ہر روز ہزار لعنتیں نازل ہوتی ہیں۔"
توضیح:
ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ اس نے اپنی عزیز اولاد کو جن کی خاطر جس نے بڑی زحمتیں اٹھائی تھیں انہیں خود اپنے ہاتھوں خطرے میں ڈال دیا اور ان کے لیے فکر و عملی انحراف کی راہ ہموار کردی۔کیوں کہ اس جوڑے سے آئندہ پیدا ہونے والی نسل سے دسیوں بلکہ سینکڑوں بچے پیدا ہوں گے۔وہ سب غلط راہ پر چل پڑیں اور اپنے معاشرے کو تباہی سے دوچار کر دیں اور یہ انسان جس نے کسی بے دین اور شرابی کو اپنی لڑکی دی ان کی بےشمار باتوں اور ان کو ملنے والی سخت سزاؤں میں حصہ دار بنے گا۔
قرآن پاک میں ارشاد ہے:
"اپنے آپ کو خود اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو۔"
حسین بن بشار نے حضرت امام کاظم علیہ السلام کو لکھا:
"اگر وہ بد اخلاق ہے تو اسے اپنی لڑکی نہ دو۔"
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"کیا میں تمہیں یہ نہ بتا دوں کہ بدترین لوگ کون ہیں؟"
لوگوں نے عرض کیا:
"کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم"
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
"وہ جو بے گناہوں پر تہمت دہراتے ہیں،بخیل اور بدزبان ہیں۔دسترخوان پر تنہا بیٹھتے ہیں۔ان سے کسی کو کوئی بھلائی نہیں پہنچتی۔اپنی بیوی اور اپنے غلاموں کو زد و کوب کرتے ہیں۔اپنے خاندان کو دوسروں کا محتاج بنا کر رکھتے ہیں۔اپنے ماں باپ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔"
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
"جو لوگ ایمان میں کمزور ہوں ان کی لڑکیوں سے تو عقد کرو لیکن انہیں اپنی لڑکیاں نہ دو کیونکہ اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ لڑکی اخلاق و آداب میں اپنے شوہر سے اثر لے اور مرد اسے اپنے عقائد اختیار کرنے پر آمادہ کر لے۔"
تبصرے