اسلام ایک اجتماعی اور معاشرتی دین ہےاور اسلام کے ماننے والے صرف رضائے خدا کے لئے اس کی راہ میں آگے بڑھتے ہوئے ایک دوسرے سے تعلقات اور رواب...
اسلام ایک اجتماعی اور معاشرتی دین ہےاور اسلام کے ماننے والے صرف رضائے خدا کے لئے اس کی راہ میں آگے بڑھتے ہوئے ایک دوسرے سے تعلقات اور روابط رکھتے ہیں۔
اسلام نے ہمیں معاشرہ اور سماج میں زندگی بسر کرنے کے اصول بتائے ہیں تاکہ ان کی معرفت کے بعد ان پر عمل کر کے ہم خوشنودی خدا حاصل کر سکیں اور اس کے نتیجہ میں دنیا و آخرت کی سعادت سے ہمکنار ہو جائیں۔
چنانچہ اگر ہم دوسروں کے بارے میں اپنے فرائض واجبات ادا کرنا چاہتے ہیں تو اس سے پہلے دوسروں کی ان تمام حقوق کا جاننا ضروری ہے جو ہمارے گردن پر ہیں۔
1۔والدین کے ساتھ نیک برتاؤ:
اسلام میں اولاد پر والدین کا سب سے اہم اور واجب حق قرار دیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ خداوند عالم نے والدین سے حسن سلوک اور اپنی عبادت کا حکم ایک ساتھ دیا ہے۔
جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
"اور آپ کے پروردگار کا فیصلہ ہے کہ تم سب کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا اور اگر تمہارے سامنے ان دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بوڑھے ہو جائیں تو خبردار ان سے اف بھی نہ کہنا اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان سے ہمیشہ شریفانہ گفتگو کرتے رہنا اور ان کے لیے خاکساری کے ساتھ اپنے کاندھوں کو جھکا دینا اور ان کے حق میں دعا کرتے رہنا کہ پروردگار ان دونوں پر اسی طرح رحمت نازل فرما جس طرح انہوں نے بچپن میں مجھے پالا ہے۔"
امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا:
"ماں کا یہ حق ہے کہ تم یہ یاد رکھو کہ اس نے تمہارے بوجھ کو (اپنے شکم) میں اتنے دن تک اٹھایا ہے جس کو کوئی دوسرا نہیں اٹھا سکتا اور اس نے تو اپنا خون دل پلایا ہے اور ایسی غذا دی ہے جو دنیا میں کوئی نہیں دے سکتا اور اس نے اپنے کان، آنکھ،ہاتھ،پیر،بال اور کھال بلکہ اپنے پورے وجود کی تمام تر توانائیوں کے ساتھ بخوبی ہنستے اور مسکراتے ہوئے اپنی تمام ناگواری میں مشکلات کے ہر بوجھ کو باآسانی اٹھا لیا..... یہاں تک کہ دستے کو درد نہیں تم کو اس کے وجود سے جدا کردیا کیا اور تمہارے قدم زنی پر پہنچ گئے(تم پیدا ہوگئے)پھر بھی وہ اس پر خوش اور راضی رہی کہ چاہے خود بھوکی رہے مگر تم کو سیر کرتی رہے اور تم کو لباس پہنائے چاہے خود بے لباس رہنا پڑے تمہیں سیراب کرے چاہے خود پیاسی رہے خود دھوپ برداشت کر لے مگر تمہیں اپنے سائے میں رکھے اور خود زحمتیں برداشت کرکے تمہیں نعمتوں سے سرشار کر دے اور بیدار رہ کر تمہیں خواب شیریں کے موقع فراہم کردے اس کا شکم تمہاری خلقت کا ظرف اس کی گود تمہارا گہوارا اور اس کا سینہ تمہیں سیراب کرنے والا چشمہ اور اس کا پورا وجود تمہارا محافظ تھا اس نے تمہارے لئے دنیا کی ہر سردی اور گرمی کو براہ راست اپنے اوپر سہہ لیا ہے لہذا تم اس مقدار میں اس کا شکریہ ادا کرو اور یہ تمہارے لیے ناممکن ہے مگر یہ کہ خدا وند عالم کی توفیق اور امداد کے سہارے۔"
اس کے بعد امام زین العابدین علیہ السلام نے باپ کے حق کا یہ فلسفہ بیان کیاہے:
