پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کے طول و عرض میں دو اہم تریں دعوے یہ تھے کہ میں خدا کا نبی ہوں اور یہ قرآن خدا کی کتاب ہے اور می...
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کے طول و عرض میں دو اہم تریں دعوے یہ تھے کہ میں خدا کا نبی ہوں اور یہ قرآن خدا کی کتاب ہے اور میرا معجزہ ہے۔یہاں یہ اعتراض پیدا کیا جاتا ہے کہ اگر قرآن نبوت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ ہے تو اس کا مطلب ہے کہ نبوت موقوف ہے قرآن پر،جبکہ نبی یہ فرماتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ کی کتاب ہے۔گویا اس کا کتاب الہی ہونا موقوف ہے۔قول نبی پر یعنی نبوت موقوف ہے قرآن پر اور قرآن کا کلام خدا ہونا موقوف ہے نبوت پر۔اسے علمی اصطلاح میں دور کہا جاتا ہے۔اور یہ عقلأ کی نگاہ میں صریحاً باطل ہے اور اس پر وہ مصرع صادق آتا ہے کہ "من تراحاجی بگویم الخ" ہادی النظر میں یہ اعتراض کتنا ہی پرکشش اور جاندار سہی لیکن حقیقت میں ایک مغالطہ ہے۔اس لئے کہ قرآن مجید سے قطع نظر نبوت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کے لیے موجود تھیں۔جن میں پہلی تو یہ تھی کہ پچھلی مقدس کتابوں میں آپ کے کے شکل و شمائل،اسماء و اوصاف آصف اور کسی قدر حالات میں بیان کر دیئے گئے تھے اور وہ اتنے کافی تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے کے لیے ان کے علاوہ مزید کسی نص کی ضرورت نہ تھی۔دوسری دلیل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات تھے جو اس کثرت سے ظاہر ہوئے کہ لوگوں نے آپ کو نعوذ باللہ جادوگر اور کاہن وغیرہ کہنا شروع کیا۔یہ سارے معجزہ انفرادی اور اجتماعی طور پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کی نبوت کے براہین قاطعہ تھے۔ان کے ہوتے ہوئے مزید کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں تھی۔اس گفتگو سے یہ بات واضح ہوگئی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سلم کی نبوت قرآن پر موقوف نہیں ہے ہے بلکہ نصوص و معجزات کی روشنی میں ثابت ہے۔اب یہ دیکھنا ہے کہ قرآن مجید کا کتاب الہٰی ہونا فقط قول رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت کیا؟اور کیا اس کے لئے کوئی اور دلیل موجود نہیں ہے؟یہ بات اظہر من الشمس ہے ہے کہ قرآن کے چیلنج کے مقابل کسی طرف سے کوئی سنجیدہ کوشش جواب لانے کی نہیں کی گئی۔نہ عہد نزول قرآن میں میں اور نہ اس کے بعد سے اب تک۔یہ ہو دلیل قاطع ہے کہ قرآن مجید ایک الہی معجزہ اور الہی کتاب ہے،جسے کسی تصدیق قول کی ضرورت نہیں ہے۔اس تناظر میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت اور قرآن مجید وجود خدا کی دو مستقل بالذات دلیلیں ہیں،یہ دونوں اللہ کی طرف سے ہادی ہیں اور بندوں پر اللہ کا تمام حجت ہے، ایک دوسرے پر موقوف نہیں ہیں۔یہ خدا وندعالم کا لطف اس ہے کہ اپنی کتاب میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بار بار تذکرہ فرماکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کی ایک مستقل دلیل بنا دیا ہے اور سب تذکروں کی حیثیت تائیدی اولہ کی ہے۔
تبصرے