"اور اپنے باپ کے حق کے بارے میں تمہیں یاد رہے کہ وہ تمہاری اصل اور بنیاد ہے اور تم اس کی شاخ ہو،اگر وہ نہ ہوتا تو تمہارا وجود بھی نہ ہوتا لہٰذا اپنے اندر اگر کوئی ایسی نعمت نظر آئے جو تمہیں اچھی لگے آگے تو دھیان رکھنا کہ تمہارا باپ ہی ان نعمتوں کی اصل بنیاد ہے لہٰذا حمد خدا کرو اور ان نعمتوں کے برابر اس کا شکریہ ادا کرو۔"
امام زین العابدین علیہ السلام نے ماں کی مہربانیوں کی جو نقشہ کشی فرمائی ہے اس سے ماں کی مامتا بلکل مجسم ہو کر ہمارے سامنے آ جاتی ہے جو کہ رحمت الہیہ کا نمونہ ہے کیونکہ اغوش مدر جس لطف و محبت اور مامتا سے معمور ہوتی ہے اس کا اعتراف ہمارے لئے ناممکن ہے۔
(2) بداخلاقی سے پرہیز:
کسی ناگوار بات میں انسان کا سب سے معمولی ردعمل یہ ہوتا ہے کہ اس کی زبان سے اف نکل جاتا ہے اور آف وہ آ واز ہے جو کسی معمولی افسوس کے لمحات میں انسان کی زبان پر آ جاتی ہے خداوندعالم کو اتنا معمولی اظہار شکوہ بھی والدین کے بارے میں برداشت نہیں ہے اس لیے اس نے مومنین کو اف کرنے سے منع فرمایا ہے جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
"تو خبردار ان سے اف بھی نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا بھی نہیں۔"
امام جعفر صادق علیہ السلام کا فرمان ہے:
"اگر عاق ہونے کے لئے سب سے معمولی چیز آف کہنا ہے اور اگر خداوند عالم کی نظر میں کوئی اور چیز اس سے حقیر اور معمولی ہوتی تو اس سے بھی منع فرما دیتا۔"
اس بات سے ظاہر ہوتا ہے جب پہلے مرحلہ میں اف کرنے سے منع کر دیا گیا ہے تو اگر کوئی نہیں برا کہے یا بلند آواز سے ان سے بات کریں یا انہیں جھڑک دے تو اس کا کیا حال ہوگا؟کیوں کہ اف کہنا گناہ کبیرہ ہے۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
"خدا کے نزدیک قیامت کے دن گناہان کبیرہ میں بھی سب سے بڑے گناہان کبیرہ ہیں: شرک باللہ،ناحق کسی مومن کو قتل کرنا،میدان جہاد سے فرار ہونا اور والدین کا عاق ہونا۔"
عاق ہونے کا مسئلہ اس وقت اور حساس مرحلہ میں پہنچ جاتا ہے کہ جب والدین نے اپنی اولاد کے اوپر ظلم کیا ہو اس کے باوجود بھی شریعت کا مطالبہ یہی ہے کہ اپنے والدین کی طرف خصہ بھری نظریں نہ اٹھائے اور نہ وہ بھی عاق شمار ہوگا۔
عاق ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ والدین مسلمان ہی ہوں بلکہ اس حکم کے اندر غیر مسلم والدین بھی شامل ہیں کیونکہ اسلام میں والدین کے حقوق،عاق ہونے کے ممانعت اور وہ واجبات جن کی ادائیگی کے لیے والدین کے ساتھ حسن سلوک کو عملی شکل ملتی ہے یہ سب احکام اس صورت میں بھی اسی قوت اور مضبوطی کے ساتھ باقی ہیں اور ایک مسلمان بیٹے کے لیے شرک کے علاوہ دیگر چیزوں میں والدین کی اطاعت کا حکم کفر کی صورت میں باقی رہتا ہے۔
جناب زکریا بن ابراہیم عیسائی تھے اور بعد میں امام جعفر صادق علیہ السلام کے دست مبارک پر مشرف بہ اسلام ہوئے ایک دن جناب زکریا نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کیا کہ میرے والدین عیسائی ہیں میری والدہ نابینا ہیں اور میں اپنے گھر والوں کے ساتھ رہتا ہوں اور ان کے برتنوں میں ان کا کھانا کھاتا ہوں اس کا حکم کیا ہے؟
امام علیہ السلام نے سوال فرمایا کیا وہ سور کا گوشت کھاتے ہیں؟
جناب زکریا نے عرض کی اے مولا ہرگز نہیں کھاتے تو امام علیہ السلام نے فرمایا:
"ان کے ساتھ کھاؤ اور جتنا ممکن ہو اپنی والدہ کے ساتھ ایک برتاؤ کرنا۔"
چنانچہ جناب زکریا کوفہ واپس آئے اور اپنی والدہ کی اچھی طرح خاطرمدارت کرنے لگے انہیں اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاتے،خود ہی ان کے کپڑے دھوتے اور ان کی صفائی کا خیال رکھتے تھے مجھے جس کو ان کو بہت تعجب ہوا تو انہوں نے ایک دن ان سے یہ پوچھا کہ اے بیٹا جب تم ہمارے مذہب پر تھے تو میرے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرتے تھے اور اب تو تم مجھ سے کچھ زیادہ ہی محبت اور نیک برتاؤ کے ساتھ پیش آ رہے ہو؟ تو جناب زکریا نے اپنے والدہ سے کہا کہ اسلامی ادب اور اخلاق یہی ہے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد میں سے ایک شخص نے مجھے اس کی ہدایت دی ہے ان کی والدہ نے کہا بیٹا کیا وہ نبی ہیں؟ جناب زکریا نے جواب دیا نہیں! بلکہ وہ نبی کی اولاد میں سے ہیں تو ان کی والدہ نے جواب دیا مگر یہ تو انبیاء کی ہدایت اور گفتگو محسوس ہوتی ہے۔
جناب زکریا نے جواب دیا وہ نبی نہیں ہیں بلکہ نبی کی اولاد میں سے ہیں اور امام ہیں تو میری والدہ نے بے ساختہ کہا،اے میرے لال،اے زکریا تم اسی دین کے پابند رہنا کیونکہ سب سے بہتر دین یہی ہے ان کی ماں نے کہا بیٹا ذرا اپنا مذہب مجھے بھی سکھا دو تو جناب زکریہ نے اسلامی عقائد و تعلیمات کو ان کے سامنے بیان کر دیا اور وہ اسی وقت مسلمان ہو گئیں انہوں نے نماز پڑھنا سیکھی جب نماز ظہر کا وقت آیا تو نماز ظہر ادا کی پھر عصر کی نماز ادا کی سورج غروب ہو جانے کے بعد مغرب کی نماز پڑھی اور پھر عشاء کی نماز ادا کی۔
مشیت خدا کے اسی رات انہوں نے دنیا سے انتقال فرمایا اور اپنی جان کا نذرانہ بارگاہ الہی میں پیش کردیا اور ایک مسلمہ اور مومنہ کی صورت میں دنیا سے گئیں سب مسلمان ان کے تشییع جنازہ میں شامل ہوئے اور احترام کے ساتھ اسلامی احکام کے مطابق انہیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔
(3) شفقت اور نرمی:
امام جعفر صادق علیہ السلام نے والدین کے حقوق کے بارے میں یوں فرمایا:
"جب بھی تم ان کی طرف دیکھو تو تمہاری آنکھیں رحمت اور شفقت و نرمی سے پر ہوں اور ان کی آواز پر اپنی آواز اور ان کے ہاتھ کی اوپر اپنا ہاتھ بلند نہ کرو اور ان کے آگے نہ چلو۔"
پھر آپ نے آیت کریمہ کی وضاحت میں فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ تم کو ماریں تو ان سے کہو"پروردگار آپ کے گناہوں کی مغفرت فرمائے۔"
خلاصہ:
اسلام ایک اجتماعی اور معاشرتی دین ہے جس کے ماننے والے صرف رضائے الہی کے لیے ایک دوسرے سے تعلقات اور روابط رکھتے ہیں لہذا ہماری بھی یہی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے اوپر دوسروں کے واجب حقوق کو پہچانے تاکہ ان کو باآسانی ادا کرنے میں ہمیں مدد مل سکے۔
انہیں حقوق میں والدین کے حقوق بھی ہیں جن کو خداوندعالم نے اپنے اطاعت کے ساتھ بیان فرمایا ہے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی والدین کے ساتھ نیک برتاؤ کو سب سے اہم فریضہ قرار دیا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ:
"وہ تمہاری جنت اور دوزخ ہیں۔"
لہٰذا ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ والدین کے ساتھ ہمیشہ اچھا سلوک کریں چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم۔
تبصرے